پاکستان کرکٹ ٹیم، فائنل میں!

پاکستان کرکٹ ٹیم، فائنل میں!

کھیل تو کھیل ہوتا ہے اور کرکٹ بھی اس میں شامل ہے، آفاقی اصول یہ ہے کہ مقابلے کے روز جو ٹیم اچھا کھیلے فتح اس کی ہوتی اور بُرا کھیلنے والی ٹیم کو خفت اٹھانا پڑتی ہے۔ بدھ کو کارڈیف (برطانیہ) کے میدان میں میزبان انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم پاکستان کرکٹ ٹیم کے مدمقابل تھی، اس مقابلے کے لئے تجزیہ نگار غیر متوازن رائے دے رہے تھے۔ یوں بھی انگلینڈ کی ٹیم اپنے پول میں ناقابلِ شکست تھی، اس نے اپنی حریف ٹیم آسٹریلیا کے علاوہ نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کو بھی ہرایا تھا اور نمبروں کی فہرست میں درجہ اول پر براجمان تھی، بلکہ جس طرح پاکستانی ٹیم کو جنوبی افریقہ کی شکست کے باعث سیمی فائنل تک آنا مقدر ہو گیا اِسی طرح انگلینڈ کی وجہ سے بنگلہ دیش کو نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا پر برتری مل گی اور اس نے بھی سیمی فائنل کے لئے کوالیفائی کر لیا۔ اس لحاظ سے انگلینڈ کی ٹیم کو برتری دی جا رہی تھی، تاہم مقدر کچھ اور ہی تھا کہ اس سیمی فائنل میں پاکستان کی ٹیم پھر سے حیران کر دینے والے ردھم میں نظر آئی، پہلے تو انگلینڈ کو211رنز تک محدود کرنے میں باؤلنگ کا زبردست کردار رہا، سب نے نپی تلی باؤلنگ کی اور فیلڈروں نے ان کا پورا ساتھ دیا، اس میچ میں کوئی کیچ ڈراپ نہیں ہوا اور رنز بھی روکے گئے، حتیٰ کہ نوجوان فخر زمان نے ایک مشکل کیچ کر کے بھی داد وصول کی۔ یوں انگلینڈ نے212رنز کا ہدف دیا جو عالمی معیار کی کسی بھی ٹیم کے لئے کوئی زیادہ مشکل نہیں تھا،لیکن خدشات اپنی جگہ تھے اور اِسی بنا پر سکندر بخت(سابق باؤلر) شعیب ملک اور محمد حفیظ کے خلاف رائے دے رہے تھے انہوں نے یہ تک کہہ دیا کہ اگر یہ سکور نہ کریں تو بستر لپیٹ کر گھروں کو جائیں،بہرحال محمد حفیظ نے تو انہیں لاجواب کردیا۔ پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں نے جذبہ دکھایا، ہمت سے کام لے کر محنت کی اور کامیاب ہوئے،فخر زمان اور اظہر علی نے موقع کی مناسبت سے اننگز کھیلی، جبکہ بابر اعظم اور محمد حفیظ نے بھی اپنی بیٹنگ سے یہ ثابت کر دیا کہ وہ فارم میں واپس آ رہے ہیں،محمد عامر کی عدم موجودگی کھٹک رہی تھی،مگر حسن علی نے خصوصاً اور محمد جنید کے ساتھ رومان رئیس نے عمومی طور پر بہتر باؤلنگ کر کے نام کمایا، اب پاکستان کی ٹیم کو فائنل کا چیلنج درپیش ہے اور کپتان سرفراز نے کہا ہے کہ پاکستان کی ٹیم خائف نہیں،جو بھی مقابل آئے گا اس کے ساتھ اتوار کو جان لڑا کر مقابلہ کریں گے کہ اس مرتبہ ٹرافی جیت سکیں۔ سرفراز احمد اور ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کے ساتھ قوم کی دُعائیں ہیں اور دِل دھڑکتے ہیں عوام کی خواہش اور تمنا ہے کہ پاکستان کی ٹیم فائنل مقابلہ بھی جیتے۔ کرکٹ ٹیم کی جیت، جذبے ، بہتر حکمت عملی پر عمل اور بہترین کارکردگی کی بدولت ہے جس کا تسلسل برقرار رکھنا ضروری ہے۔

مزید : اداریہ