سکول اور بچوں کی تخلیقی صلاحیت, الٹے سیدھے سوالات کی وجہ سامنے آگئی

سکول اور بچوں کی تخلیقی صلاحیت, الٹے سیدھے سوالات کی وجہ سامنے آگئی
 سکول اور بچوں کی تخلیقی صلاحیت, الٹے سیدھے سوالات کی وجہ سامنے آگئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ناصر محمود اعوان
ابتدائی عمر کے بچے میں تخلیقی جوہر حیران کن طور پر متحرک ہوتا ہے۔
بچہ آڑی ترچھی لکیریں کھینچتا ہے۔ آپ پوچھتے ہیں ”یہ کیا ہے؟“۔ وہ بتاتا ہے ”یہ تصویر ہے“ آپ سوال کرتے ہیں ”کس چیز کی؟“ وہ جواب دیتا ہے :”درخت، پرندے ،تتلی، انسان یا فلاں شے کی“۔ آپ بے اختیار مسکرادیتے ہیں۔
آپ کاغذ پر کوئی لکیر کھینچتے ہیں وہ اس لکیر کی مشابہت درخت کی ٹہنی، اپنی گاڑی کے پرزے، لکھنے والی پنسل میں تلاش کرتا ہے ۔
آپ بچے کو چاند میں بیٹھی چرخہ کاتنے والی بڑھیا کی کہانی سناتے ہیں۔ وہ ا ڑ کر بڑھیا کے پاس جا پہنچتا ہے۔ اس کے تخیل(Imagination) پر کوئی روک اور قدغن نہیں ہوتی۔ وہ اپنے کھلونوں سے باتیں کرتا ہے۔ انھیں کہانی سناتا ہے، اس کہانی کے کردار اور اس کا پلاٹ وہ خود تخلیق کرتا ہے۔ وہ کوئی مسئلہ دیکھتا ہے تو اس مسئلے کا معصومانہ سا حل تلاش کرتا ہے۔
وہ دنیا کی ہر شے کو تازہ نظر سے دیکھتا ہے ۔ پرندہ کیوں اڑ رہا ہے؟ چھت پر پنکھا کیسے لگ گیا؟چلتی گاڑی کے ساتھ درخت پیچھے کیوں بھاگتے ہیں ؟ یہ بادل کیا ہیں ؟ بجلی کیوں چمکتی ہے ؟ بارش کہاں سے آتی ہے ؟ وہ سولات پوچھتا بھی ہے اور اپنے زور تخیل سے ان کے جوابات تخلیق بھی کر تا ہے ۔
آڑھی ترچھی لکیریں کھینچنا، الٹی سیدھی کہانیاں سنانا، مسائل کے معصومانہ حل تلاش کرتا اور اپنے تئیں سوالات کے جوابات ڈھونڈنا دراصل بچے کی تخلیقی صلاحیتوں کے مختلف پیرایہ اظہار ہیں۔ اور یہ دائرہ فہم (Cognitive Domain) کے وہ اعلیٰ ترین درجے ہیں جو اطلاق (Application) , تجزیے(Analysis) اور جانچ(Evaluation) کے اگلے مرحلے پر آتے ہیں۔
لیکن بچہ جوں جوں بڑا ہونے لگتا ہے ایک نیا انسان نمودار ہونے لگتا ہے ایسا انسان جس میں ابتدائے بچپن کی وہ جستجو ہے ، تحقیق ہے اور نہ تخلیق ۔ آپ حیران ہوتے ہیں اور حیران ہو کر سوچنے لگتے ہیں کہ وہ بچہ کہاں چلا گیا ۔ جو سوال کر تا تھا ، جو چیزوں کے ہونے اور نہ ہونے کا استدلال تلاش کرتا تھا ؟ وہ معصوم سا مصور ، وہ کہانی کار اور وہ تخلیق کار۔
آپ عمل تخلیق کی اہمیت سے واقف ہیں اس لیے آپ افسوس کرتے ہیں کہ کاش بچے کی اس تخلیقی صلاحیت کوزندہ رکھا جاتا، اس کی تہذیب کی جاتی اور اسے پروان چڑھایا جاتا تو یہی بچہ بڑا ہو کر بلا کا تخلیق کار بن جاتا۔ شایدکوئی بڑا موجد، عظیم فلسفی ، قابل لکھاری، ماہرریاضی دان اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک کامیاب انسان جو تیزی سے بدلتی دنیا کے تقاضوں سے عہدہ برا ہوسکے۔
ایسا کیوں ہوتا ہے؟ بچے کی ایک تخلیق کار سے ایک غیر تخلیق کار میں کس طرح کایا کلپ ہوتی ہے؟
اس کا مختصراً جواب تو آپ کو سر کین روبنسن Robinson) (Sir Ken کی تقریر کے عنوان سے ہوجائے گا جو ان کی ویب سائٹ پر ”سکول بچے کی تخلیقی صلاحیت کو کیسے قتل کردیتے ہیں؟ “ کے نام سے موجود ہے اور جسے اب تک 38 ملین سے زائد لوگ سن چکے ہیں۔
