افغانستان میں مزید امریکی ٹروپس

افغانستان میں مزید امریکی ٹروپس
 افغانستان میں مزید امریکی ٹروپس

  

ملٹری ہسٹری کا طالب علم ہونے کی حیثیت میں مجھے ہمیشہ یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ افغانستان اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں امریکی جرنیلوں کا موجودہ کردار ان کے دوسری جنگ عظیم کے کردار سے اتنا مختلف کیوں ہے۔ یہ خیال مجھے آج رائٹر کی یہ خبر پڑھ کر زیادہ شدت کے ساتھ ہوا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کے تعین کے سلسلے میں اپنے وزیر دفاع جنرل میٹس(Mattis)کو کھلی چھٹی دے دی ہے کہ وہ جو فیصلہ کریں گے، صدر کو وہی منظور ہوگا۔

آئے ذرا ماضی پر نظر ڈالتے ہیں۔۔۔۔ اور دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر امریکی جرنیلوں کے رویوں کی بات کرتے ہیں۔۔۔ اگست 1945ء میں جاپان نے ہتھیار ڈال دئے تھے اور اس سے چار ماہ پہلے مئی 1945ء میں جرمنی نے گھٹنے ٹیک دئے تھے۔ دونوں ممالک کا یہ سرنڈر غیرمشروط تھا۔ اتحادیوں کی فتح ٹوٹل تھی۔ جرمنی اور جاپان ان کے وہ حریف تھے جنہوں نے اسی چھ سالہ خونریز ترین جنگ میں نہ صرف اپنا خون بہایا تھا بلکہ دشمن کو بھی لہو لہو کردیا تھا۔ اپریل1945ء کے آتے آتے جرمنی کا کوئی ایسا چھوٹا بڑا شہر نہیں تھا جو بربادی سے بچ گیا ہو اور یہی حال جاپان کا بھی تھا۔ نہ صرف ہیروشیما اور ناگاساکی بمباری سے سلگ رہے تھے۔ اتحادی اگر چاہتے تو وہ ان دونوں ممالک کو سُلگنے دیتے۔ لیکن انہوں نے ایک عجیب و غریب فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ تمام اتحادیوں کا نہیں، صرف اکیلے امریکی جرنیلوں کا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ امریکہ کے علاوہ دوسرے دونوں اتحادی (برطانیہ ا ور روس) خود اسی جنگ میں لہولہان اور بے بس ہو چکے تھے۔ صرف امریکہ ایسا اتحادی تھا جس کی افواج کا جانی نقصان تو ہوا تھا لیکن اس کی مین لینڈ (Main Land)بالکل صحیح سلامت تھی۔ کسی بھی چھوٹے بڑے امریکی شہر کو اس جنگ نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ امریکی فیصلہ یہ تھا کہ جاپان اور جرمن دونوں کواپنے پاؤں پر دوبارہ کھڑا کیا جائے اور اس فیصلے کی پشت پر دو امریکی جرنیل تھے۔ ایک کا نام جنرل میکار تھر تھا جس نے جاپان فتح کیا تھا اور خطۂ بحرالکاہل میں اتحادی افواج کا سپریم کمانڈر تھا اور دوسرے کا نام جنرل جارج سی مارشل تھا جو امریکی افواج کا اوور آل چیف آف سٹاف تھا۔ جنرل آئزن ہاور ہر چند یورپی اتحادی افواج کا سپریم کمانڈر تھا لیکن وہ بھی جنرل مارشل کے ماتحت تھا اور سارے احکامات جنرل مارشل ہی کی طرف سے ایشو کئے جاتے تھے۔

