آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم
 آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

  

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اکیسویں تراویح

سورۃ الملک :67 ویں سورت

مکی سورت ہے، 30 ، آیات اور 2 ، رکوع ہیں۔ نزول کے اعتبار سے نمبر 77 ہے انتیسواں پارہ اسی سے شروع ہوتا ہے۔پہلے ہی فقرہ ’’تبارک الذی بیدہ الملک‘‘ سے نام ماخوذ ہے۔ مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ کے پہلے دور کی نازل شدہ ہے۔ مختصر طریقہ سے اسلام کی تعلیمات کا تعارف ہے اور غفلت میں پڑے ہوؤں کو موثر انداز میں نصیحت ہے۔ فرمایا وہی عزت والا بخشش والا ہے۔جس نے سات آسمان ایک کے اوپر ایک بنائے۔ بار بار تم دیکھو اور جانچو لیکن تمہیں ان میں کوئی رخنہ نظر نہ آئے گا اور اس نے زمین سے قریب والے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا اور ان چراغوں (ستاروں) کو شیطانوں کے لئے مار کیا اور جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے جہنم ہی ٹھکانا ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں آگ شدت سے جوش مارتی ہے گویا شدت غضب سے پھٹ جائے گی۔ وہاں جب نافرمان لوگ ڈالے جائیں گے تو وہاں کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟ وہ کہیں گے کہ ضرور آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلا دیا تھا، تو ایسے لوگ دوزخی ہوں گے البتہ وہ لوگ جو اپنے رب کو بے دیکھے مانتے ہیں وہ بخشش کے مستحق ہیں۔

سورۃ القلم : 68 ویں سورت

مکی ہے، 52 آیات اور 2 رکوع ہیں، نزول کے اعتبار سے دوسری سورت ہے، انتیسویں پارہ کے تیسرے چوتھے رکوع پر مشتمل ہے۔ اس سورۃ کا نام ’’ن‘‘ بھی ہے اور ’’القلم‘‘ بھی دونوں الفاظ سورت کے آغاز میں ہیں ، مکہ کے پہلے دور کی نازل شدہ ہے۔ سور ت میں ’’مخالفین کے اعتراضات کے جوابات، ان کو تنبیہ ونصیحت ، اور رسول اللہ ﷺ کو صبر واستقامت کی تلقین‘‘ کی گئی ہے۔ ’’لوح وقلم کی قسم ، اے میرے محبوب ﷺ آپ مجنوں نہیں ہیں۔ آپ کے اخلاق بہت اعلیٰ ہیں۔ وہ وقت آنے والا ہے کہ کفار دیکھ لیں گے کہ مجنوں کون تھا۔ اللہ ہی گمراہوں اور ہدایت یافتہ لوگوں کو جانتا ہے۔ آپ جھٹلانے والوں کی پروا نہ کریں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ آپ ان سے دین کے معاملے میں نرمی کریں۔ یونس علیہ السلام کو دیکھئے کہ وہ مچھلی کے پیٹ میں کس قدر پریشان تھے، پھر ہم نے ان پر فضل فرمایا، تو آپ بھی نہ گھبرائیں۔

سورۃ الحاقۃ :69 ویں سورت

مکی سورت ہے، 52 ، آیات اور 2 ، رکوع ہیں، نزول کے اعتبار سے نمبر 87 ہے۔ انتیسویں پارہ کے پانچویں اور چھٹے رکوع پر مشتمل ہے۔ نام پہلے ہی لفظ ’’الحاقہ‘‘ پر ہے۔ مکہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ۔ سورت میں آخرت، صداقت قرآن اور صداقت نبوت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ جب قیامت کے لئے صور یکایک پھونکا جائے گا تو زمین اور پہاڑ پاش پاش کر دیئے جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور فرشتے اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے اور عرش کو تھامنے والے فرشتے ہوں گے۔ انصاف کا دن ہو گا اور داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال لینے والے جنت میں جائیں گے اور تمام راحتیں حاصل کریں گے لیکن جن کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ہو گا وہ افسوس کریں گے اور کہیں گے کہ کاش ہمیں دوبارہ نہ اٹھایا جاتا اور ان مصیبتوں میں مبتلا نہ کیا جاتا۔ ایسے لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے۔ یہ لوگ اللہ پر ایمان نہ رکھتے تھے اور نہ مسکین کو کھانا دیتے تھے۔ اب ان کو پیپ کھانے کو ملے گا۔

