آزادئ صحافت؟

آزادئ صحافت؟
 آزادئ صحافت؟

  

بدھ کو میڈیا نے پاک انگلینڈ کرکٹ سیمی فائنل کی وجہ سے پوری قوم کو گرفت میں لے رکھا تھا اور پاکستانی بھی ٹیلی ویژن کے سامنے منتظر تھے کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے اور جب پاکستان کرکٹ ٹیم نے میدان مار لیا تو پھر تعریفوں اور مبارکبادوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اور الیکٹرانک میڈیا پر سابق کھلاڑی دِل کے پھپھولے پھوڑنے لگے۔یہ دن گزر گیا دُعا تھی کہ اگلا روز اطمینان والا ہو، لیکن یہ ممکن کیسے ہو سکتا ہے کہ آج (جمعرات) وزیراعظم محمد نواز شریف خود جوڈیشل اکیڈیمی جے آئی ٹی کے سوالات کا جواب دینے گئے، اندھے کو چاہئیں دو آنکھوں کے مترادف ہمارے بھائی بندوں کو یہ ایشو مل گیا اور صبح ہی سے سٹوڈیوز میں حضرات اپنی نشستیں سنبھال کر بیٹھ گئے اور عوام کے اعصاب پر سوار ہو گئے، حالانکہ اگر ذرا عمیق نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ کوئی ایسی انہونی بھی نہیں کہ اس کے لئے پورا دن صرف کیا جائے اور ایسے ایسے تجزیئے پیش کئے جائیں جن کا دور دور بھی کوئی تعلق نہیں بنتا، خبر یہ ہے کہ حاضر وزیراعظم خود چل کر ایک ایسی تحقیقاتی کمیٹی کے روبرو چلے گئے جو عدالتِ عظمےٰ کے حکم پر بنائی گئی اور سرکاری افسروں پر مشتمل ہے، وزیراعظم کے اس اقدام کو سراہا جانا اپنی جگہ،لیکن اس پر اتنا ایشو بنا لینا کہ پوری قوم مضطرب ہو، کسی طور پرانصاف نہیں،حالانکہ اندر کی خبر والے ٹامک ٹوئیاں مارتے رہ گئے اور روزانہ بولنے والوں پر ہی گزارہ کرنا پڑا۔ ان حالات اور میڈیا کے کردار کو آزادئ صحافت اور اظہار کا نام دیا جا رہا ہے، حالانکہ اس کوریج اور اسے اتنا بڑا ایشو بنانے سے صحافتی اقدار کی کوئی خدمت بھی نہیں ہوئی، ایشو بنانے اور اس پر خیال آرائی والے خوش ہیں کہ یہ آزادی ہے، جو حقیقی معنوں میں نہیں کہ اس پر اعتراض بھی اور اسے مادر پدر آزاد آزادی سے بھی موسوم کیا جاتا ہے اور ہمارے بعض دوستوں کا خیال ہے کہ یہ سب مخصوص حلقوں کو یہ جواز بھی فراہم کر رہے ہیں کہ وہ اس ’’آزادی‘‘ کے حوالے سے نئی قدغنوں کا سوچیں اور عمل کریں، جہاں تک آزادئ صحافت کا تعلق ہے تو یہ ایک ’’جادوئی‘‘ مطالبہ بن کر رہ گیا اور جس آزادی کے لئے جدوجہد ہوئی، جیل، کوڑے، برطرفیاں اور ادارے بند ہوئے وہ اب تک نہیں مل پائی کہ اس کا نام ہے جو ’’دیکھو وہ لکھو اور عوام کو بتاؤ‘‘ اس سلسلے میں مزید بات کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ آزادئ صحافت کی تاریخ پر ذرا روشنی ڈال لی جائے۔

ہماری معلومات کے مطابق اور پھر اس تحریک میں حصہ لینے والے ایک ادنیٰ کارکن کی حیثیت سے قدغن کا سلسلہ تو قیام پاکستان کے بعد ہی سے شروع ہو گیا تھا،انگریز دور میں روزنامہ ’’زمیندار‘‘ ہدف رہا اور روزنامہ ’’سفینہ‘‘ کو بھی مشکلات برداشت کرنا پڑیں تاہم پاکستان بن جانے کے بعد والی سیاسی حکومتوں نے بھی مہربانی فرمائی اور روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ تک کو بند کیا۔ بہرحال اصل گرفت کا سلسلہ ایوب خان کی مارشل لاء سے شروع ہوا اور پہلا وار 1959ء میں روزنامہ ’’امروز‘‘ روزنامہ ’’پاکستان ٹائمز‘‘، ماہنامہ ’’لیل و نہار‘‘ اور بعد میں ماہنامہ ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ شائع کرنے والے ادارے کو سرکاری تحویل میں لے کر کیا گیا۔ یہ ادارہ تحریک پاکستان کے کارکن ترقی پسند رہنما میاں افتخار الدین نے قائم کیا اور ترقی پسند نظریات کا حامل سمجھا جاتا تھا۔ پی پی ایل (پروگریسو پیپرز لمیٹڈ) میو ہسپتال کے سامنے بھارت بلڈنگ کے ساتھ سابقہ روزنامہ ’’ٹربیون‘‘ والی عمارت میں قائم ہوا اور جریدے اشاعت پذیر ہوتے تھے۔ اس پورے ادارے کو اپریل1959ء کو مارشل لاء کے تحت سرکاری تحویل میں لیا گیا، اور اس کا بورڈ آف ڈائریکٹر نامزد کر دیا گیا۔ فیض احمد فیض، چراغ حسن حسرت اور احمد ندیم قاسمی جیسے حضرات ان کے ایڈیٹر رہے تھے۔ اس سلسلے کی ایک دلچسپ کہاوت یہ بھی ہے کہ پہلے بورڈ آف ڈائریکٹر کے چیئرمین چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب خان کے دوست لاہور میونسپل کارپوریشن کے وائس چیئرمین چودھری محمد حسین مقرر ہوئے تھے۔ انہوں نے انتظام سنبھالا تو پہلی اہم میٹنگ طلب کی۔ دروغ برگردن اوی کسی شریک محفل نے تجویز کیا کہ میٹنگ’’اِن کیمرہ‘‘ ہونا چاہئے۔

