کافی دنوں کی غیر حاضری کے بعد

کافی دنوں کی غیر حاضری کے بعد
 کافی دنوں کی غیر حاضری کے بعد

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کافی دن کی غیر حاضری پر قارئین سے معذرت۔ لیکن کیا کرتا ۔ میں ملک کے ایسے حصے میں تھا ۔ جہاں نہ تو اخبار آتے تھے اور نہ ہی بجلی کہ حالات سے با خبر رہا جا سکتا۔ سارا دن گزر جا تا اور کسی بریکنگ نیوز کا علم ہی نہیں ہو تا تھا۔ ایسا لگنے لگا کہ ملک میں بہت سکون ہے۔ اور کوئی خرابی نہیں۔ یہ مجھے نا ران پہنچ کر اندازہ ہوا کہ میں خبروں کا کس قدر عادی ہو چکا ہوں کہ بغیر خبر کے دن نا مکمل لگتا تھا۔ شام ہو جاتی اور کوئی خبر نہ ہوتی ۔


بجٹ کا سیزن ہے۔ اس لئے میں نے لوگوں کے ساتھ بجٹ پر ہی بات کر کے دل کی تسکین حاصل کی ۔ کیونکہ بجٹ پر بجٹ آرہا تھا۔ میں نے وہاں بہت جاننے کی کوشش کی کہ لوگوں کے بجٹ کے بارے میں کیا خیال ہیں۔ انہیں کس صوبے کا بجٹ پسند آیا ہے۔ مگر کسی کو بجٹ سے کوئی سرو کار ہی نہیں تھا۔ میں نے مرکزی بجٹ کے بارے میں بھی لوگوں سے جاننے کی کوشش کی ۔ لیکن لوگوں کو اس سے بھی کوئی سروکار نہیں تھا۔ مجھے نا ران اس لئے بھی پسند آیا کہ وہاں کوئی قومی اخبار نہیں پہنچتا۔ بجلی بھی چند گھنٹوں کے لئے آتی ہے۔ سارا دن ملک میں کیا ہوا۔ آپ کو اس کا علم ہی نہیں ہو تا۔


یہ بات بھی لاہور آکر معلوم ہوئی کہ وزیر اعظم نے کراچی میں ہڑتالوں کے خلاف بیان دیا۔ اور ایم کیو ایم نے اگلے ہی دن کراچی میں کامیاب ہڑتال کر کے نقد جواب دے دیا۔ مجھے سندھ کے وزیر خزانہ کی یہ بات بھی پسند آئی ہے کہ انہیں نہیں معلوم کہ ایم کیو ایم نے کیوں ہڑتال کی ہے۔ بات تو ٹھیک ہے کہ پیپلز پارٹی گزشتہ سات سال سے کم و بیش اسی قسم کے بجٹ پیش کر رہی ہے۔ اکثریت میں ایم کیو ایم شامل اقتدار تھی اور بجٹ پیش ہونے کے وقت ساتھ ڈیسک بجا رہی تھی۔ پھر اسی سال اعتراض کیوں۔ لیکن ایک دوست نے کراچی میں ایم کیو ایم کی ہڑتال پر خوبصورت تبصرہ کیا ہے۔ اس کے مطابق جس طرح ہندو مسلم فسادات میں سکھ مارے جاتے ہیں۔ اسی طرح میاں نواز شریف اور ایم کیو ایم کے درمیان سندھ حکومت اور اس کا بجٹ مارا گیا ہے۔ بہر حال ایم کیو ایم کی حالت بھی ایسے بچے کی ہے جسے جس کام سے منع کیا جائے اس نے وہ ضرور کرنا ہو تا ہے۔ اس لئے اگر وزیر اعظم یہ بیان دیتے کہ ایم کیوء ایم کو ہڑتالیں ضرور کرنی چاہیں تو شاید ایم کیو ایم ہڑتال نہ کرنے کا اعلان کر دیتی۔ اس کے ساتھ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے یہ بھی کہہ دیا کہ میں نے گورنر سے کہا ہے کہ وہ ہڑتالیں روکنے کا بندو بست کریں۔ اب گورنر تو ایم کیو ایم کی چھیڑ ہے۔ اور تو اور قائد ایم کیو ایم نے فورا گورنر کے خلاف بیان داغ دیا ۔ اس لئے گورنر کو نیچا دکھانے کے لئے ہرٹال تو بنتی تھی۔ ورنہ لگتا کہ گورنر کا واقعی اثر ہے۔


ضرب عضب کو جہاں ایک سال مکمل ہو گیا ہے وہاں بلوچستان میں بلوچ قوم پرستوں نے ہتھیار ڈالنے شروع کر دئے ہیں۔ یہ بھی ضرب عضب کے ہی ثمرات ہیں کہ لوگ پہاڑوں سے واپس آرہے ہیں۔ لیکن ایک سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ضرب عضب نے جہاں اپنے اہداف حاصل کئے ہیں وہاں اس نے طوالت بھی پکڑی ہے۔ دہشت گردوں نے اندازے سے زیادہ مزاحمت کی ہے۔ جو کسی بھی بیرونی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ ایک سال مکمل ہونے پر بہادر فوجیوں کو جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ لیکن جس جس طرح پاک فوج کو ضرب عضب میں کامیابیاں مل رہی ہیں اس اس طرح بھارت حواس باختہ ہوتا جا رہا ہے۔ بھارتی قیادت جو کر رہی ہے۔ وہ سمجھ نہیں آرہا۔ لیکن سمجھ آبھی رہا کہ جب دشمن کو نظر آئے کہ اس کی بچھائی ہوئی بساط الٹ گئی ہے تو ایسا ہی رویہ سامنے آتا ہے۔ اس میں کوئی خاص پریشانی والی بات نہیں۔


پاکستان کے سفارتکاروں نے یہ مشورہ حکومت کو ٹھیک دیا ہے کہ بھارت پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔ جس جس طرح ہم اپنا گھر ٹھیک کر لیں گے اس اس طرح بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہو تا جائے گا۔اس ضمن میں پاک بھارت جو لفظوں کی جنگ شروع ہے یہ بھی غیر ضروری ہے۔ پاکستان کی قیادت کو اس وقت اس کا جواب بھی نہیں دینا چاہئے۔ اس سے بھی بھارت کا مقصد پورا ہو تا ہے۔ چپ کر کے اپنا کام کرنا چاہئے۔جس جس طرح پاکستان کے اندر دہشت گردی کا خاتمہ ہو گا۔ پاک چین راہداری کے ثمرات عوام تک آئیں گے۔ توانائی کی کمی ختم ہو گی۔بھارت اور حواس باختہ ہوگا۔ ہمیں اس کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ کیونکہ یہ تو ہو گا ۔

مزید :

کالم -