سورۃ المعارج : 70 ویں سورت

یہ مکی ہے ، 44 آیات اور 2 رکوع ہیں، ترتیب نزول میں 79 ویں سورت ہے، انتیسویں پارہ کے ساتویں ، آٹھویں رکوع پر مشتمل ہے، نام تیسری آیت کے لفظ ’’ذی المعارج‘‘ سے ماخوذ ہے اس زمانہ اور حالات میں نازل ہوئی جس میں ’’الحاقہ‘‘ نازل ہوئی۔ ان کفار کو تنبیہ ہے جو آخرت اور قیامت کا مذاق اڑاتے تھے۔لیکن جو لوگ نماز کے پابند ہیں اور مانگنے والوں یا نہ مانگنے والوں کو دیتے ہیں، قیامت کو برحق جانتے ہیں، اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بدکاری سے بچتے ہیں۔ جو اپنی امانتوں اور وعدہ کی حفاظت کرتے ہیں، صدق وانصاف کے گواہ ہیں اور نمازوں کی پوری حفاظت کرتے ہیں وہ سب جنتی ہیں۔

سورہ نوح : 71 ویں سورت

یہ مکی ہے 28 آیات اور 2 رکوع ہیں، ترتیب نزول میں بھی نمبر 71 ہی ہے۔ انتیسویں پارہ کے نویں، دسویں رکوع پر مشتمل ہے۔ اس کا نام اور عنوان ’’نوح‘‘ ہی ہے۔ سورت میں حضرت نوح علیہ السلام کے واقعہ کے حوالے سے کفار کو تنبیہ کی گئی ہے۔ نوح ؑ نے عرض کیا کہ اے رب ، میں نے اپنی قوم کو رات دن دعوت دی لیکن وہ دُور ہی ہوتے گئے اور بالکل نہ سنا اور بڑا غرور کیا۔ ان کو اعلانیہ اور خفیہ بھی ترغیب دلائی اور اللہ کی نعمتوں کی بشارت دی۔ نوحؑ نے اپنے رب سے یہ بھی عرض کیا کہ اے میرے رب، زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ، ورنہ یہ دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ اور اے میرے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو (جو ایمان لائے تھے) اور اسے جو میرے گھر میں ایمان والے ہیں اور سب مسلمان مردوں اورعورتوں کو بھی بخش دے اور کافروں کو تباہ کردے۔‘‘

سورۃ الجن : 72 ویں سورت

یہ مکی سورت ہے، 28آیات اور 2 رکوع ہیں، ترتیب نزول میں نمبر 40 ہے انتیسویں پارہ کے گیارہویں بارہویں رکوع پر ہے۔ ’’الجن‘‘ نام بھی ہے اور عنوان بھی، بخاری ومسلم کی روایت ہے کہ آپ بازار عکاظ جا رہے تھے ، نخلہ کے مقام پر صبح کی نماز پڑھائی، وہاں جنوں کے ایک گروہ نے قرآن کی تلاوت سنی، اس واقعہ کو اس سورت میں ذکر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ ’’اے محبوب ﷺ آپ بتا دیں کہ کچھ جنات نے میرا قرآن سنا اور وہ ایمان لے آئے اور اس کے رشد وہدایت سے مستفید ہوئے، انہوں نے اعتراف کیا کہ رب کی شان بہت بلند ہے۔ اس کی نہ بیوی ہے اور نہ اولاد ہے۔ جنوں نے کہا کہ ہم میں نیک بھی ہیں اور نہیں بھی ہیں اور ہم کو یقین ہوا کہ ہم اللہ کے قابو سے باہر نہیں جا سکتے۔ ہم نے جب ہدایت سنی یعنی قرآن سنا تو ہم میں سے ایمان بھی لائے اور بھلائی حاصل کی، لیکن جو منکر ہوئے، وہ جہنم کے ایندھن ہوئے۔ آپﷺ فرما دیں کہ اگر انسان سیدھی راہ پر رہے تو اللہ کی طرف سے رزق کی بڑی کشادگی ہے۔

