ہمارے رانا صاحب

ہمارے رانا صاحب

آزادی کے بعد کے لاہور کی سماجی اور سیاسی تاریخ نذر الرحمان رانا کے ذکر کے بغیرمکمل نہیں ہوتی۔ وہ ایک سیلف میڈ آدمی تھے۔ حافظ آباد سے میڑک کا امتحان پاس کر کے لاہور آگئے۔ محنت مزدوری سے حلال رزق کمانے اور تعلیم مکمل کرنے کا جذبہ فراواں تھا۔جن دنوں تقسیم کے ہنگامے شروع ہوئے اس وقت انہوں نے بی ، اے انگریزی کا پرچہ دیا تھا۔ وہ قیام پاکستان کے بعد یونیورسٹی لاء کالج میں ایل ایل بی کی پہلی کلاس کے سٹوڈنٹ تھے۔ تھوڑے دن ریلوے کی ملازمت کرنے کے بعد ایک دوپرائیویٹ اداروں میں کام کیا۔ ذاتی کا روبار کرنے کا شوق انہیں سائنسی آلات درآمد کرنے کی طرف لے گیا۔ دو دوستوں کے ساتھ پارٹنرشپ کی اور دیکھتے ہی دیکھتے کاروبار وسعت اختیار کرگیا۔ وہ دوست ساتھ چھوڑ گئے تو We brothersکی پروپرائٹر شپ تنہا ان کے ہاتھوں میں آگئی۔

نذرالرحمان رانا لاء کالج کے طالب علم تھے جب اسلامی جمعیت طلبا کی بنیاد پڑی۔ انہیں اس کا اساسی رکن بننے کا شرف حاصل ہوا۔ جماعت اسلامی اور جمعیت نے مل کر اسلامی دستور کی مہم چلائی تو رانا مرحوم کی گرفتاری عمل میں آگئی۔ اس کے بعد ان کا سیاست سے رشتہ مضبوط ہوگیا۔ ان کی ذہن سازی میں مولانا ابوالاعلی مودودیؒ کے لڑیچر نے اہم کردار ادا کیا۔ ہوتے ہوتے وہ مولانا کے بہت قریب ہوگئے۔ مولانا کی پھانسی کی سزا جب عمر قید میں تبدیل ہوئی تو پہلے پہل رانا مرحوم ہی یہ خبر لے کر مولانا کے گھر پہنچے۔ بلکہ مولانا کے کپڑے وغیرہ لے کر میانوالی جیل گئے۔

رانا مرحوم متحرک شخصیت کے مالک تھے۔ ایوب خان دور میں مقامی یونین کونسل کے چیئرمین رہے اور اس حیثیت سے اہل علاقہ کی خدمت میں سرگاڑی پاؤں پہیہ کیے رکھا۔ سادہ اورملن سار شخصیت کے مالک تھے۔ ہر کوئی انہیں کسی بھی وقت مل سکتا تھا۔ خدمت خلق کا انداز یہ تھا کہ کوئی شخص انہیں تصدیق کے لئے کاغذات دے جاتا تو مہر وغیرہ لگا کر کاغذات لوٹانے خود چل پڑتے۔ بہت صاف گو اور نڈر تھے۔ اگر آج کی سیاست کے مطابق ڈپلومیسی اختیار کرتے اور مصلحت اندیشی کو ملحوظ رکھتے تو لاہور کے ہی نہیں صف اول کے سیاستدان ہوتے۔ بلکہ لاہور کے بہت بڑے رئیس بھی ہوتے مگر انہیں تو قدرت نے وکھری ٹائپ کا بندہ بنایا تھا۔

رانا مرحوم نظریاتی طور پر جماعت اسلامی سے متاثر تھے مگر جاگیرداری اور سرمایہ داری کے معاملے میں خاصے ریڈیکل واقع ہوئے تھے۔ انہوں نے سیاست کے دوائر میں دونوں طبقوں کے لچھن بہت قریب سے دیکھے تھے۔1977ء کے پی این اے کے انتخابی منشور کے پہلے مسودہ میں جاگیرداری کے خاتمے کا پروگرام شامل تھا جسے بقول رانا مرحوم بیگم عابدہ حسین اور دیگر کچھ زمینداروں نے منشور سے حذف کروا دیا۔ رانا صاحب کو اس کارروائی کا علم ہوا تو وہ رہنماؤں پر برس پڑے۔ موجودہ حکمران خاندان کی معاشی ریشہ دوانیوں کے بارے میں انہوں نے کافی مواد جمع کر رکھا تھا، اکثر اسے کتابی صورت دینے کا ذکر کرتے لیکن اس حوالے سے یک سو نہ ہو سکے۔ بلکہ دو سال پہلے اس مواد کی گمشدگی پر پریشان ہوگئے، کسی نے کان میں پھونک دیا کہ یہ حرکت خالد ہمایوں کی ہے۔ ان دنوں راقم ان کی خود نوشت ’’صبح کرنا شام کا‘‘ پر نظرثانی کے سلسلے میں ان کی معاونت کر رہا تھا۔ رانا صاحب اس حوالے سے مجھ سے روٹھے روٹھے رہتے تھے۔ مجھے کوئی ڈھنگ نہ سُوجھتا تھا کہ ان کی غلط فہمی دور کر دیتا۔

