مانگا منڈی ‘65سالہ مقتول کی لاش ملتان روڈپر رکھ کر زبردست احتجاج

مانگا منڈی ‘65سالہ مقتول کی لاش ملتان روڈپر رکھ کر زبردست احتجاج

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مانگا منڈی (نمائندہ خصوصی)اہلِ چاہ تمولی نے مانگا منڈی تھا نہ پولیس کے خلاف مقتول کی لاش ملتان روڈسڑک پر رکھ کر زبردست احتجاج۔ ٹائر جلاکر ملتان روڈ تقریباً 3 گھنٹے تک سینکڑوں افراد نے جن میں بچے ،نوجوان ،بوڑھے،خواتین نے سینہ کوبی کرکے ملتان روڈ کو3 گھنٹے کیلئے بند رکھا ۔اے ایس پی چوہنگ عرفان اور ڈی ایس پی ٹاون شپ عاطف کی یقین دہانی پر تین گھنٹے بعد احتجاج کرنے والے اور متقول کے لواحقین لاش اُٹھا کر گاؤں لے گئے اور احتجاج ختم کر دیا ۔تفصیلات کے مطابق بروز اتوار کو تقریباًصبح 9بجے کے قریب ایک مرلہ پلاٹ کے تنارع پر جٹ برداری کے ندیم شوکت ،علی وغیرہ نے فائرنگ کرکے 65سالہ ملک محمد حسین کو اس کی بچی ظہراں بی بی اور 2نواسوں کے سامنے اندھا دھند فائرنگ کرکے قتل کر دیا ۔تھانہ مانگا منڈی پولیس نے بغیر ورثاء کے لاش کو فوری طور پر اُٹھا کر لاہور جناح ہسپتال لاہور پہنچا دیا ۔آج ان کے ورثاء پوسٹ مارٹم کروا کر ملک محمد حسین کی لاش کو اپنے گاؤں چاہ تمولی لا رہے تھے لاش آنے سے قبل ہی پورا گاؤں سینکڑوں کی تعداد میں ملتان روڈ پر آگئے۔ اور متقول کی لاش کو سڑک پر رکھ کر پولیس کیخلاف نعرہ بازی شروع کر دی بھتیجے محمد اشرف،بھائی برکت علی اور سینکڑوں افراد نے تھانہ مانگا منڈی کے انچارج عطاء اللہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ہمارے کہنے پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا اپنی مرضی سے عطاء اللہ نے درخواست لکھوا کر 3ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا جو ہمارے بھائی کو قتل کرنے والے اصل ملزمان ہیں ان کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے اور ملک محمد حسین کو قتل ہوئے تقریباً30گھنٹے گزر چکے ہیں پولیس نے کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا ۔احتجاج کرنے والے مرد ،خواتین،بچے،بوڑھے نے نعرہ بازی کرتے ہوئے الزام عائد کیا کے ملک محمد حسین کو قتل کروانے میں تھانہ مانگا منڈی پولیس شامل ہے ۔اے ایس پی عرفان اور ڈی ایس پی ٹاون شپ عاطف نے متقول ملک محمد حسین کے لواحقین کو تمام مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی کروائی اور کہاکہ انکوئری کرکے انور شہزاد کو بھی سزا دی جائے گی تھانے کے کسی بھی ملازم یا انچارج عطاء اللہ کے خلاف کوئی بھی ثبوت سامنے آگیا تو ان کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ اور ایف آئی آر میں درج ملزمان کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے 24گھنٹے کے اندر گرفتار کیا جائے گا جس کے بعد ورثاء نے احتجاج ختم کرکے لاش کو اپنے گاؤں چاہ تمولی دفنانے کیلئے لے گئے ۔
65سالہ مقتول

مزید :

صفحہ آخر -