’’کرکٹ جوا کنگ کی مدد‘‘ بھارتی وزیر شسما سوراج پر استعفیٰ کیلئے دباؤ بڑھ گیا

’’کرکٹ جوا کنگ کی مدد‘‘ بھارتی وزیر شسما سوراج پر استعفیٰ کیلئے دباؤ بڑھ ...
’’کرکٹ جوا کنگ کی مدد‘‘ بھارتی وزیر شسما سوراج پر استعفیٰ کیلئے دباؤ بڑھ گیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارتی وزیر اطلاعات شسما سوراج پر کرکٹ جواکنگ للت مودی کو برطانوی سفری دستاویزات جاری کرانے میں مدد کرنے کے سکینڈل میں عہدے سے استعفیٰ دینے کیلئے دباؤ بڑھ گیا۔ کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے شسما سوراج سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کردیا۔
کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے نئی دہلی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم مودی کرپشن کے مجرم کی مدد کرنے پر اپنی وزیر اطلاعات کو برطرف کریں۔ کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نے اپنے سینکڑوں حامیوں کے ہمراہ نئی دہلی میں شسما سوراج کیخلاف مظاہرے کئے، جلوس نکالے اور شسما استعفیٰ دو کے نعرے لگائے جبکہ بی جے پی اور شیوسینا سمیت پورا ’’سنگھ پریوار‘‘ شسما کی حمایت میں کھڑا ہوگیا۔ حمایت ملنے پر ڈری سہمی شسما سوراج نے بھی ہمت پکڑی اور گزشتہ روز بیان دے ڈالا کہ انہوں نے ایک ہندوستانی شہری کی ایک ہندوستانی ہونے کے ناطے مدد کی جس کی بیوی کینسر کے مرض میں پرتگال میں زیر علاج ہے تو کیا برا کردیا۔
بی بی سی کے مطابق انڈین پریمیئر لیگ کے سابق کمشنر للت مودی ملک میں سنگین مالی جرائم کی تفتیش کرنیوالے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو مطلوب ہیں۔ انہیں آئی پی ایل میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا ہے اور وہ پانچ سال سے ملک سے بھاگے ہوئے ہیں اور گرفتاری سے بچنے کے لیے انہوں نے برطانیہ میں پناہ لے رکھی ہے۔ انہیں پکڑنے کیلئے ای ڈی نے ’لک آؤٹ سرکیولر‘ جاری کر رکھا ہے اور منموہن حکومت نے انکا پاسپورٹ تک کینسل کر دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق سشما سواراج کے شوہر وکیل ہیں، اور بیٹی بھی، اور دونوں للت مودی کے قانونی ماہرین کی ٹیم سے وابستہ رہے۔ اسی لیے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ سشما سوراج آپ کا دھیان کدھر تھا؟ آپ ایک ایسے آدمی کی مدد کر رہی تھیں جسے آپ کی اپنی ہی حکومت ڈھونڈ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق شسما سوراج سے اب کچھ دلچسپ سوالات پوچھے جارہے ہیں کہ داؤد ابراہیم بھی ہندوستانی شہری ہیں، اگر وہ براہ راست سشما سوراج سے رابطہ کریں تو کیا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وہ ان کی بھی مد کریں گی؟
واضح رہے کہ سشما سوراج نے ایک مرتبہ یہ اعلان کیا تھا کہ اگر سونیا گاندھی ملک کی وزیر اعظم بن جاتی ہیں تو وہ اپنا سر منڈوا دیں گی۔ اس وقت تو سونیا گاندھی نے حکومت کی ذمہ داری من موہن سنگھ کو سونپ کر انھیں بچا لیا تھا لیکن لگتا ہے کہ اس مرتبہ وہ زیادہ گہرے گڑھے میں کود گئی ہیں۔ دوسری طرف بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگرس نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ للت مودی کی مدد وزیراعظم نریندر مودی کی رضامندی سے کی گئی۔
کانگرس کے ترجمان رندیپ سورکشاوالا نے نئی دہلی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’للت مودی کا سشما سوراج سے تعلق، خاندانی تعلقات ،کلائنٹ کونسل، ای میلز کے تبادلے، داخلے اور دوسری چیزوں میں مدد دلانے میں شراکت کے علاوہ ایسا بھی لگتا ہے کہ للت مودی کے نریندر مودی اور امت شاہ سے بھی تعلق تعلقات ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’وزیر اعظم وزارت خارجہ کو چلانے کے لئے مشہور ہیں، کیا ایسے میں کوئی سمجھدار آدمی یہ مان سکتا ہے کہ قانون کے ایسے بھگوڑے کی مدد میں وزیر اعظم کی رضامندی نہیں تھی۔‘ ادھر بی جے پی کے رہنما اور سنگھ پریوار کے لیڈر خم ٹھونک کر شسما سوراج کی حمایت میں کھڑے ہوگئے ہیں۔
بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ شسما سوراج نے کچھ غلط نہیں کیا۔ بی جے پی کے صدر امت شاہ نے کہا کہ اس معاملے میں کوئی ایسا اخلاقی پہلو نہیں ہے کہ شسما سوراج اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ بی جے پی کی اتحادی شیوسینا کے رہنما سنجے راوت نے کہا کہ مودی حکومت کو کمزور کرنے کیلئے شسما سوراج کو نشانہ بنایا جارہا ہے، شیوسینا کو ان پر پورا بھروسہ ہے۔