چیئرمین کی طرف سے برجستہ پوچھا گیا ’’اتنا بڑا کیمرہ کہاں سے لاؤ گے‘‘ یہ تو ایک کہاوت جو چلی آ رہی ہے۔ ایوب خان نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ آگے بڑھ کر ’’ملکی مفاد‘‘ میں ایک نیشنل پریس ٹرسٹ بنایا،ان جرائد کے علاوہ روزنامہ ’’مشرق‘‘، روزنامہ ’’مارننگ نیوز‘‘ بھی تحویل میں لے کر ٹرسٹ میں شامل کر دیئے گئے، اس اقدام پر احتجاج بیکار گیا اور پھر1963ء میں اسی حکومت نے پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس نافذ کر کے جرائد کے اجراء پر بے شمار اور سخت نوعیت کی پابندیاں عائد کر دیں۔ ہمیں یاد ہے کہ ان اقدامات کے ردعمل میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے جدوجہد کی اور آزادئ صحافت کا نعرہ اپنایا، فیڈریشن نے اپنے اصول وضع کئے تو دو ہی تھے ایک آزادئ صحافت، دوسرا تحفظ روزگار، اس سلسلے میں ایک بھرپور تاریخ ہے جو صحافیوں کی بے مثال جدوجہد کی داستان ہے، بات صرف نیشنل پریس ٹرسٹ تک نہیں رہی، بعد میں جو آزاد اخبارات کہلاتے تھے ان کے خلاف بھی طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے رہے۔ ایک طرف جدوجہد اور ایک طرف یہ صورتِ حال تھی کہ1973ء میں بھٹو حکومت سے پریس پبلی کیشنز آرڈیننس منسوخ کرانے کا مطالبہ منظور کرا لیا گیا۔ تاہم بعد میں اس دور میں بھی قدغن والے اقدامات ہوتے رہے۔

اس دور میں آزادئ صحافت کی تشریح کے حوالے سے بات ہوتی تھی تو صحافی اپنی بات کرتے اور جدوجہد کرتے تھے تاہم جوں جوں سلسلہ آگے بڑھا فائدہ مالکان کو ہوا کہ آجر حضرات کو ہی پورا اختیار ہے کہ وہ شائع ہونے والے مواد کے بارے میں فیصلہ کریں اور اب تو الیکٹرونک میڈیا کا دور ہے اور یہ میڈیا بھی آزادی سے لطف اندوز تو ہو رہا ہے،لیکن پالیسی کے حوالے سے ابہام موجود ہیں۔ آج جو صورتِ حال ہے اس سے ہمیں بھی خدشہ ہے کہ حکومت جب بھی مضبوط اور طاقتور ہوئی وہ ضابطہ اخلاق کے نام پر نئی قیود کا سلسلہ شروع کر دے گی کہ ضابطہ اخلاق تیار ہی نہیں ہو رہا، جس کے لئے مطالبہ ہے کہ تمام فریقوں(معہ کارکن صحافیوں+ایڈیٹر حضرت+ آجر حضرات) کی باہمی مشاورت سے ایک قابلِ قبول ضابطہ اخلاق منظور کر کے نافذ کیا جائے کہ کوئی بے جا قد غن قبول نہیں ہو گی اور یہ بھی ممکن نہیں کہ آزادی مادر پدر آزاد ہو، جدوجہد اور تحریک کی داستان طویل ہے یہاں سما نہیں سکے گی۔ کوشش کریں گے کہ قسط وار سہی تفصیل سے لکھ دیں، تاہم یہ گزارش ضروری ہے کہ اس سلسلے میں اے پی این ایس، سی پی این ای اور پی ایف یو جے میں اتفاق رائے بھی لازم ہے، بدقسمتی سے پی ایف یو جے ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے، ہماری عرض ہے کہ اس صورتِ حال کو سنبھالنے میں مدد دی جائے کہ یہ پھر سے متحد ہو سکے کہ آزادئ اظہار اور آزادئ صحافت کی جدوجہد کارکنوں کی متحدہ تنظیم کے بغیر ممکن نہیں۔

مزید : کالم