اس شرط پر بیوی چاہے تو چار سال بعد دوسری شادی کرسکتی ہے

اس شرط پر بیوی چاہے تو چار سال بعد دوسری شادی کرسکتی ہے
اس شرط پر بیوی چاہے تو چار سال بعد دوسری شادی کرسکتی ہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور( نظام الدولہ) ناچاقی یا کسی اور ایسی صورت میں جب کسی عورت کا خاوند کہیں چلا جائے ،یا گم ہوجائے اور اسکی کوئی خبر نہ مل رہی ہو ،نہ وہ بیوی سے رابطہ کررہا ہوں تو اسلام ایسی عورت کو حق دیتا ہے کہ فقہ کے مطابق دوسری شادی کرلے۔مفتی محمد شبیر قادری کا کہنا ہے کہ جس عورت کا خاوند مفقود الخبر (غائب) ہو وہ امام مالک ؓ کے فتویٰ کے مطابق چار سال تک شوہر کا انتظار کر کے کسی اور جگہ حسب منشاء عقد نکاح کر سکتی ہے۔ مفتی صاحب نے منہاج القرآن کی فتوٰٰی ویب پر ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ احناف کا فتویٰ آج کل اسی قول پر ہے۔ ہماری دانست میں مذکورہ عورت کو مجسٹریٹ کے روبرو پیش ہو کر اور اپنے خاوند کے مفقود الخبر ہونے کا ثبوت دے کر، دوسری شادی کا اجازت نامہ حاصل کر کے دوسری شادی کر لینی چاہیے۔ جب شادی کا حکم بھی معلوم ہو گیا اور مجسٹریٹ کا اجازت نامہ بھی مل گیا تو پہلے شوہر کے واپس آنے کی صورت میں بھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔ کیونکہ اس طرح شرعی مسئلہ کو ریاستی تحفظ حاصل ہو گا۔ یہ عورت دوسرے خاوند کی ہی بیوی رہے گی، پہلے سے کوئی تعلق نہ ہو گا۔ البتہ پہلے شوہر کے ذمے اگر حق مہر یا چار سال کا خرچہ واجب الادا ہے، عورت چاہے بذریعہ عدالت وصول کرے، چاہے تو معاف کرسکتی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس