بے باک ترجمان، اکانوے سالہ رانا نذر الرحمٰن

بے باک ترجمان، اکانوے سالہ رانا نذر الرحمٰن

سرکاری ریکارڈ کے مطابق رانا نذر الرحمٰن آج اکانوے برس کے ہو گئے۔ تو سلامت رہے ہزار برس، ہر برس کے ہوں دن ہزار سال۔ اس عمر میں بھی ان کا وہی بانک پن، وہی گھن گرج، وہی لڑ بھڑ جانے کی امنگ، لاہور جب صرف لاہور تھا تو رانا نذر الرحمن اس شہر کا بے باک ترجمان تھا، اس کے سامنے کسی کی دال نہ گلتی تھی، کسی کی آواز نہ نکلتی تھی، وہ جس طرف رخ کرتا، طوفان بھی راستہ بدل لیتے۔

رانا صاحب واحد سیاستدان ہیں جنہوں نے اپنی سرگزشت لکھی ہے اور بے دھڑک ہو کے لکھی ہے، بلا کم و کاست سب کچھ لکھ دیا ہے، ایک شاعر اور ادیب تھے جوش ملیح آبادی، انہوں نے یادوں کی بارات لکھی اور سب کچھ لکھا مگر اس کے پہلے ایڈیشن کے بعد اس پر قینچی چل گئی اور یادوں کی بارات کا لطف جاتا رہا، اس کا رنگ پھیکا پڑ گیا، رانا نذر الرحمٰن کی سرگزشت کئی بار چھپی، ابھی اس کا نیا ایڈیشن نکلا ہے اور تیور بتاتے ہیں کہ اس میں مرچ مصالحہ اور تیز کر دیا گیا ہے، رانا صاحب نے کسی کا لحاظ نہیں کیا، کسی کا پردہ نہیں رکھا اور اب تک کوئی بھی ان کے لکھے ہوئے کی تردید کی جرأت بھی نہیں کر سکا، ایسی کھری کھری سنائی ہیں کہ ان کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ کیا انہوں نے کسی سے دوستی نبھائی،ہاں ایم حمزہ صاحب سے نبھائی اور دونوں میں خوب قربت کا رشتہ تھا، حمزہ صاحب لاہور آتے تو ان کے گھر سمن آباد میں قیام فرماتے، پہلا فون مجھے کرتے، میرا گھر ایک بلاک دور تھا، شوق فراواں کے ساتھ حمزہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہو جاتا، حمزہ صاحب نے کبھی اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، رانا صاحب بھی جس ڈگر پر چلے، اس سے انہیں کوئی ہٹا نہیں سکا، ان کے قدم زندگی کے پل صراط پر تو کبھی ڈگمگائے نہیں۔

وہ لغوی معنوں میں سیلف میڈ انسان ہیں۔ گوجرانوالہ کے ایک پس ماندہ گاؤں بھروکے چیمہ میں پیدا ہوئے، والد طبابت کرتے تھے۔ محمد اسحق بھٹی کی تحقیق کے مطابق خورشید قصوری کے جد امجد مولوی غلام حسین سیالکوٹ سے آ کر یہاں آباد ہوئے، کچھ زمین خریدی، ایک مسجد بنائی جس کی امامت بھی کراتے تھے، ان کے بیٹے عبدالقادر وکیل بنے، ایک بار قصور میں پیشی کے لئے گئے تو وہیں کے ہو رہے ۔ محمود علی قصوری ان کے بیٹے بھی وکیل بنے۔

پنجابی زبان کی کتاب مرزا صاحباں بھی اسی گاؤں میں لکھی گئی، اس پس منظر میں رانا نذر الرحمٰن آسمان سیاست کے درخشندہ ستارے کے طرح چمکے، اور پون صدی تک وہ شہریانِ لاہور کے بے باک ترجمان کہلائے۔

یادگار زمانہ ہیں یہ لوگ۔ ہم جانے والوں کو تو یاد کرتے ہیں مگر جو ہیرے ہماری صفوں میں ابھی موجود ہیں، ان کی قدر کرنا سیکھیں، رانا نذر الرحمٰن کی سرگزشت۔ صبح کرنا شام کا لانا۔ ایک صدی پر محیط ہے، اس کے سات سو صفحات ہیں، ہر صفحے کے پس پردہ جھانکنے کے لئے ایک صدی چاہئے۔ یہ کتاب برصغیر کے سیاسی، معاشرتی، تہذیبی ، ثقافتی اور تاریخی زیرو بم کی آئینہ دار ہے۔

پدرم سلطان بود والا دعویٰ آپ کو رانا صاحب کے منہ سے سننے کو نہیں ملے گا، اس لئے کہ وہ تلاش روزگار کے لئے لاہور آئے تو دارالکتابت چوک دالگراں میں انہوں نے رہائش اختیار کی اور سترہ دن تاج کمپنی میں کام کیا، پھر وہ ریلوے میں بھرتی ہو گئے جہاں انہیں ٹائم کیپری کا کام ملا۔ مزید تعلیم کا شوق انہیں لا کالج لے گیا مگر اس طرح کہ وہ رات کو تسنیم اخبار کے دفتر میں سوتے، صبح اٹھ کر اخبار کے بنڈل باندھتے اور یہ بنڈل ٹرکوں کے اڈے پر پہنچا کر لا کالج جانے کی تیاری کرتے۔

میرا نہیں خیال کہ رانا صاحب کے بارے میں کوئی یہ کہہ سکے کہ وہ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے تھے، میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ کیا رانا صاحب کو خود بھی یہ احساس ہے کہ وہ ایک سیلف میڈ انسان ہیں اور وہ امیر زادے کبھی نہ تھے مگر رانا صاحب نے ایک کامیاب زندگی بسر کی، امارت ان کے پاؤں چاٹتی رہی۔ انہوں نے جو کاربار شروع کیا، اس میں منافع ہی کمایا، یہ مقدروں کی بات ہے اور صرف خدا کی دین ہوتی ہے۔ وہ خدا کے بندوں کو نہیں بھولتے، حاجتمند کی دستگیری کرنا فرض سمجھتے ہیں، رمضان میں گھر گھر راشن پہنچاتے ہیں، حتیٰ کہ پچھلے سال میرے گھر میں گندم کی ایک بوری آ گئی، میں نے ڈرائیور سے کہا کہ کسی ضرورت مند کو دے دو، میری اپنی ایک ایکڑ زمین سے تیس من گندم گھر میں آ چکی ہے اور اسے سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ رانا صاحب کئی ماہ تک تحفہ واپس کرنے پر مجھ سے ناراض رہے۔

ان کے تعلقات کس سے نہیں تھے، نوابزادہ نصر اللہ خان سے ،مولانا مودودی تک، چوہدری ظہور الٰہی سے لے کر علامہ احسان الٰہی ظہیر تک، مفتی محمود سے لے کر نوجوان بارک اللہ خان تک گننے بیٹھیں تو یہ تعداد سینکڑوں میں نہیں۔ ہزاروں سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔

رانا نذر الرحمٰن نے اپنی سرگزشت میں تحریک پاکستان کا بھی اجمالی نہیں بلکہ تفصیلی تذکرہ شامل کیا ہے جون تھری پلان، ری کلف ایوارڈ، مسلم لیگی خواتین کی جدوجہد اور پھر تقسیم کے دوران خونریزی جس پر قائد اعظم بھی لہو کے آنسو رو دیئے تھے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا درد ناک باب۔ جمہوری دور کی طوائف الملوکی، فوجی آمریتوں کے نوحے، کیا کچھ ان کی آنکھوں نے نہیں دیکھا، اور جو دیکھا، اسے دیانتداری سے قلم بند بھی کر دیا۔

میں نے اس کتاب کو کئی مرتبہ پڑھا ہے، کسی کا تاثر یہ ہو سکتا ہے کہ یہ شرارتی کتاب ہے مگر آپ اس کے واقعات کو جھٹلا نہیں سکتے، یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں مصلحت سے کام لینا چاہئے تھا مگر مصلحت، بد دیانتی کا دوسرا روپ ہے۔ ملمع کاری، جعل سازی، ریا کاری اور تعصب کے عیب رانا صاحب کے نزدیک بھی نہیں پھٹکے۔ انہیں ایک ہی فن آتا ہے اور وہ ہے سچ بولنا، حق گوئی سے کام لینا۔ جن لوگوں کے بارے میں انہوں نے کھری بات کی ہے، انہیں یہ ناگوار تو گزرے گی مگر رانا صاحب اگر اسے فرشتہ صفت لکھ دیتے تو یہ ان کی طبیعت کے خلاف ہوتا۔ وہ شیطان کو فرشتہ نہیں کہہ سکتے،

میں زہر ہلا ہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

ایک انسان کے طور پر رانا صاحب گداز دل کے مالک ہیں، اس عمر میں بھی بھرپور قہقہہ لگاتے ہیں۔ اپنے اوپر بھی اور دوسروں کے اوپر بھی، یہی اصل زندگی ہے اور یہی زندہ دلی ، ان کی طویل اور صحت مند زندگی کا راز ہے۔

نوٹ:۔ یہ مضمون رانا نذر الرحمٰن کی زندگی کے آخری ایام میں لکھا گیا۔

مزید : ایڈیشن 1