روبنسن ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ ہمارے سکول ہیں جو ہمارے بچے کے اندر تخلیق کو ختم کردیتے ہیں ۔ ان کا اس بات پر پختہ یقین ہے کہ دنیا بھر میں تعلیم اور تخلیق کا باہمی تعلق ختم ہو چکا ہے۔ بچوں کو عمل تخلیق سے الگ رکھ کر تعلیم یافتہ بنایا جاتا ہے ۔ ہ وہ دی گئی حدود سے باہر (Out of Box ) جا کر سوچنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ان کے خیال کے مطابق چونکہ دنیا ہمہ جہت تبدیلیوں کی زد میں ہے اس لیے تخلیق (Creativity)اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ خواندگی(Literacy)۔
لیکن ہمارے سکولوں میں ہوتا کیا ہے ؟ ان میں ”تخلیق “ مقام کیا ہے؟ آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں ۔
سب سے پہلے جودرسی کتب سکول میں پڑھائی جاتی ہیں ۔ان کا سکوپ عمل تخلیق کے لیے قطعاً سازگار نہیں ۔ وہی لگا بندھا لوازمہ (Content) اور وہی گھسی پٹی سرگرمیاں اور مشقیں ۔ کتب کی تشکیل و تدوین سے لے کر ان کی درس وتدریس تک ، کسی قسم کی اپج کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ کتاب کی تصنیف دیے گئے تحریری مقاصد (Objectives) اور نصابی خاکے کے معیارات (Standards) کے مطابق کی جاتی ہے ۔ اس طرح اسباق کی تدریس طے شدہ اور لگے بندھے سبقی منصوبے (Lesson Plan) کے دائرے میں رہ کر جاتی ہے ۔ یہ مقاصد، معیارات اور منصوبے اتنے بے لچک ہوتے ہیں کہ تخلیق کے امکانات تقریباً معدوم ہوجاتے ہیں ۔ نتیجتاً تعلیم و تعلم میںکہیں ندرت دکھائی نہیں دیتی۔ عملاً بچے کے سامنے غیر تخلیقی اور غیر دلچسپ مضامین کا ایک طومار ہوتا ہے۔ یہی مضامین اس کی تخلیقی جوہر کوچاٹ جاتے ہیں۔ بھلا ایک ناگوار مضمون میں کوئی تخلیق دکھائے بھی تو کس طرح؟
پھر سکول کا پیٹرن ایسا ہوتا ہے کہ تخلیق اساتذہ کی ترجیح ہو ہی نہیں سکتی ۔ وہ بچوں کی کارکردگی کے لیے سکول انتظامیہ کو جواب دہ ہوتے ہیں۔ اور اس کارکردگی کا پیمانہ نمبر اور گریڈ ہوتے ہیںتخلیق نہیں۔نمبروں اور گریڈ کے لیے بچے کو کتابوں، گائیڈوں ، نوٹس ، تدریسی معاونات اور ہدایات کی حدود میں قید کر دیا جاتا ہے۔ ان سے باہر نکلنے اور دیکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ان حدود سے باہر خیالات کی کوئی پذیرائی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات تو صورت حال اس حد تک بد تر ہوتی ہے کہ بچوں کو تصورات اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی۔
بالفرض کوئی سکول اور اساتذہ بچوں کی تخلیقی صلاحیت کی نشوونما اور حفاظت کا اہتمام کر بھی لے تو نظام امتحانات اور طریقہ امتحانات اس کاوش کو غارت کر دے گا۔ ہمارے نظام امتحانات میں وہی کامیاب ہوتا ہے جو رٹے میں مہارت رکھتا ہے نہ کہ وہ جو تخلیقی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہمارے امتحانات میں تخلیقی صلاحیت کی جانچ کا کوئی پیمانہ نہیں۔