جنرل میکارتھر نے جس طرح تباہ شدہ جاپان کی مدد کی اور جاپانیوں کو اپنا ہم نوا بنایا اس کی تفصیل کے لئے ایک دفتر چاہئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جاپانی افواج اور جاپانی سویلین، جنرل میکارتھر پر جان چھڑکنے لگے۔ وجہ صرف ایک تھی۔۔۔ میکارتھر نے اپنے امریکی صدر کو ایک نئی سوچ دی تھی۔ اس نے کہا تھا :’’مفتوح کو اتنا ذلیل نہیں کرنا چاہئے کہ وہ مرورِ ایام کے بعد آپ کا دوبارہ دشمن بن جائے‘‘۔۔۔ اس نے جاپانیوں کو ایک نیا آئین دیا، ایک نیا جمہوری ڈھانچہ کھڑا کیا، جاپانی صنعت و حرفت اور زراعت کو ازسر نو استوار کیا اور تعلیم، صحت، بہبودِ عامہ اور زندگی کے ہر شعبے میں جاپانیوں کی دل کھول کر مدد کی۔۔۔ دوسری طرف یہی کچھ جنرل جارج سی مارشل نے جرمنی میں کیا۔ اس نے جرمنی کی ٹوٹل بربادی کو ٹوٹل شادی میں تبدیل کردیا۔ اس پلان کو تاریخ میں ’’مارشل پلان‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اینٹیں اور سیمنٹ تک امریکہ سے آتا اور تباہ شدہ جرمنی کی تعمیر نو میں مدد دیتا رہا۔ امریکہ سے جرمنی تک دیو قاست امریکی ٹرانسپورٹ طیاروں کا ایک ’’فضائی پل‘‘ بنادیا گیا تھا جس پر دن رات فضائی ٹریفک رواں دواں رہتی۔ اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے جاپان اور جرمنی جو دوسری عالمی جنگ میں امریکہ کے بدترین دشمن تھے، بہترین دوست بن گئے اور آج تک دوست ہیں۔ دونوں نے صنعتی ترقی کے ریکارڈ قائم کئے ہیں لیکن دونوں کی ’’وارانڈسٹری‘‘ زیادہ ڈویلپ نہیں ہوسکی۔ جاپان نے وزیر اعظم ایپے کی سرکردگی میں اگرچہ دفاعی شعبے کو آگے بڑھانے کی طرف کئی اقدامات اٹھائے ہیں لیکن جاپان آج بھی اس ،خطہ ارض (مشرق بعید) پر جنوبی کوریا کے بعد سب سے بڑا امریکی اتحادی ہے۔ دوسری طرف جرمنی بھی چانسلر مارکل کی سرکردگی میں امریکی مفادات کا مضبوط ترین نگہبان، اتحادی اور حلیف ہے۔ ایک طویل عرصے تک جرمنی میں وارساپیکٹ اور نیٹو افواج ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے صف بند رہیں۔ آج اگرچہ مشرقی اور مغربی جرمنی مل کر ایک ہو چکے ہیں اور سوویت یونین ٹوٹ کر روس بن چکا ہے مگر جرمنی آج بھی امریکہ کا اسی طرح کا قوی ترین یورپی حلیف ہے جس طرح کا جاپان ایشیائی حلیف ہے۔۔۔ اس امریکی دوستی کی بنیاد جیسا کہ اوپر کہا گیا دوامریکی جرنیلوں نے رکھی۔ لیکن اس کے برعکس جس بات پر مجھے حیرانی ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ آج کے امریکی جرنیل اپنے اس کلچر کی پیروی کیوں نہیں کرتے جو جنگ عظیم دوئم کے خاتمے پر ان کے پیشرو جرنیلوں نے جاپان اور جرمنی کے ساتھ روا رکھا تھا؟

اب ذرا 21ویں صدی کے آغاز کی طرف آتے ہیں۔۔۔۔ چلو مان لیتے ہیں نو گیارہ کی پلاننگ افغانستان میں بیٹھ کر کی گئی تھی۔ بہت سے مبصروں کے نزدیک نوگیارہ اسرائیل نے پلان کیا تھا۔تاہم اگر ہم امریکی نقطۂ نظر کو تسلیم کرلیں کہ نوگیارہ افغانستان میں بیٹھ کر پلان کیا گیا تھا تو کیا ستمبر 1939ء میں ہٹلر نے پولینڈ پر چڑھائی نہیں کی تھی جو برطانوی اتحادی تھا؟ یا پھر مئی 1940ء میں فرانس پر قبضہ نہیں کیا تھا جس میں برطانوی سمندر پار فوج کا ایک بڑا حصہ موجود تھا جسے جرمنوں نے شکست فاش دے دی تھی اور ایک بڑی تعداد ڈنکرک راہ سے بچ کر نکل گئی تھی۔۔۔جرمنی کے بعد جاپان کی طرف آئیں ۔۔۔ کیا دسمبر 1941ء میں جاپان نے امریکی بحری مستقر پرل ہاربرپر حملہ کرکے اسے برباد نہیں کردیا تھا؟۔۔۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو نوگیارہ میں افغانسان کا جرم جرمنی اور جاپان کے جرائم سے تو بہت ہی کم تھا کیا جرمنی کے فرانس پر حملے میں مارے جانے والوں اور جاپان کے پرل ہاربر پر حملے میں مارے جانے والوں کی تعداد ستمبر2001ء میں امریکی تجارتی مرکز پر حملے میں مارے جانے والوں سے کم تھی؟ حقیقت یہ ہے کہ فرانس پر جرمن حملے اور پرل ہاربر پر جاپانی حملے کا نوگیارہ کے حملے سے کوئی مقابلہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ تو پھر اس کی وجہ کیا ہے کہ نوگیارہ کے بعد امریکہ (اور نیٹو) نے افغانستان ، عراق، لیبیا اور شام کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ ان چاروں مسلم ممالک کو ٹوٹل بربادی سے ’’ہمکنار‘‘ کیا اور کوئی امریکی جرنیل ٹس سے مس نہ ہوا۔ کوئی میکارتھر یا جارج سی مارشل بن کر سامنے نہ آیا!

