ملک میں عدالتی احتساب صرف پیپلز پارٹی کی قیادت کاہوا ہے، مخدوم احمد محمود

ملک میں عدالتی احتساب صرف پیپلز پارٹی کی قیادت کاہوا ہے، مخدوم احمد محمود

لاہور( نمائندہ خصوصی) پاکستان پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے صدر و سابق گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمود پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اور نگزیب برکی، فیڈریل کونسل کے رکن عبدالقادر شاہین اور جنوبی پنجاب کے سینئرنائب صدر خواجہ رضوان عالم نے وزیر اعظم نواز شریف کی پانامہ لیکس کے معاملے میں جے آئی ٹی میں پیشی پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے قیام سے لے کر آج تک عدالتی احتساب صرف پیپلز پارٹی کی قیادت کاہوا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو سے لیکر یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف عدالتی فیصلوں اور سزاؤں کا شکار ہوتے ہیں میاں نواز شریف آج پہلی مرتبہ عدالت میں پیش ہوئے ہیں تو انکے درباری اسے تاریخی اقدام قرار دیکر قوم کو بیوقوف اور گمراہ کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی پیشی کے بعد کی لکھی ہوئی بیان بازی سے قوم مطمئن نہیں ہو گی اداروں کو دھمکانے اور کٹھ پتلی کہنے سے وہ پاک صاف نہیں ہو جائیں گے اگر میاں صاحب اتنے سچے اور دودھ کے دھلے ہوئے ہیں تو باہر آکر الزامات کے جواب دیتے اور منی ٹریل کے کاغذات لہرانے کی بجائے اپنے بزنس کے ثبوت میڈیا کے ذریعے عوام کو دکھاتے ۔ لیکن افسوس ان کے پاس الزامات کے جواب نہیں تھے بلکہ ان کی گفتگو سے ثابت ہوا ہے کہ نہال ہاشمی اور دیگر وزراء کے سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی پر غیر آئینی حملے انکی پالیسی کا حصہ تھے آخر کب تک اس قوم کو بیوقوف بنایا جائیگا۔ قوم میاں صاحب سے کرپشن کا حساب مانگا رہی ہے جو ان کے پاس موجود نہیں ان میں تو اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ وہ صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے جے آئی ٹی کے سوالوں اور کرپشن کے الزامات کیا خاک دیں گے انہوں نے کہا کہ شریف خاندان ریکارڈ تبدیل کرنے اور جلانے کے ماہر استاد ہیں اور چند لیگی ملازمین اپنی ملازمت کا حق ادا کرنے کے لیے جے آئی ٹی کو تنقید کا نشانہ بنا کر تعاون نہیں کر رہے۔ پارٹی راہنماؤں نے کہا کہ مہذب قوموں کی یہ روایت رہی ہے کہ اگر سربراہ حکومت پر مائی بدعنوانیوں بے ضابطگیوں اور منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات ہوں تو وہ فورا مستعفیٰ ہو جاتے ہیں پانامہ لیکس تحقیقات کے پیش نطر میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو سٹپ ڈاؤن ہوتے ہوئے فوری مستعفیٰ ہو جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ پانامہ لیکس کے تمام الزامات میاں نواز شریف کے اردگرد گھومتے ہیں جبکہ حدیبیہ پیپر ملز کی مائی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے الزاما ت براہ راست میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف پر ہیں۔ اس طرح سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ذمہ دار پنجاب حکومت کو ٹھہرایا گیا ہے اگر حکمرانوں میں تھوڑی سی بھی اخلاقی شرم باتی ہے تو وہ سٹیپ ڈاؤن کر کے خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے تاکہ جے آئی ٹی کی تحقیقات شفاف انداز میں مکمل ہو سکیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1