وزیراعظم۔۔۔ جے آئی ٹی کے روبرو

وزیراعظم۔۔۔ جے آئی ٹی کے روبرو

وزیراعظم نواز شریف سپریم کورٹ کے حکم پرتشکیل پانے والی پاناما کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم( جے آئی ٹی) کے روبرو پیش ہو گئے جہاں اُن سے ایسے سوالات کئے گئے، جن سے لندن فلیٹس کی ملکیت کے سلسلے میں کسی فیصلے پر پہنچنا ممکن ہو، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، رکن قومی اسمبلی کیپٹن(ر) صفدر بھی آئندہ دِنوں میں پیش ہوں گے، اس سے پہلے وزیراعظم کے دو صاحبزادے حسین نواز پانچ بار اور حسن نواز دو بار اس جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہو چکے ہیں، نیشنل بینک کے صدر سعید احمد طویل پیشی بھگت چکے ہیں، جس کے بارے میں انہوں نے سپریم کورٹ کو خط بھی لکھا ہے کہ انہیں پانچ گھنٹے تک انتظار کرایا گیا اور پھر بارہ گھنٹے تک سوال جواب ہوئے، اِسی طرح وزیراعظم کے دوست جاوید کیانی بھی ٹیم کے روبرو تفتیش کے لئے پیش ہو چکے ہیں، جنہیں مبینہ طور پر ’’وعدہ معاف گواہ‘‘ بننے کی پیشکش کی گئی، وزیراعظم کے کزن طارق شفیع بھی پیش ہو چکے ہیں۔ سابق وزیر داخلہ رحمن ملک کو بھی، جنہوں نے حدیبیہ شوگر ملز کے معاملات کی اپنے طور پر تفتیش کی تھی ٹیم نے طلب کر رکھا ہے، ٹیم کے دو ارکان برطانیہ میں شواہد جمع کرنے گئے تھے وہ شاید ابھی تک واپس نہیں آئے، اِس دوران جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کے روبرو شکایت کی کہ اس کی تحقیقات کے راستے میں مشکلات کھڑی کی جا رہی ہیں اور بعض ادارے جن کے جے آئی ٹی نے نام بھی لئے، ریکارڈ ٹمپرنگ کر رہے ہیں۔اِن اداروں نے الزام کو درست قرار نہیں دیا، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جو خود بھی جے آئی ٹی میں پیش ہوں گے، کہا ہے کہ جے آئی ٹی کو ٹرک بھر کے ریکارڈ دیا جا رہا ہے۔انہوں نے حلفاً کہا کسی ادارے کو ریکارڈ دینے سے روکا نہ روکوں گا، ر یکارڈ میں رد وبدل بھی نہیں کیا جا رہا۔ اوپر جو مختصر سی روداد تفتیش و تحقیق کے ضمن میں دی گئی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جے آئی ٹی تفتیش کا کام تو کر رہی ہے، سپریم کورٹ کام کی اس رفتار سے مطمئن بھی ہے اور یہ ریمارکس بھی دے چکی ہے کہ رپورٹ پیش کرنے کے لئے جے آئی ٹی کو توسیع نہیں دی جائے گی، جبکہ جے آئی ٹی سمجھتی ہے کہ معینہ وقت میں کام مکمل کرنا ممکن نہیں۔ اس باضابطہ درخواست پر سپریم کورٹ نے کوئی فیصلہ تاحال نہیں دیا اسی طرح جے آئی ٹی کی کمپوزیشن پر حسین نواز نے جن تحفظات کا اظہار کیا تھا ان پر بھی باقاعدہ فیصلہ نہیں آیا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اعتراضات اور جوابی اعتراضات، تحفظات اور جوابی تحفظات کے باوجود جے آئی ٹی اپنا کام بھی کر رہی ہے، اس ساری تگ و دو کے نتیجے میں وہ کیا حاصل کر پاتی ہے اور اس کی رپورٹ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا ہوتا ہے یہ تو اپنے وقت پر معلوم ہو گا،لیکن قانون کی بالادستی کے سلسلے میں جو درخشاں مثالیں سامنے آ رہی ہیں۔ وہ مُلک کے عدالتی نظام کے لئے خوش آئند ہیں اور توقع کی جا سکتی ہے کہ احتساب کا نظام مضبوط ہو گا۔

