مجھے بتائیں کہاں کرپشن کی ، کیا کک بیکس لئے ؟ اب کٹھ پتلیوں کے کھیل نہیں کھیلے جا سکتے : نواز شریف

مجھے بتائیں کہاں کرپشن کی ، کیا کک بیکس لئے ؟ اب کٹھ پتلیوں کے کھیل نہیں ...

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک 228 ایجنسیاں)وزیراعظم نوازشریف نے نے کہا ہے کہ وہ زمانہ گیا جب سب کچھ پردوں کے پیچھے چھپا رہتا تھا: اب کٹھ پتلیوں کے کھیل نہیں کھیلے جا سکتے ۔عوام کے فیصلوں پر مخصوص ایجنڈا چلانے والی فیکٹریاں بند نہ ہوئیں تو آئین اور جمہوریت ہی نہیں ملک کی سلامتی بھی خدا نخواستہ خطرے میں پڑ جائے گی۔فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں پاناماکیس میں سپریم کورٹ کی طرف سے قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی )کے سامنے قریباً تین گھنٹے کی پیشی کے بعدمیڈیاسے گفتگو کر تے ہوئے ٓوزیراعظم نوازشریف نے موجودہ احتساب کو اپنے خاندان کے نجی اور ذاتی کاروبار میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی چوری کی نہ سرکاری وسائل کاغلط استعمال ، ہمارے خاندان اور کاروبار کوبلاوجہ الجھایا اور اچھالا جا رہا ہے، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم( جے آئی ٹی) کے سامنے موقف پیش کر آیا ہوں،جو کچھ جے آئی ٹی میں ہو رہا ہے اس کا سرکاری خزانے میں کرپشن سے کوئی تعلق نہیں ،مخالفین جتنے چاہیں جتن کرلیں ناکام ونامراد ہی رہیں گے، میرے احتساب کاسلسلہ میری پیدائش سے بھی پہلے شروع ہوا ، کبھی کوئی داغ نہیں لگا ،آئندہ بھی سرخروہوں گے ، ان عدالتوں سے سپریم عدالت بھی ہے اور وہ ہے خدا کی عدالت ، جہاں سب کو پیش ہوکر حساب دینا ہوگا، اگلے سال 20 کروڑ عوام کی جے آئی ٹی بھی لگنی ہے جہاں سب کو جواب دینا ہوگا ،اگر عوام کے فیصلے کو روند کر مخصوص ایجنڈا کی فیکٹریاں بند نہ کی گئیں تو آئین اور جمہوریت کے ساتھ ساتھ ملکی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی،ابھی مناسب موقع نہیں ،آنے والے دنوں میں بہت کچھ کہوں گا ۔ نوازشریف نے کہاکہ میں جے آئی ٹی کے سامنے اس لئے پیش ہوا کہ وزیر اعظم کے سمیت ہم سب آئین اور قانون کو جواب دہ ہیں ۔جمہوریت عوام کے فیصلوں کے احترام کا نام ہے ، آج کا دن قانون کی عملداری کے لئے سنگ میل کا درجہ رکھتا ہے ، جے آئی ٹی کے سامنے موقف پیش کرکے آیا ہوں،میری دستاویزات پہلے ہی متعلقہ اداروں کے پاس ہیں آج د وبارہ سے دستاویزات جے آئی ٹی کو دے دی ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاناما لیکس سامنے آتے ہی سپریم کورٹ کاکمیشن قائم کرنیکااعلان کیاتھا ،میری پیشکش کو سیاسی تماشوں کی نذر نہ کیاجاتا تو آج تک یہ مسئلہ حل ہوچکا ہوتا اگر سیاسی مخالفین سازشیں نہ کرتے تو آج یہ نوبت نہ آتی ۔ میری حکومت اورسارے خاندان نے خود کو احتساب کیلئے پیش کر دیا ہے ، ہمارے خاندان اور کاروبار کوبلاوجہ الجھایا اور اچھالا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی تاریخ میں کبھی کسی خاندان کی تین نسلوں کا احتساب نہیں ہو اجس طرح ان کے خاندان کا احتساب کیا گیا لیکن کبھی بدعنوانی کا کوئی الزام ثابت نہیں ہواجاری تحقیقات کا نتیجہ بھی مختلف نہیں ہو گا کیونکہ میں نے اور میرے خاندان نے کچھ غلط نہیں کیا ۔ شریف خاندان کا احتساب میری پیدائش سے بھی پہلے 1936 سے ہو رہا ہے، اس سے پہلے ہمارا احتساب 1972میں پیپلز پارٹی کے دور میں بھی ہوا اور ہمارا احتساب مشرف کی آمریت نے بھی کیا، اس بے دردی سے ہمارا احتساب کیا گیا کہ ہمارے اثاثے قومیائے گئے ۔ہمارے گھروں پر بھی قبضہ کر لیا گیا، اگر ہم پر کرپشن ثابت ہو جاتی تو مشرف کو مجھے سزا دلوانے کیلئے ہائی جیکنگ کے جھوٹے مقدمے کا سہارا نہ لینا پڑتا۔ ہمارے دامن پر نہ پہلے کرپشن کا ذرہ برابر داغ لگا اور نہ آئندہ آئے گا، مخالفین چاہے جتنے جتن کر لیں اور جتنی سازشیں کر لیں وہ ناکام اور نامراد رہیں گے۔ چند روز میں جے آئی ٹی کی رپورٹ بھی سامنے آ جائے گی، لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ 20کروڑ عوام کی عدالت اور جے آئی ٹی بھی لگنے والی ہے، اور اس سے بھی بڑھ کر ایک عدالت خدائے بزرگ و برتر کی بھی ہے جو ظاہر کو بھی جانتا ہے اور باطن کو بھی۔ صرف میرے دور میں اتنی ترقی ہوئی جتنی گزشتہ 65سال میں بھی نہیں ہوئی، میں جب سے وزیر اعظم بنا ہوں اس وقت سے آج تک ملک میں ریکارڈ سرمایہ کاری ہوئی ہے ، وزیر اعظم نے کہا کہ اس ملک کے عوام نے مجھے تیسری بار وزیر اعظم بنایا ہے یہ ان کے میرے اوپر کئے گئے اعتماد کا مظہر ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب ہم تاریخ کا پہیہ موڑ سکے ۔ وہ دور گیا جب پردوں کے پیچھے باتیں ہوتی تھی اس سے پہلے وزیر اعظم نوازشریف بغیر کسی پروٹوکول کے جوڈیشل اکیڈمی پہنچے وہ جے آئی ٹی کی جانب سے مانگی گئی دستاویزات بھی اپنے ساتھ لائے تھے ان کے ساتھ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف، حمزہ شہباز اور حسین نواز بھی تھے تاہم وزیر اعظم تنہا جوڈیشل اکیڈمی میں داخل ہوئے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو بھی ان کے ساتھ جانے نہیں دیا گیا۔ لیگی رہنماوں کی بڑی تعداد نے جوڈیشل اکیڈمی کے باہر وزیراعظم کا استقبال کیا اور ان کے حق میں نعرے لگائے۔وزیر اعظم نے ہاتھ لہرا کر کارکنوں کے نعروں کا جواب دیا۔

نواز شریف

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک228 ایجنسیاں) وزیر اعظم بغیر پروٹول پانامہ جے آئی ٹی میں پیش ہوئے پاکستان میں نئی تاریخ رقم ،قانون کی بالادستی کی روشن مثال قائم کر دی ،مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے نواز شریف کو بطور گواہ طلب کیا تھا، وزیر اعظم نے تین گھنٹے تک اپنے خاندانی کاروبار اور بچوں کے حوالے سے سنجیدہ سوالوں کے خندہ پیشانی سے جواب د یئے ،وزیر اعلیٰ پنجاب بھی جوڈیشل اکیڈمی میں موجود رہے وزیر اعظم نواز شریف پانامہ کیس کی تحقیقات کے حوالے سے سپریم کورٹ کی طرف سے قائم کی گئی ایف آئی اے ،آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندوں پر مشتمل 6رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے ۔اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ان کے بیٹے حسین نواز، وزیراعلی پنجاب شہباز شریف، ان کے بیٹے اور رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز، وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر دفاع خواجہ آصف بھی ان کے ہمراہ تھے ۔یہ افراد بھی جوڈیشل اکیڈمی کے اندر گئے تاہم انہیں ویٹنگ روم میں روک لیا گیا اور وزیر اعظم سے بند کمرے میں ان کے خاندانی کاروبار اور بیرون ملک ان کے بچوں کے کاروبار کے حوالے سے سوالات کئے گئے ۔ ۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے انھیں بطور گواہ طلب کیا تھا۔جے آئی ٹی کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس میں وزیر اعظم نواز شریف کو دستاویزات اور ریکارڈ ہمراہ لانے کا کہا گیا تھا جووہ اپنے ساتھ لے کر پیش ہوئے ۔وزیر اعظم کی جے آئی ٹی میں پیشی کے پیش نظر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے ، اسلام آباد پولیس کے مطابق تقریبا ڈھائی ہزار اہلکار اس موقع پر حفاظتی فرائض سرانجام دیتے رہے ۔۔ اس کے علاوہ میٹل ڈی ٹیکٹر سے بھی کارکنوں کی تلاشی لی گئی۔نواز شریف کی آمد سے قبل آئی جی اسلام آباد اور وزیراعظم کا سیکیورٹی اسٹاف جوڈیشل اکیڈمی پہنچا اور تمام سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ گزشتہ روز بھی وزیر اعظم کی پیشی کے حوالے سے سکیورٹی امور کا جائزہ لیا گیا تھا اور وزیر اعظم کی آمد کے پیش نظر تمام راستوں کی سکیننگ کی گئی تھی ۔ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کو جانے والے تمام راستوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے ۔ اکیڈمی میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ مکمل طور پر بند تھا جبکہ شہریوں کے لیے متبادل راستوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے وقت پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو وفاقی جوڈیشل اکیڈمی کے باہر جمع نہ ہونے کی ہدایت کی تھی تاہم اس کے باوجود کارکنان اور پارٹی رہنماؤں کی بڑی تعداد پہنچ گئی تھی جو پر امن رہے اور کسی قسم کی بد مزگی نہیں ہوئی تاہم کارکنان وقفے وقفے سے نواز شریف کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے۔واضح رہے کہ رواں برس 20 اپریل کو پاکستان کی عدالت عظمی نے پاناما لیکس کیس کے فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے اعلی افسر کی سربراہی میں چھ رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کا حکم دیا تھا۔پاکستان کی سپریم کورٹ نے 20 اپریل کو پاناما لیکس کیس کے فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے اعلی افسر کی سربراہی میں چھ رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کا حکم دیا تھا۔اس فیصلے میں سپریم کورٹ کے تین جج صاحبان نے کمیٹی کو 60 دن کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کرنے کا وقت دیا تھا۔اس کے علاوہ ٹیم کے لیے وضع کیے گئے ضوابط کمیٹی کو ہر 15 دن کے اندر اپنی رپورٹ تین رکنی بینچ کے سامنے پیش کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔22 مئی کو وزیر اعظم اور ان کے دو بیٹوں کے خلاف پاناما لیکس سے متعلق تحقیقات کرنے والی ٹیم کی نگرانی کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کہا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم کو اپنا کام مکمل کرنے کے لیے 60 روز سے زیادہ کی مہلت نہیں دی جا سکتی۔