جے آئی ٹی کا عید گفٹ

جے آئی ٹی کا عید گفٹ
 جے آئی ٹی کا عید گفٹ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اگرپہلے جے آئی ٹی میں شامل افسران کی جے آئی ٹی ہوجاتی تو تنازعات کے گڑھے میں نہ گرتے اور نہ ہی انہیں کاؤنٹر اٹیک کے شیلٹر میں پناہ لینے کی ضرورت محسوس ہوتی۔اگر کسی افسر کا ماضی داغدارہے تولامحالہ انگلیاں تواٹھیں گی۔۔۔ تنازعات اور جواب الجواب کی فضا میں کاروباری ماحول ضرور خراب ہوگا۔

عید کے موقع پر سرکاری افسران پر مشتمل جے آئی ٹی نے عوام کوسٹاک مارکیٹ میں تاریخی مندی کا تحفہ دیا ہے۔ ایک دن میں ساڑھے تین سو کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی ہوئی، جس سے عوام اور کاروباری طبقے کے اربوں روپے مٹی ہو گئے۔وزیر اعظم پاکستان کے سرمایہ کاری اور کارو باری شعبوں کے لئے پیدا کردہ یقین و اعتماد سے بزنس کمیونٹی میں اعتماد اور کاروباری سرگرمیوں میں استحکام وتسلسل پیدا ہوا۔ اقتصادی ومعاشی شعبوں میں بہتر کارکردگی سٹاک مارکیٹ کے چہرے پر رونق کی صورت میں نمایاں ہو رہی تھی۔ سیاست دانوں کے اودھم اور جے آئی ٹی کی بلاوں سے معاشی عمارت میں دراڑیں پڑنے کا اندیشہ پیدا ہونے لگا ہے۔2013 ء کے الیکشن میں کامیابی کے بعد جب میاں محمد نواز شریف اقتدار میں آئے،انہوں نے خارجہ سرمایہ کاری لانے اور اندرون ملک اقتصادی خوشحالی کے منصوبوں کو پروان چڑھانے کے لئے سرتوڑ کوششیں شروع کی ہیں۔بجلی کی قلت دور کرنے کے لئے بجلی کے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔کئی ایک منصوبے مکمل ہو کر بجلی دینے لگے ہیں۔

حکومت کا سب سے بڑا خوشحالی منصوبہ سی پیک ہے، جس پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔اس منصوبے کی تکمیل سے ملکی برآمدات میں خوش آئند بہتری آئے گی،لاکھوں افراد کو روزگارکے مواقع میسر آئیں گے۔سی پیک کی وجہ سے پاکستان متعدد ملکوں کی دلچسپی کا مرکزبن چکا ہے۔گوادر بندرگاہ آپریشنل ہونے والی ہے۔ائرپورٹ اور ایکسپریس وے پر کام ہو رہا ہے۔پاکستان نے جب سے ملکی ترقی سے ہم آہنگ منصوبوں پر کام شروع کیا ہے ۔ نریندر مودی سرکار کو بہت زیادہ تکلیف محسوس ہورہی ہے۔ پاکستان کو کسی طور خوشحالی سے ہمکنار ہوتا دیکھنا پسند نہیں کرتا اور نہ ہی قوموں کی برادری میں پاکستان اور اس کی قیادت کا بڑھتا ہوا احترام و وقار اسے ایک نظر بھاتا ہے۔نریندر مودی تو پاکستان کے ازلی دشمن ہیں،ان کی مخالفت سمجھ میں آتی ہے، بد قسمتی سے ہمارے اپنے سیاست دان بھی اپنے پروگراموں کے ذریعے ملک کے ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں ۔ حکومت گرانے اور چھیننے کے لئے بار بار کنٹینر دھرنے دیتے ہیں، دارالحکومت کو یرغمال بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔پانامہ لیکس کیس کی سماعت کے دوران بعض محترم جج صاحبان کے جملہ ہائے معترضہ کے بارے میں اصحاب دانش و بینش کا خیال ہے کہ ایسے نہ ہوتا تو بہتر تھا ۔مختلف محکموں سے لئے ہوئے افسران پر مشتمل جے آئی ٹی تلخیوں کو ابھارنے اور یک طرفہ مشن میں رہی سہی کسر پوری کررہی ہے۔اگر صرف تحقیق و تفتیش مطلوب تھی تو اس میں شائستگی کا ماحول برقرار رکھا جا سکتا تھا۔

پولیس کا طریقہ تفتیش آنکھوں کے سامنے آگیا ہے۔انہی افسران کے اختیار کردہ طرز عمل کے نتیجے میں ملک کی سٹاک ایکسچینج کا بھٹہ بیٹھ گیا ہے۔جے آئی ٹی کے افسران کے طرز عمل اور رویے میں تہذیب و تحسین پیدا کرنے کا بندو بست نہ کیا گیا تو ملک کے اندر کاروباری ماحول خراب ترہوتاچلاجائے گا۔عوام اور کاروباری طبقہ چاہتاہے کہ بجلی کے منصوبے اور سی پیک جلد از جلد مکمل ہوں ، تاکہ وافر بجلی ملنے سے ملک میں مینو فیکچرنگ کا شعبہ دن رات کام کرے اور ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہو۔ عوام کے لئے روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہوں۔بد قسمتی سے بعض سیاست دان نہیں چاہتے کہ بڑے ترقیاتی منصوبے جلد مکمل ہوں، کیونکہ ایسی صورت میں انہیں2018 ء کے الیکشن میں نا کامیوں کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ ممتاز صنعتکار جاوید کیانی طارق شفیع اور نیشنل بینک کے صدر سعید احمد افسران کے سامنے پیش ہو چکے ہیں ۔ ان سے ملاقاتوں میں تضحیک کا تاثر سامنے آیا ہے،ایسا نہ ہوتا تو بہتر تھا، افسران کے غیر جانبدارانہ کردار کی سلامتی کے لئے بہتر تھا ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ جب سے ان افسران نے وزیر اعظم پاکستان کے صاحبزادوں ان کے خاندان کے افراد ان کے مرحومین اور متعلقین کو بلوانا شروع کر رکھا ہے، وعدہ معاف گواہ بنانے کے لئے ترغیب و تحریص کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔پاکستان کی سٹاک ایکسچینج اوندھے منہ گر رہی ہے سوچنا چاہئے۔سب متعلقین کو غور کرنا چاہئے۔ ایسا نہ ہوتا تو بہتر تھا ۔

مزید : کالم