دنیا کی مشہور ترین یونیورسٹیوں کی طالبات تعلیم جاری رکھنے کیلئے کس شرمناک کام پر مجبور ہو گئیں؟نشریاتی ادارے کی رپورٹ نے مغربی معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا

دنیا کی مشہور ترین یونیورسٹیوں کی طالبات تعلیم جاری رکھنے کیلئے کس شرمناک ...
دنیا کی مشہور ترین یونیورسٹیوں کی طالبات تعلیم جاری رکھنے کیلئے کس شرمناک کام پر مجبور ہو گئیں؟نشریاتی ادارے کی رپورٹ نے مغربی معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک وقت تھا جب انڈر گریجوایٹ طالبات نوکری کرکے اپنے اخراجات برداشت کرتی تھیں لیکن یونیورسٹیز کی فیسوں میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے مغربی ممالک کی طالبات کی اکثریت روایتی نوکریوں کی بجائے رقم حاصل کرنے کے دیگر ذرائع کی طرف مائل ہونے لگی ہے۔ ان میں سے ایک ذریعہ ”شوگر ڈیڈی“ کا حصول ہے، جس میں طالبات کسی ایسے امیر آدمی سے تعلقات استوار کرلیتی ہیں جو بدلے میں نہ صرف انہیں اچھی خاصی رقم اور قیمتی تحائف دیتا ہے بلکہ بیرون ملک چھٹیوں پر بھی لے کر جاتا ہے۔

ریڈیو ٹائمز کی ایک ڈاکومنٹری کے مطابق طالبات ایسے امیر آدمیوں کی تلاش کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کرتی ہیں۔ایک ویب سائٹ Seekingarrangement.com کے مطابق2012ءمیں یونیورسٹیز کی فیسوں میں اضافے کے بعد طالبات میں شوگر ڈیڈی کے حصول کا رجحان بڑھا ہے اور139ملکوں سے اس کے صارفین کی تعداد4.5بلین تک جا پہنچی ہے۔ریڈیوٹائمز کی ترجمان انجیلا برموڈو کا کہنا ہے کہ فیسیں بڑھنے کے بعد طالبات کے پاس چند ہی راستے بچے ہیں، یا تو ان کے والدین اتنے امیر ہوں کہ ان کے تعلیمی اخراجات اٹھا سکیں، طالبات بھاری قرضے لیں یا کوئی نوکری کریں۔اگر طالبات کوئی نوکری کرتی ہیں تو اس سے ان کا قیمتی وقت جو پڑھائی میں صرف ہونا چاہیے وہ نوکری میں لگ جاتا ہے۔ لہٰذا وہ شوگر بے بی بننے کو ترجیح دیتی ہیں۔ اس سے نہ صرف انہیں اچھی خاصی رقم مل جاتی ہے بلکہ وقت بھی بچ جاتا ہے اور بعد میں شوگر ڈیڈی نوکری کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں کیونکہ ان کی اکثریت کامیاب بزنس مین ہوتی ہے۔ریڈیو ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کیمبرج یونیورسٹی کی 19سالہ طالبہ میری (فرضی نام)نے کہا کہ ”مجھے ایک 40سالہ بینکار نے تعلقات کے عوض ماہانہ 3ہزار پاﺅنڈ دینے کی پیش کش کی تھی، اس نے کہا کہ ہم ہر ہفتے ملیں گے، پہلے کسی اچھے ہوٹل میں ڈنر کریں گے اور پھر تنہائی میں وقت گزاریں گے ۔مجھے یہ سب بہت ناگوار گزرا، میں اس کے لیے بالکل تیار نہیں تھی اور میں نے عہد کیا کہ آئندہ ایسا کچھ نہیں کروں گی۔“ریڈیو ٹائمز کی یہ ڈاکومنٹری 22جون کو نشر ہو گی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -