نواز شریف بھی جے آئی ٹی میں پیش ہو گئے

نواز شریف بھی جے آئی ٹی میں پیش ہو گئے
 نواز شریف بھی جے آئی ٹی میں پیش ہو گئے

  

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی کے رو برو جمعرات کے روز پیش ہوئے ۔ وزیر اعظم سے کیا سوالات ہوئے، یہ تو وزیر اعظم کی اس لکھی ہوئی تقریر میں درج نہیں تھا جو انہوں نے جے آئی ٹی سے فارغ ہونے کے بعد باہر آکر کی۔ وزیر اعظم کے نو رتن انہیں کیوں کر ایسے مشورے دیتے ہیں جو بلحاظ عہدہ وزیر اعظم کے شایان شان نہیں ۔ پہلے سے لکھی ہوئی تقریر پڑھ کر اپنی تسلی کے لئے یہ کہہ دینا کہ وہ تو اپنی پیدائش سے پہلے کا بھی حساب دے رہے ہیں ، کسی اور کے لئے تسلی بخش نہیں ہے۔ انہوں نے جے آئی ٹی کے اراکین کو کیا جواب دئے ، یہ بھی انہیں ہی پتہ۔ سپریم کورٹ نے یہ جے آئی ٹی پاناما میں خانوادہ شریف کی آف شور کمپنیوں کے اثا ثوں کی جانچ کے لئے تشکیل دی ہے۔ وزیر اعظم کو جے آئی ٹی کی طلبی پر پیش ہی ہونا تھا۔ انہو ں نے کوئی قانون پر احسان نہیں کیا ہے اور نہ ہی کو ئی تاریخ رقم کی جا سکی ہے، انہیں جواب دہی کے لئے اور تحقیقات میں مدد کے لئے آنا ہی تھا کیوں کہ پاناما کے معاملے میں یہ طے ہونا ہے کہ آف شور کمپنیوں میں جو سرمایہ لگایا گیا ہے وہ ملک سے باہر کیسے گیا اور اگر باہر کا ہی تھا تو خانوادہ شریف کے تصرف میں کیسے آیا۔ اگر وہ کسی بھی وجہ سے نہیں آتے تو بار گران ان پر ہی ہوتا۔

پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما ء اکثر یہ رونا روتے ہیں کہ ان کا احتساب ہوتا رہا ہے، ان معصوم عوام کو طفل تسلیاں دینا ہے جن کی ’’ عدالت ‘‘ پر یہ بڑا پکا یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان میں موجودہ انتخابی نظام میں جو سقم پائے جاتے ہیں، معاشرے میں زیر دست کی جو حیثیت ہے اس میں تو یہ رہنما عوام کی جس عدالت کا ذکر کرتے نہیں تھکتے ، اس میں تو ان ہی کی کامیابی یقینی ہوتی ہے۔ یہ وہ جمہوریت ہے جس کا چورن سب نے کھایا ہے اورسب ہی کو ذائقہ لگا ہے۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ جمہوریت کو ’’ڈی ریل‘‘ نہیں ہونے دیں گے ، وہ جمہوریت جس کی جنم دی ہوئی پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں پر اس مقروض ملک کے اربوں روپے سالانہ خرچ ہوتے ہیں۔جون 2013ء میں پاکستان پر کل قرضہ48.1 ارب ڈالر تھا جو جون 2017 ء میں 78.1 ارب ڈا لر ہو گیا ہے۔ کیا جمہوریت کے پروانوں کو علم ہے کہ انہیں اس کی تفصیلات پارلیمنٹ میں فراہم کی گئی ہوں؟ انہیں اس بات سے غرض نہیں کہ ان کی جمہوریت کے چکروں میں ملک اگر ڈی ریل ہوگیا تو کیا ہوگا؟ یہ بات تو سب کو اب بتانا ہی ہوگی کہ کس کے پاس جو بھی سرمایہ ہے وہ کیسے آیا؟ یہ بات کس نے کہی ہے کہ وزیر اعظم نے سرکاری خزانہ میں خورد برد کیا ، کسی نے نہیں کہا ہے ۔ ان سے تو صرف یہ سوال کیا جارہا ہے کہ بیرون ملک موجود ان کے خاندان کا جو سرمایہ ہے وہ کیسے بنا۔ انہیں یہ تو بتانا ہی چاہئے کہ کیا ملک کے قوانین کے مطابق ٹیکس ادا کرکے وہ یہ سرمایہ با ہر لے گئے تھے ، اگر باہر نہیں لے گئے تھے تو ان کے پاس بیرون ملک یہ سرمایہ کیسے آیا۔ وزیر اعظم کے مشیر بھی خوب ہیں، جو انہیں قطر کے کسی شہزادے کا خط بطور ڈھال پیش کرتے ہیں۔ ایسا خط جس کا لکھنے والا اس کی صحت کے بارے میں جوابات دینے پر رضا مند نہیں ۔