آج افغانستان میں 8400امریکی ٹروپس موجود ہیں۔ امریکی جرنیل ایک سے زیادہ بار اپنے صدر سے مطالبہ کرچکے ہیں کہ کم از کم 5000مزید فوجی افغانستان بھیجے جائیں۔۔۔۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ افغانستان کی جنگ میں گزشتہ 17برسوں میں2300امریکی سولجرز ہلاک اور 17000 زخمی ہو چکے ہیں؟ اور یہ ہلاکتیں اور جراحتیں اس وقت ہوئیں جب امریکی ٹروپس کی تعداد (افغانستان میں) ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔ اگر اس وقت امریکہ ناکام ہوا تھا تو اب صرف (5000+8400)13400 ٹروپس افغانستان میں رہ کر کیا کرلیں گے؟ کس افغان نیشنل آرمی اور کس افغان نیشنل پولیس کو ٹریننگ دے کر افغانستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کردیں گے؟۔۔۔ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ امریکی فوج ، افغانستان کو کبھی فتح نہیں کرسکے گی۔ امریکی جنرل اگر اپنے مزید فوجیوں کو مروانے یا اپاہج بنانے کا پروگرام رکھتے ہیں تو یہ بات دوسری ہے۔

صدر ٹرمپ نے بڑا اچھا کیا ہے کہ افغانستان میں ٹروپس لیول کا فیصلہ خود نہیں کیا بلکہ جرنیلوں پر چھوڑ دیا ہے۔ ٹرمپ جب اپنی دوسری ٹرم کی انتخابی مہم پر نکلیں گے تو کہہ سکیں گے کہ افغانستان میں امریکی ناکامی کا ’’سہرا‘‘ میرے سر نہیں، اپنے جرنیلوں کے سرباندھیئے۔ لیکن ان کا یہ عذرِ لنگ شائد تسلیم نہ جائے۔ امریکی عوام یہ پوچھیں گے کہ جب فیصلے کا وقت تھا تو آپ نے پیٹھ کیوں دکھائی اور اپنے ماتحت جرنیلوں پر یہ فیصلہ کیوں چھوڑا اورمزید امریکی فوجیوں کو موت کے منہ میں کیوں دھکیلا؟تاہم میرا سوال یہ نہیں تھا کہ افغانستان میں کتنے امریکی ہلاک ہوئے یا نہیں ہوئے۔ میں سوچتا ہوں کہ کیا جنرل میکارتھر اور جنرل مارشل نے جاپانیوں اور جرمنوں کی مدد اس لئے کی تھی کہ وہ عیسائی یا بدھ مت کے پیروکار تھے اور جنرل میٹس اور جنرل نکولسن اس لئے افغانستان (اور مشرق وسطیٰ کے دوسرے ممالک) کی بحالی کی بجائے ان کی مزید تباہ حالی کا سامان کررہے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں؟ ۔۔۔ یہ سوال تہذیبوں کے تصادم والے نظریئے کے پس منظر میں ایک سٹرٹیجک اہمیت کا سوال ہے۔ کوئی قاری اگر اس موضوع پر میرے سوال کا جواب دینا چاہیں تو میں ان کا از حد شکر گزار ہوں گا۔

مزید : کالم