دیکھا جائے تو تعلیم کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈر (Stakeholders) بچے ہیں ۔ لیکن سب سے زیادہ نظرانداز بھی بچے ہی ہیں ۔ ان کے میلانات ، رجحانات اور مزاج کا قطعاً خیال نہیں رکھا جاتا۔ ایک تیز اور شرارتی بچے کے لیے سکول کا دامن بہت تنگ ہوتا ہے۔ اس طرح ایک سست رو بچے کو بھی یہ نظام قبول نہیں کرتا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارا سسٹم بچوں کو ذہین اور غیر ذہین کے خانوں میں تقسیم کرکے ان کے ساتھ ظلم کرتا ہے۔ روبنسن ذہانت کی اس تعریف کو محدود اور سطحی قرار دیتا ہے۔ جس کے مطابق پڑھنے لکھنے اور ریاضی میں مہارت رکھنے والے بچے کو تو ذہین خطاب مل جاتا ہے۔ لیکن جو لکھنے، پڑھنے میں ذرا کمزور ہو اور دیگر مضامین میں کوئی قابلیت رکھتا ہواسے کند ذہن قرار دیا جاتا ہے ۔ اس کی ایک مثال ڈسلیکسیا (Dyslexia) کے شکاربچے ہیں جن کا دماغ کسی مسئلے (Disorder) کی وجہ سے کسی بھی زبان کے حروف پڑھنے اور لکھنے اور چیزوں کے مشاہدے کو عام بچوں کی طرح بروئے کار لانے میں ناکام رہتا ہے ۔ اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ ایسے بچے کند ذہن ہوتے ہیں ۔ وہ کسی اور شعبے جیسے آرٹ وغیرہ میں غیر معمولی کارکردگی دکھا سکتے ہیں ۔یہاں اس بات تذکرہ یقینا دلچسپی کا باعث ہوگا کہ اسی موضوع پر بالی وڈ کی مشہور زمانہ ڈرامہ فلم ”تارے زمین پر“ بنائی گئی تھی۔ جس نے بہت زیادہ پذیرائی حاصل کی تھی۔
ڈاکٹر روبنسن ہی نہیں اور بہت سے ماہرین سکول میں بچوں کی تخلیقی صلاحیت کے ساتھ ہونے والے ظلم پر شور مچا رہے ہیں۔ ڈاکٹر کیونگ ہی کم (Kyung Hee Kim) امریکا کے ولیم اور میری کالج(College of William and Mary) میں پروفیسر ہیں۔ اس سے پہلے وہ مشرقی مشی گان یونیورسٹی(Eastern Michigan Universit) اور یونیورسٹی آف جارجیا (University of Georgia)میں پڑھاتی رہی ہیں۔ ڈاکٹر کم کے 70 سے زائد تحقیقی مقالے شائع ہوچکے ہیں۔ 2010 میں نیوز ویک میں اس کی تحقیق ”تخلیقی بحران“ (The Creativity Crisis )نے دنیا بھر میںبحث کا ایک موضوع چھیڑ دیا۔ انھوں نے اپنی تحقیق میں یہ ثابت کیا کہ 1990 ءسے اب تک بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں زوال کا شکار ہوئی ہیں۔
ایسا کیوں ہورہا ہے؟ اس کے مختلف جواب ہوسکتے ہیں لیکن سر روبنسن موجودہ ماڈل سکول سسٹم کو اس کی وجہ قرار دیتے ہیں جو صنعتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا اور جس کا ا انیسیوں صدی سے پہلے کوئی وجود نہ تھا۔ موجودہ ماڈل سکول سسٹم میں ان مضامین کا پڑھنا آپ کی مجبوری ہے جن کو پڑھ کر آپ صنعتی میدان میں کھپ سکیں۔سکول میں آپ وہ مضامین نہیں پڑھ سکتے جن کو پڑھ کر آپ لطف اٹھا سکتے ہیں کیونکہ اس طرح آپ کو کوئی ملازمت نہیں ملے گی۔ جن شعبہ ہائے زندگی میںآپ کمالات دکھا سکتے ہیں ان کی مارکیٹ میں کوئی قیمت نہیں۔
اسی بنیاد پر سر روبنسن کہتے ہیں کہ موجودہ نظام ہمیں ایک اچھا کارکن (Worker)تو بنا رہا ہے لیکن ایک اچھا تخلیق کار اور سوچنے والا نہیں۔ ہم بچوں کو اس نظام کا حصہ بننے پر مجبور کر دیتے ہیں جو ہمارے معاشرے پر حکومت کررہا ہے۔ ایسا نظام جو یک رنگا (uniform)، اتھارٹی کی عزت کرنے والا اور غلطیوں کرنے سے ڈرنے والاہے۔
