عدالتوں نے جھوٹے مقدمے درج کرنے کے حکم دینے شروع کردیئے تو پاکستانی"رل"جائیں گے : ہائی کورٹ

عدالتوں نے جھوٹے مقدمے درج کرنے کے حکم دینے شروع کردیئے تو پاکستانی"رل"جائیں ...
عدالتوں نے جھوٹے مقدمے درج کرنے کے حکم دینے شروع کردیئے تو پاکستانی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگر عدالتوں نے جعلی مقدمات درج کرنے کے حکم جاری کرنا شروع کر دیئے تو پاکستانی "رل "جائیں گے، عدالتیں کسی کا آلہ کار نہیں بن سکتیں۔لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس انوار الحق کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے یہ ریمارکس اندراج مقدمہ کی ایک درخواست کی سماعت کے دوران دیئے.

درخواست گزار خالد محمود خالق کے وکیل طاہر محمود نے موقف اختیار کیا کہ ملزم انوار غنی اور نسیم غنی نے پیکو روڈ پر اس کی ایک کنال اراضی کی جعلی رجسٹری بنوا کر اراضی اپنے نام منتقل کرا لی ہے، ملزموں کے خلاف اندراج مقدمہ کا حکم دیا جائے، فاضل جج کے استفسار پر درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ اس حوالے سے معاملہ محکمہ مال میں بھی زیر التواءہے، اراضی کی ملکیت کی سرکاری دستاویزات محکمہ مال کی ملی بھگت سے جاری کی گئی ہیں جس پر مسٹر جسٹس انوار الحق نے ریمارکس دیئے کہ ابتدائی طور پر سرکاری دستاویزات کو ہی درست سمجھا جا سکتا ہے، اگر ایسا نہ کیا جائے تو پاکستان میں قیامت آ جائے گی ، جعلی مقدمہ درج کرنے کے فیصلے دینے شروع کر دیئے تو پاکستانی "رل "جائیں گے ، عدالتیں کسی کا آلہ کار نہیں بن سکتیں، سیشن عدالت نے اندراج مقدمہ کی درخواست مسترد کی ہے تو درخواست گزار کومحکمہ مال میں جعلی رجسٹری کے خلاف زیر التواءمقدمہ کی پیروی کرنی چاہیے ۔

مزید :

لاہور -