وزیر اعظم نوازشریف کی پاناما جے آئی ٹی میں پیشی کے موقع پر ان سے گیارہ سوالات کئے گئے جن میں کاروباری تفصیلات اور منی ٹریل کے حوالے سے پوچھا گیا تھا۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے وزیر اعظم نواز شریف کیلئے سوالنامہ تیار کیا تھا جس میں ان سے کاروباری تفصیلات کے بارے میں دریافت کیا گیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ گلف سٹیل ملز کا قیام کیسے عمل میں آیا؟گلف سٹیل کو فروخت کیسے کیا ؟ ، اس سٹیل کو فروخت کرنے کی وجہ کیا تھی؟ سٹیل کے ذمہ واجب الادا قرض کا کیا بنا؟ ، اس ملز کا پیسہ جدہ ، قطر اور برطانیہ کیسے پہنچا؟ ہل میٹل کمپنی کیسے وجود میں آئی؟ حسن، حسین نواز کے پاس فلیٹ خریدینے کے وسائل کہاں سے آئے؟نیلسن اور نیسکول کا حقیقی مالک کون ہے؟ حسن نواز کے پاس فلیگ شپ کمپنی اور لندن میں کاروبار کیلئے پیسہ کہاں سے آیا؟ حسین نواز نے والد کو کروڑوں روپے تحفے میں کیسے دیئے؟ قوم سے خطاب اور اسمبلی میں تقریر کے بیانات میں تضاد کی وجہ کیا ہے؟۔ سوالات کی تفصیل اس طرح سے ہے1۔گلف سٹیل ملز کا قیام کیسے عمل میں ا?یا؟2۔گلف سٹیل کو فروخت کیسے کیا؟ 3۔گلف سٹیل کو فروخت کرنے کی وجہ کیا تھی؟4۔گلف سٹیل کے ذمہ واجب الادا قرض کا کیا بنا؟5۔گلف سٹیل کا پیسہ جدہ، قطر اور برطانیہ کیسے پہنچا؟6۔ہل میٹل کمپنی کیسے وجود میں ا?ئی؟7۔حسن، حسین نواز کے پاس فلیٹ خریدینے کے وسائل کہاں سے ا?ئے؟ 8۔نیلسن اور نیسکول کا حقیقی مالک کون ہے؟9۔حسن نواز کے پاس فلیگ شپ کمپنی اور لندن میں کاروبار کیلئے پیسہ کہاں سے آیا؟10۔حسین نواز نے والد کو کروڑوں روپے تحفے میں کیسے دیئے؟11۔قوم سے خطاب اور اسمبلی میں تقریر کے بیانات میں تضاد کی وجہ کیا ہے؟ نجی ٹی وی چینل نے اپنے ذرائع کے حوالے سے وزیر اعظم کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے اندرونی کہانی سامنے لانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیشی کے دوران وزیر اعظم محمد نواز شریف نے جے آئی ٹی کے ارکان سے پوچھا کہ نشاندہی کی جائے کہ میں نے کیا اور خۃٓن کرپشن کی اور کہاں کک بیکس لئے، آج ہی مجھ سے تمام سوالات پوچھیں ، اس کے جواب میں جے آئی ٹی ارکان نے کہا کہ ہم وہی سوال پوچھ رہے ہیں جو ہمیں سپریم کورٹ کی جانب سے دئیے گئے تھے۔ وزیر اعظم نے پیشی کے بعد15منٹ انتظار گاہ میں گزارے اور میڈیا کے لئے لکھی گئی تقریر میں خود ترامیم کیں۔ وزیر اعظم نے جے آئی ٹی ارکان سے مکالمہ بھی کیا ا اور کہا کہ میں کسی بھی صورت پاکستان کو اندھیروں میں جانے نہیں دوں گا۔میرے والد نے کاروبار کیا جو اب بچے کر رہے ہیں، انہوں نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ میرا نام پانامہ پیپرز میں نہیں ہے اور نہ میں کوئی کاروبار کر رہا ہوں ،مجھ سے میری وزارت عظمیٰ کے بارے میں جو سوال کرنا ہے کریں میں چاہتا ہوں کہ ایک ہی بار تمام معاملات ختم ہو جائیں ۔

مزید : صفحہ اول