وزیراعظم نواز شریف ایک ایسی جے آئی ٹی میں بنفسِ نفیس پیش ہو کر اپنا موقف بیان کر چکے اور جو دستاویزات ٹیم نے طلب کی تھیں وہ بھی ممکن ہے انہوں نے حوالے کر دی ہوں جو سرکاری محکموں کے گریڈ بیس یا اوپر کے افسروں پر مشتمل ہے ماضی میں ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ کوئی وزیراعظم تو کُجا، نسبتاً کم تر مرتبے کا کوئی حکومتی عہدیدار ایسی کسی ٹیم کے روبرو پیش ہوا ہو، پیش ہونا تو شاید بڑی بات ہے کسی ٹیم نے کسی بڑے عہدیدار کو طلب کرنے کی ہمت ہی کی ہو،یہاں تو ایسی روایت بھی موجود ہے کہ ایک سیاسی مخالف کی ضمانت کی درخواست منظور کرنے کا فیصلہ لکھواتے ہوئے ایک جج کو برسرِ عدالت ہتھکڑی لگا کر گرفتار کر لیا گیا اس وقت بھی ایک وزیراعظم موجود تھے، اعلیٰ عدالتی کرسیوں پر بڑے بڑے نامور قانون دان تشریف فرما تھے، ایک جونیئر جج نے جو بعد میں چیف جسٹس بھی بن گئے اس جانب توجہ بھی دلائی تھی،لیکن اُنہیں خاموش رہنے کا مشورہ دیا گیا تھا ایسے میں فرض کریں ،کوئی وزیراعظم کو کسی جے آئی ٹی میں طلب کرتا تو اپنا حشر پہلے سے سوچ رکھتا، یہ کریڈٹ بہرحال وزیراعظم نواز شریف کو جاتا ہے کہ وہ جے آئی ٹی کا دعوت نامہ ملنے پر مقررہ وقت پر ذاتی گاڑی میں ساتھیوں کے لاؤ لشکر کے بغیر مقررہ مقام پر پیش ہو گئے، وہ ریکارڈ بھی لے گئے جو بذریعہ خط طلب کیا گیا تھا، واپسی پر انہوں نے کہا کہ اُن سے جو کچھ پوچھا گیا اس کا انہوں نے جواب دے دیا۔ جب سے وزیراعظم نواز شریف کو جے آئی ٹی کا خط موصول ہوا تھا پروپیگنڈے کا ایک طوفان بپا تھا کہ جے آئی ٹی پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں، حملے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں ان چند دِنوں کا (الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا) ریکارڈ جمع کیا جائے اور وزیراعظم کی پُرامن اور خوشگوار ماحول میں پیشی کو دیکھا جائے تو اس عرصے کی الزام تراشیوں پر ہنسی آتی ہے، کوئی ’’حملہ‘‘ نہیں ہوا، نہ ایسی کوئی تیاری دور دور تک دیکھی گئی، کوئی ہنگامہ آرائی نہیں ہوئی، سیاسی کارکن ضرور نظر آئے، لیکن وہ حفاظتی حدود سے باہر ہی رہے۔ غرض خوف، خدشات اور پروپیگنڈے کے تمام عناصر بالآخر غلط ثابت ہو گئے۔

وزیراعظم کے بیان کے بعد جے آئی ٹی نے جن لوگوں کو طلب کر رکھا ہے اُن سب سے جو تفتیش ہو گی اس کے بعد ہی اندازہ ہو گا کہ جے آئی ٹی کس نتیجے پر پہنچی،لیکن یہ بات بجائے خود اطمینان بخش ہے کہ وزیراعظم نے قانون کی بالادستی کے لئے اپنی کسی اَنا کو حائل نہیں ہونے دیا۔ اندر خانے اُن کے خلاف جو بھی سازشیں ہو رہی ہیں ان میں شریک چہرے ایسے نہیں ہیں کہ اُن کی نقاب نہ اُلٹی جا سکتی ہو یا انہوں نے کوئی سلیمانی ٹوپیاں بھی نہیں پہن رکھیں اُن کے پروفائل بھی پوشیدہ نہیں ہیں اور ان میں بلیک اینڈ وائٹ بہت کچھ موجود ہے،لیکن وزیراعظم نے کسی کے خلاف کوئی اعلانیہ یا خفیہ کارروائی نہیں کی، اگر کی ہوتی تو جو پروپیگنڈہ مشینری ہر وقت مصروف رہتی ہے ایسی ’’انتقامی‘‘ کارروائیوں کا تذکرہ بھی کرتی،اگر ایسا کچھ نہیں کیا تو اس کا مطلب ہے کہ یہ خانہ خالی ہے اور ماہرین پروپیگنڈہ کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے۔

ہمارے ہاں ہمیشہ یہ روایت ہے کہ بدعنوانی کا الزام جانے والوں پر لگایا گیا، بہت سے سابق حکمران اور اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والے ایسے افسر موجود ہیں جن کے بھائی بند اور دوسرے رشتے دار ان اعلیٰ عہدیداروں کے اثرو رسوخ کا فائدہ اٹھا کر بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے،لیکن اُن کے دور میں ان کی بدعنوانیوں کا کوئی تذکرہ تھا نہ منفی ذکر جب وہ رخصت ہوگئے تو پھر یہ قصے منظرِ عام پر آئے،آج تک ان کا کچھ نہیں بگڑا، چند تفتیشی ٹیمیں تشکیل پائیں، عدالتوں میں مقدمات قائم ہوئے، چند پیشیاں بھگتیں، ضمانتیں ہو گئیں اور اب مقدمات چل رہے ہیں، سزائیں بہت کم ہوئیں، یا بالکل ہی نہیں ہوئیں، البتہ اتنا ضرور ہوا کہ میڈیا میں پروپیگنڈہ ہوتا رہا، بدنامی اگر ہوئی تو اس بدنامی نے اُن کا کیا بگاڑ لیا اس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں۔ عہدے پر متمکن ایک وزیراعظم اور دوسرا وزیراعلیٰ پہلی بار ایک جے آئی ٹی میں پیش ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم کے خاندان کے افراد اور ان کے دوست یا دور پار کے رشتے دار بھی تفتیش کی زد میں ہیں، اور کسی کو کوئی خوف نہیں، رکاوٹیں ڈالنے کا الزام سامنے آیا ہے،لیکن اس کی بھی تردید کی جا رہی ہے۔ یہ سب کچھ قانون کی عملداری کے لئے اچھا شگون ہے اور توقع کرنی چاہئے کہ اس روایت کو مستحکم کیا جائے گا۔دُعا ہے کہ ایسی روایات مضبوط ہوں،لیکن اگر یہ روایات مضبوط نہیں ہوتیں اور پرانے ایام لوٹ آتے ہیں یا تاریخ اگر خود کو دھراتی ہے کل کو کوئی ایسا حکمران دوبارہ بھی آ سکتا ہے جو فیصلہ لکھواتے ہوئے جج کو ہتھکڑی لگوا کر گرفتار کرا دے۔

مزید : اداریہ