اگر آپ غلطیاں کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے تو تو آپ کوئی نئی چیز نہیں بنا سکیں گے۔ روبنسن اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ بچے اس لیے تخلیق کار ہوتے ہیں کیونکہ وہ غلطیاں کرتے ہوئے ڈرتے نہیں ۔ اگر وہ کسی بات کو نہیں جانتے تو وہ موقع حاصل کر کے جاننے کو کوشش کرتے ہیں۔ لیکن جب بچے بڑے ہوجاتے ہیں تو وہ اپنی یہ صلاحیت (Capacity) ختم کربیٹھتے ہیں۔ وہ غلطیاں کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ ہم کمپنیاں اسی طرح چلاتے ہیں جہاں غلطی کو بہت ہی بھیانک سمجھا جاتا ہے ۔ ہم اپنے تعلیمی نظام کو بھی اسی طرح چلارہے ہیں جہاں غلطی اور ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں ۔ بچوں میں ناکامی کا سامنا کرنے اور ان سے سبق حاصل کرنے کی بجائے ان میں فرسٹریشن پیداکر دی جاتی ہے۔
روبنسن سکولوں پر تنقید نہیں کرتا بلکہ وہ اس سسٹم پر تنقید کرتا ہے جو دنیا بھر میں رائج ہے۔ جس کی ایک خاص ترتیب (Hierarchy) ہے۔ سب سے چوٹی پر ریاضی(اور سائنس)، اور زبان, اس کے بعد معاشرتی علوم(Socail Sciences) اور سب سے آخر میں فنون(Arts)۔
ہمیں یاد رکھنا چاہییے کہ دنیا ہمہ وقتی تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ اگر ایک نسل تخلیقی صلاحیتوں سے عاری ہوگی تو دنیا اسے روند کر گزر جائے گی۔ تبدیلی کا ساتھ دینا تو کجا وہ تبدیلی کو سمجھ ہی نہ پائے گا۔
1995 میں ایپل کے بانی اور مشہور زمانہ موجد سٹیو جابس (Steve Jobs)نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ آپ کو غلطیوں کے لیے تیار رہنا چاہییے اور خطرہ مول لینا چاہییے، جب ان سے کہا گیا کہ اس کا دنیا کے بارے میں کیا وژن(Vision) ہے تو انھوں نے کہا:
”جب آپ بڑے ہوتے ہیں تو آپ کو سکھایا جاتا ہے کہ دنیا اس طرح ہے اور آپ کا کام اس دنیا کے فریم ورک میں رہنا ہے۔ اس کی دیواروں کو توڑنا نہیں۔آپ نے ہنسنا کھیلنا ہے اور رقم بچانی ہے۔یہی آپ کی زندگی ہے۔
لیکن زندگی کا یہ تصور بہت محدود ہے۔
زندگی کا یہ تصور بہت پھیل جائے گا جب آپ یہ حقیقت دریافت کر لیں گے کہ جو دنیا میں جو زندگی آپ کو نظر آرہی ہے اس کے بنانے والے آپ جیسے ہی تھے ۔جو کچھ آپ کو نظر آرہا ہے آپ اسے تبدیل کر سکتے ہیں ، اس پر اثر انداز ہوسکتے ہیں ، آپ اپنے لیے خود چیزیں بنا سکتے ہیں جن کو دیگر لوگ استعمال کرسکیں۔
اگر آپ نے ایک بار یہ سیکھ لیا تو آپ وہ نہیں رہیں گے جو آپ پہلے تھے۔“
تخلیق کی یہ سب اہمیت اپنی جگہ پر لیکن تخلیق کو تعلیم کا حصہ بنانا بہت بڑا چیلنج ہے ۔ یہ سب کچھ ہوگا کیسے؟ شاید یہ ہماری علمی بحث کا سب سے اہم موضوع ہونا چاہییے۔
موجودہ نظام کے اندر ہم بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں بروئے کار لانے کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں وہ کریں۔ لیکن اصل کام نصاب، درسی کتب، تدریس اور امتحانات میں زمینی حقائق کے مطابق لچک اور ندرت لانا ہے ۔ ایسا نظام ضروری ہے جو بچے کی فطرت سے ہم آہنگ ہو کر بچے کی تخلیق صلاحیتوں کو جلا بخشے اور مختلف ذہانتوں کے حامل طلبہ سے مخاطب ہونے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہ کام ارباب حل و عقد اور اداروں کا ہے ۔ البتہ عملی حلقوں میں اس پر بحث و مباحثہ امکانات کے نئے در وا کر سکتا ہے ۔

مزید :

بلاگ -