سورۃ المزمل : 73 ویں سورت

یہ مکی سورت ہے20 ، آیات اور 2 رکوع ہیں، نزول کے اعتبار سے تیسری سورت ہے۔ انتیسویں پارہ کے تیرہویں ، چودہویں رکوع پر مشتمل ہے۔ نام پہلی ہی آیت کا لفظ ’’المزمل‘‘ قرار پایا۔ مفسرین کے مطابق پہلا رکوع بالاتفاق مکی ہے۔ دوسرے رکوع کے بارے میں بھی اکثر مفسرین مکی کہتے ہیں، مگر بعض اس کو مدنی قرار دیتے ہیں(کیونکہ اس میں قتال، زکوٰۃ کی فرضیت کا حکم ہے۔) فرمایا : ’’اے کملی والے( محبوب ﷺ) رات میں قیام کیجئے، لیکن آپ کو اختیار ہے کہ یہ قیام نصف شب سے کم ہو یا زیادہ ۔ اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر (اور رعایت مخارج وصفات وغیرہ کے ساتھ) پڑھئے۔ اے میرے محبوب (ﷺ) آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ اور آپ کے صحابہ بھی کبھی دو تہائی رات کے قریب، کبھی آدھی رات کو اور کبھی تہائی رات قیام کرتے ہیں، تاہم مسلمانوں کے لئے آسانی کر دی گئی ہے کہ وہ اپنی آسانی کے مطابق جتنا چاہیں قرآن پڑھیں، کیونکہ ان میں سے کچھ بیمار بھی ہوتے ہیں، کچھ سفر میں ہوتے ہیں اور کچھ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں۔ تو جتنا قرآن میسر ہو پڑھو اور نماز قائم رکھو اور زکٰوۃ دو اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔

سورۃ المدثر: 74 ویں سورت

یہ مکی سورت ہے 56 آیات اور 2 رکوع ہیں۔ نزول کے اعتبار سے چوتھی سورت ہے، انتیسویں پارہ کے پندرہویں سولہویں رکوع پر مشتمل ہے۔ پہلی ہی آیت کا لفظ ’’المدثر‘‘ نام قرار پایا۔ پہلی سات آیات مکہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئیں۔ پہلی وحی کے بعد، کچھ عرصہ وحی نازل نہیں ہوئی دوبارہ انہی آیات سے وحی کا سلسلہ شروع ہوا۔ باقی سورت مکہ میں اعلانیہ دعوت کے بعد پہلے حج کے موقع پر نازل ہوئی۔ فرمایا: ’’اے بالا پوش اوڑھنے والے( محبوب ﷺ) آپ کھڑے ہوجائیں، اللہ سے ڈرائیں، اپنے رب کی عظمت بیان کریں، کپڑے پاک رکھیں، اور داہنی طرف والے جنت میں ہوں گے۔ وہ مجرموں سے پوچھیں گے کہ تم دوزخ میں کس لئے ڈالے گئے۔ وہ کہیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے، مسکینوں کو کھانا نہیں دیتے تھے۔ بیہودہ فکر والوں کے ساتھ تھے اور قیامت کے منکر تھے۔ اب ایسے لوگوں کو کوئی سفارش کام نہیں دے گی۔ *

مزید : کالم