رانا صاحب نے عملی سیاست کے لئے پہلے پہل چودھری محمد علی کی نظام اسلام پارٹی سے تعلق جوڑا۔ پھر جب نظام اسلام پارٹی دوسری تین پارٹیوں کے ساتھ مل کر پاکستان جمہوری پارٹی میں ڈھل گئی تو نورالامین اس کے مرکزی صدر بنے۔ نوابزادہ نصراللہ خان مغربی پاکستان جماعت کے صدر منتخب ہوئے۔ اس طرح سے رانا مرحوم نوابزادہ کے بہت قریب ہو گئے ۔نوابزادہ میں روائتی زمینداروں اور جاگیردارں والی بات نہ تھی اس لئے ان کے ساتھ بڑی دیر خوب نبھی۔ رانا صاحب ان کے کسی فیصلے یا رائے پر سخت تنقید بھی کر لیتے تھے لیکن نوابزادہ ناراض نہیں ہوتے تھے۔ دراصل وہ رانا کے خلوص اور ایثار کے بے حد معترف تھے۔

رانا صاحب کچھ دیر پیر پگارا کی فنکشنل لیگ سے بھی وابستہ رہے۔ وہاں بھی کوئی معاملہ غلط دیکھتے تو بولے بغیر نہ رہتے لیکن پیر صاحب ان کی بزرگی اور صدق شعاری کے پیش نظر مسکرا دیتے اور انہیں پورا پورا احترام دیتے۔

رانا صاحب نے اہل لاہور کی خدمت کے لئے ’’انجمن شہریان لاہور‘‘ قائم کی۔ اس پلیٹ فارم سے انہوں نے لاہوریوں کے بے شمار مسائل حل کروائے قبرستانوں کو ناجائز تجاوزات سے نجات دلوائی۔ کئی سکول کھلوائے اور فوری طبی امداد کے لئے ڈسپنسریاں قائم کروائیں۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران بھی اور بعد میں بھی اہل لاہور کو دفاعی سرگرمیوں کے لئے تیار کیا۔ انجمن کی طرف سے کئی ملکی دانشوروں، سیاستدانوں، ادیبوں اور علمائے دین کو خطاب کی دعوت دی۔ ان پروگراموں کا مقصد جہاد کا ولولہ زندہ رکھنا تھا۔

رانا صاحب مرحوم مطالعہ کے بے حد شوقین تھے ایک دفعہ انہیں نہرو کی کتاب ’’ڈسکوری آف انڈیا‘‘ کی تلاش تھی۔ میں نے بتایا یہ کتاب دھرم پورہ کے ایک اولڈ بک سیلر کے پاس موجود ہے اس وقت عشاء کا وقت ہو رہا تھا لیکن رانا صاحب مجھے اسی وقت اپنے ساتھ لے کر دھرم پورہ پہنچے اور ایک ہزار روپے کے عوض وہ کتاب لے آئے میں نے بتایا اس کا ترجمہ ’’تلاشِ ہند‘‘ کے عنوان سے ہو چکا ہے۔ رانا صاحب نے وہ بھی میری وساطت سے حاصل کیا اور اسے دوبارہ شائع کرنے کا منصوبہ باندھنے لگے۔ اس سے پہلے وہ تین کتابیں اپنے خرچ پر شائع کر چکے تھے۔ (1) جمہوریت اور آمریت (2) مکاتیب زنداں اور(3) ’’مستری صدیق، مولانا آزاد اور مولانا مودودی۔ رانا صاحب نے مستری صدیق مرحوم و مغفور کو دیکھا ہوا تھا۔ وہ جماعت اسلامی کے بانی اراکین میں سے تھے اور للھیت کی بہترین مثال تھے۔ اس کے علاو محمد اکرم کی کتاب ’’قیدِیاغستان‘‘ بھی ان کی بہت پسند کی کتاب تھی۔ فارسی شعراء میں سے وہ فارسی شاعر علی حزیں سے بہت متاثر تھے۔ اس کے کئی اشعار ان کے وردِ زبان رہتے تھے۔

کوئی سال دو سال پہلے تک ان کا حافظہ کافی بہتر تھا بلکہ قابل رشک تھا۔ کبھی کبھی کوئی پرانا واقعہ یاد آتا تو اسے کالم کی صورت میں روزنامہ پاکستان میں چھپوا دیتے۔ اب انہیں اپنی عمر کا کوئی ساتھی میسر نہ تھا۔ شاید اسی تنہائی کے احساس نے ان کے قویٰ کو تیزی سے مضمحل کر دیا۔ دو ماہ پہلے اخبار کے دفتر آئے تو صحت کافی گر چکی تھی۔ گاڑی سے اترے تو ڈرائیور انہیں سہارا دے کر قدرت اللہ چودھری صاحب کے دفتر تک لے آیا۔ ہم سب حیرت اور پریشانی سے انہیں تک رہے تھے۔ چند لمحے بیٹھے پھر گھر پلٹ گئے۔ آج صبح ہی صبح سن لیا کہ وہ عدم آباد کو سدھار گئے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے وہ بلا شبہ ملت اسلامیہ کی ایک متاعِ گراں مایہ تھے۔بقولِ میر:

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

مزید : ایڈیشن 1