کرپشن کیس، میڈیا اور کٹی پتنگ!

کرپشن کیس، میڈیا اور کٹی پتنگ!
کرپشن کیس، میڈیا اور کٹی پتنگ!

  

پا کستان کی بڑی عدالت تو معلوم نہیں کیا فیصلہ کرے، مگر عدا لت کے با ہر لگنے والی عدالت اپنے تما م تر ایجنڈے کو نبھا نے اور نتا ئج حا صل کر نے میں کا میاب ہو چکی ہے۔ را ئے عا مہ اس وقت مکمل تذبذب اور گو مگو کی کیفیت کا شکار ہو کر رہ جا تی ہے، جب دو نوں طرف کے رہنما عدالتی کارروائی کے بعد اپنے سیا سی پیرا ئے کو فصا حت و بلا غت کے دریا بہا کر عوام کو گمراہ کر نے میں کو ئی کسر نہیں چھوڑتے۔ یہ ملاوٹ شدہ سیا سی مواد عدا لتی ترا زو کے عین نیچے آ ف شور اور بے نا می نعروں کے ساتھ بیچا جا تاہے کہ الامان الحفیظ۔کیادنیاکے کسی اورخطے میں عدالتوں میں زیرِ بحث معا ملات میں ایسا ہو تا ہے؟ پا ناما انکشا فات کے بعد ایک سیا سی اکھاڑہ پرا ئم ٹا ئم کے ٹاک شوز میں بھی لگتا ہے۔ یہ کو ئی صحت مند بحث ہو تی اور کسی مثبت Discourse کی طرف معا ملہ جارہا ہوتا تو اچھی بات ہوتی،مگراس معاملے پر پا کستا نی میڈیا پہلے بری طرح تقسیم ہوا، پھر مختلف میڈیا گروپس نے اپنے بزنس انٹرسٹ کو دیکھتے ہو ئے اپنے تجزیہ نگاروں اور صحا فیوں کو استعمال کرتے ہوئے مخصوص پرو پیگنڈے کو سچ بنا کر دھول اڑا نے میں کو ئی کسر نہیں چھو ڑی۔ را ئٹرز نے وزیر اعظم جے آ ئی ٹی میں پیشی اور ہو نیوالے سوالات کا تجزیہ کیا،جسے ملک کے ایک بڑے چینل کی ویب سا ئٹ نے اس پیشی کو ملک میں افرا تفری سے تعبیر کیا (را ئٹرز نے خبر میں افرا تفری کا لفظ بھی استعمال نہیں کیا)۔۔۔ جس طرح دلیل اور آزادی اظہار را ئے کا قتل اس کیس میں ہوا ہے، یہ جر نلزم کے طالبعلموں کے لئے بالکل نیا تجربہہے۔

جے آ ئی ٹی پر حکمران جما عت کا بڑھتا ہوا دبا ؤ یہ ثا بت کر نے کے لئے کا فی ہے کہ حکو مت اسے بند گلی کی جا نب لے جا نا چا ہتی ہے،مسلم لیگ (ن)ایسا کیوں چاہ رہی ہے؟ اس معا ملے پرجے آ ئی ٹی کا بننا بذاتِ خود حکو مت کے لئے کرپشن الزامات کو با طل اور اپنا کیس ثا بت کرنے کا دوسرا مو قعہ تھا، مگر بعض وفا قی وزراء او ر کچھ وزارت کے متمنی جا نثار وں کا لب و لہجہ آ ج بھی وہی ہے جو عدالت کی سما عت کے دنوں میں تھا۔ یہ وزیر اعظم کی کتابِ سیا ست کے گمشدہ اوراق کی نشا ندہی کرنے سے لے کر Black & white. فیصلہ ما نگنے تک کی فر ما ئشیں کر تے رہے ہیں۔ معا ملہ اس پر رکا نہیں، اب پنجاب کے وزیر اعلیٰ،سا نحہ ما ڈل ٹا ؤن کی شہرت رکھنے والے صو با ئی وزیرِ قا نون اور وزیر اطلا عات روزا نہ کی بنیاد پر جے آ ئی ٹی کے مبینہ جا نبدارانہ رویے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ سینیٹر نہال ہا شمی نے تو اس معاملہ پر دھمکی آ میز خطاب کیاجو سیا سی احتجاج کم اور راگ دربا ری کی بندش زیادہ لگ رہا تھا۔لگتا ہے مسلم لیگ (ن) کی نئی حکمتِ عملی جے آ ئی ٹی سے تحقیقات میں تعاون سے زیا دہ اس پر الزا مات لگا نا ہے، شاید اس نئی حکمتِ عملی کی ضرورت اس لئے پیش آ ئی ہے کہ ان کے پاس الزا مات مسترد کر نے کے لئے مو قف تو جا ندار ہے، مگر ثبوت نا کا فی ہیں، اگروزیر اعظم کی جماعت ان سیا سی الزا مات سے بری ہو کر نکلنے کے مشن پر ہے تو انہیں اس حقیقت کا ادراک کرنا پڑے گا کہ قا نون کورا ستہ دئیے بغیر منزل پر پہنچنا آ سان نہیں۔ وگرنہ یہ الزا مات سیا سی افق پر پو ری گرج چمک کے ساتھ چھا ئے رہیں گے۔

جے آ ئی ٹی نے حکو متی دبا ؤ کے جواب میں جو درخواست پا نا مہ بنچ کے سامنے پیش کی ہے، وہ ملک میں قا نون کی حکمرانی کی اصل تصویر پیش کر تی ہے، جہاں ادارے مبینہ طور پر حکمرا نوں کی فائیلیں ٹھیک اور ان میں ردو بدل میں مصروف ہیں، جو شکا یت عدالت کو نیب، ایف بی آ ر، سی ای سی پی اور دیگر اداروں سے تھی۔ اب جے آ ئی ٹی نے بھی ان پر براہِ راست سنجیدہ نو عیت کے الزامات لگا دئیے ہیں، گو یا ملک کی ایگزیکٹو اب سینہ تان کر جے آ ئی ٹی کے راستے میں رکا وٹ بن کر کھڑی ہو چکی ہے۔مگر یہ سب کچھ تو عمران خان کے مو قف کی تا ئید ہے، پی ٹی آ ئی اب حکو مت کے اس دبا ؤ کا جواب دینے کے لئے میدان میں اترآ ئی ہے، وزیر اعظم نواز شریف کی مو جو دگی میں جے آ ئی ٹی کا کڑوا گھو نٹ عمران خان نے محض اس لئے بھرا تھا کہ شا ید عدالت بطور ریفری اس سا رے عمل کو رو کنے میں کامیاب ہوسکے گی، اب وہ بجا طور پر وزیر اعظم کی جے آ ئی ٹی میں پیشی کا کریڈٹ بھی لے رہے ہیں، ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جب وزیر اعظم کا عہدہ کرپشن تحقیقات کی زد میں ہے تو انہیں استعفیٰ دے دینا چا ہئے، اگر مسلم لیگ(ن) اداروں کو آ زا دا نہ اپنا کام کر نے دیتی تو شا ید دوبارہ اس مطا لبے کی نو بت نہ آ تی۔مسلم لیگ(ن) جب تک تحقیقاتی ٹیم کی ساکھ پر سوال اٹھا تی رہے گی، تحریک انصاف تب تک وزیر اعظم کی اخلاقی پو زیشن کو بنیاد بنا کر ان سے استعفے کا مطا لبہ کر تی رہے گی۔پا ناما کر پشن کیس پر سیا ست کے میدان میں جو تا ریخی معر کہ بر پا ہے، اس میں سب سے بڑی جما عت پیپلز پارٹی سیاسی اکھا ڑے سے با ہر بیٹھی ہے، شا ید یہی وجہ ہے پارٹی پنجا ب میں ابتدا ئی اڑان بھر نے کے بعد کٹی پتنگ کی طرح ہچکو لے کھا رہی ہے، اس کی نئی لیڈر شپ ہوا کے مخا لف اپنا چراغ جلا نے کی آ رزو مند ہے، مگرآصف علی زرداری محض جو ڑ توڑ کے بل بو تے پر پنجاب میں الیکشن کی تیا ری کر نا چا ہتے ہیں۔اطلا ع یہ ہے وہ بلا ول بھٹو زرداری اور نئی قیا دت کو سا منے رکھ کر اصل سیا سی کھیل اپنے پرانے سا تھیوں کے ساتھ خود کھیلنا چا ہتے ہیں۔ پنجاب میں بلا ول کارڈ کی نا کامی پیپلز پارٹی کے اندر پیدا ہو نے والے خلفشار کی دو سری بڑی وجہ ہے۔ شا ید پنجاب میں الیکشن سے پہلے دو سری بڑ ی جماعت کا فیصلہ ہو چکا ہے، پیپلز پارٹی چھو ڑنے کی کئی اور وجو ہات بھی ہو سکتی ہیں، مگراصل وجہ عمران خان کا پا ناما کیس اور نواز شریف کے خلاف جا رحا نہ مو قف ہی ہے جو پیپلز پارٹی کے جیا لوں کو خوب بھا یا ہے، لہٰذا حا لات کا رخ بتا رہا ہے کہ آئندہ الیکشن کا مقبول عام نعرہ پا ناما کرپشن الزا مات اور ممکنہ عدا لتی فیصلہ ہو گا۔ایک بات طے ہے، اس بار کلین چٹ ملنے کی امید دم توڑ رہی ہے، اگر حکمران جما عت اس فیصلے سے بچنے میں کا میاب بھی ہو گئی یا یہ فیصلہ مبہم آ یا اور فریقین کو بیک وقت مٹھا ئیاں با نٹی پڑیں تو پھر عمران خان کوکرپشن کے ساتھ ساتھ سسٹم اور اداروں کے خلاف چو کے اور چھکے لگا نے سے روکنا مشکل ہو گا۔

مزید : کالم