وزیر اعظم نواز شریف نے جیسا کہ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ فیصلے کرنے میں ضرورت سے زیادہ تاخیر کرتے ہیں ، ایک بار پھر وہ موقع گنوا دیا جس کے نتیجے میں پنجاب میں ان کی ’’ بلے بلے ‘‘ ہو جاتی۔ سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ آنا ہے وہ تو کچھ لوگوں کو ’’ نوابین جاتی امراء ‘‘ کا مستقبل دیوار پر لکھا ہوا نظر آرہا ہے لیکن وزیر اعظم کو اس سے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہئے تھا۔ انہیں کم از کم پاناما کے معاملے میں تو فائدہ ہوتا اگر پاناما کے معاملے پر بودی سی تقریر کرنے کی بجائے یہ کہہ کر مستعفی ہوجاتے کہ تحقیقات کرا لو اس کے بعد انتخابات بھی کرالو۔ دوسرا موقع وہ آیا تھا جب پاناما مقدمہ کی سماعت کرنے والی پانچ رکنی بنچ میں سے دو اراکین نے اختلافی نوٹ لکھا اور انہیں صادق و امین قرار نہیں دیا۔ اس اختلافی نوٹ پر ہی انہیں مستعفی ہو جانا چاہئے تھا ، تیسرا موقع وہ تھا جب جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ، انہیں علم تھا کہ جے آئی ٹی انہیں بھی طلب کر سکتی ہے۔ اب تک کا آخری موقع گزشتہ روز سے قبل تھا جب جے آئی ٹی نے انہیں طلب کیا۔ وزیر اعظم کے ماتحتوں کے ماتحت افسران نے انہیں طلب کیا، انہیں چاہئے تھا کہ اعلان کرتے کہ وہ وزیر اعظم کی حیثیت سے جے آئی ٹی کے روبرو پیش نہیں ہونا چاہتے کہ اس عہدے کے احترام کے تقاضے ہیں، اس لئے وہ رضا کارانہ طور پر مستعفی ہو رہے ہیں ، اور اب وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے کے منتظر رہیں گے۔ اگر سپریم کورٹ نے انہیں صادق اور امین قرار دیا تو وہ آئندہ انتخابات میں حصہ لیں گے۔ وزیر اعظم نے اپنی لکھی ہوئی تقریر میں کہا ہے کہ جے آئی ٹی سے بڑی عدالت بیس کروڑ عوام کی عدالت ہے۔ وزیر اعظم کی تقریر لکھنے والے صاحب کو اس مرحلے پر یہ مذاق کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی، اس ملک میں سب کو پتہ ہے کہ ’’عوام کی عدالت ‘‘ کے کیا معنی ہوتے ہیں ؟ وزیر اعظم نے بہر حال وہ مواقع ایک ایک کر کے ضائع کر دئے جن کے سبب وہ اپنے تنے ہو ئے سر اور سینہ کے ساتھ عوام کی عدالت میں جا سکتے تھے ۔

مزید : کالم