اس دور ناسزا کے تقاضوں کے باوجوددانش یہ جرم کم ہے کہ سچ بولتے ہیں ہم

اس دور ناسزا کے تقاضوں کے باوجوددانش یہ جرم کم ہے کہ سچ بولتے ہیں ہم

’’صبح کرنا شام کا‘‘ میرے ہاتھوں میں ہے اور میں اس کی ورق گردانی ذرا مختلف انداز سے کر رہا ہوں کیونکہ جب اس کے مصنف رانا نذر الرحمن حیات تھے اور انہوں نے اپنی یہ تصنیف مجھے پیش کی تو اس کا سرسری مطالعہ کیا لیکن جب اطلاع ملی کہ رانا صاحب ہمیں چھوڑ گئے ہیں تو سرگزشت کو بغور پڑھ رہا ہوں ۔اس قدر باریک بین شخص کہ جس نے اپنے اردگرد ہونے والے واقعات کا ناصرف عقابی نگاہوں سے مشاہدہ کیا بلکہ ان حالات کا بھی خوب جائزہ لیا جو ان واقعات کے وقوع پذیر ہونے کا باعث بنے۔ایک عام سیاسی کارکن سے کامیاب کاروباری تک کی تمام خصوصیات ان میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ رانا نذر الرحمن ایک نڈر، بے باک، جراتمند اور دردِ دل رکھنے والے انسان تھے۔ جو اپنی بات ڈنکے کی چوٹ پر کہتے، اپنے موقف پر ڈٹ جانا کوئی ان سے سیکھے، حق بات کہنے کا جو سلیقہ وہ جانتے تھے کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔بی ڈی سسٹم کے تحت ہونے والے مقامی الیکشن میں جب رانا نذر الرحمن نے حصہ لیا اور اچھرہ کے حلقہ سے بلدیاتی امیدوار بنے تو ان کے رفقائے کار اور سپورٹرز نے کیا خوب نعرہ تخلیق کیا۔

آساں نہیں جھکانا

نذر الرحمن رانا

مزنگ چونگی لاہور سے مسلم ٹاؤن موڑ تک ،فیروز پور روڈ اور اس سے متصل سڑکوں پر تحریر کردہ یہ نعرہ ہر کوئی پڑھتا بڑا لطف اندوز ہوتا۔رانا صاحب یہ الیکشن جیت کر کونسلر منتخب ہو گئے۔ بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان کی رفاقت نے تو رانا صاحب کی شخصیت کو چار چاند لگا دیئے۔ ہمیں نکلسن روڈ لاہور میں پاکستان جمہوری پارٹی کے دفتر میں جب بھی جانے کا اتفاق ہوا تو رانا صاحب کی تلخ و شیریں گفتگو سے بہت مخظوظ ہوئے۔ وہ ایک چلتی پھرتی تاریخ تھے اپنے اندر ہزاروں قصے سموئے ہوئے تھے۔ آپ کسی پرانے واقعے کا تذکرہ کریں رانا نذر الرحمن اس کی سیاق و سباق سمیت تمام تفصیلات آپ کے سامنے رکھ دیں گے۔ لاہور کی تاریخ تو انہیں ازبر تھی۔ ایسا لاہوری ہم نے آج تک نہیں دیکھا جو الف سے یے تک سب کچھ جانتا ہو۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے لاہور کے گلی کوچے ان کے سامنے بنے ہوں یا عمارات کی اینٹیں لگتی انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہوں۔ بڑے بڑے لاہوریوں کے بارے میں معلومات کا اصل خزانہ رانا نذر الرحمن تھے۔وہ ہر کسی کی حقیقت یا اصلیت اچھی طرح جانتے تھے ۔ موت نے انہیں دوسری کتاب تصنیف کرنے کی مہلت نہیں دی وگرنہ لاہور کی شہر گردی کے شوقین خواتین و حضرات کو شاید یہاں گھومنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔

انجمن شہریاں لاہور کا بانی ہونا انہیں کو سجتا تھا کیونکہ ان سے بڑھ کر لاہور دان کوئی دوسرا ہو نہیں سکتا۔ ویسے تو رانا صاحب کو پاکستان کے کئی دوسرے شہروں کی بھی خوب معلومات تھیں لیکن لاہور کے حوالے سے وہ سب سے بڑے تاریخ دان قرار دیئے جا سکتے ہیں۔ آجکل تو ایسے سیاسی کارکن جنم ہی نہیں لے رہے جیسے مرحوم رانا نذر الرحمن تھے وہ سیاسی رہنما بننے یا کہلانے پر کارکن ہونے یا بننے کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ جب بھی ان سے ملاقات ہوتی یہی کہتے سنا کہ کارکن سازی نہ ہونے کے باعث سیاسی جماعتیں کمزور ہوتی جا رہی ہیں یوں لگتا ہے جیسے بڑی بڑی سیاسی پارٹیاں بھی بانجھ ہو چکی ہیں۔

’’صبح کرنا شام کا ‘‘کے پیش لفظ میں رانا نذر الرحمٰن نے معاشرتی ناہمواریوں کی جس انداز سے منظر کشی کی ہے وہ ملاحظہ فرمائیں تو سارے حالات سے آگاہی حاصل ہو جائے گی ۔ وہ لکھتے ہیں ۔

مرا رازیست اندر دل اگر گوئم زباں سوزد

اگر پنہاں کنم ترسم کہ مغزا استخواں سوزد

میرے دل میں ایک راز ہے اگر اسے بیان کرتا ہوں تو میری زبان جل جاتی ہے اور اگر چھپاتا ہوں تو میں ڈرتا ہوں کہ میری ہڈیوں کا گودا جل جائے گا۔

دل کے ٹکڑوں کو بغل بیچ لئے پھرتا ہوں

کچھ علاج اس کا بھی اے شیشہ گراں ہے کہ نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا پوچھتے ہو حال میرے کاروبار کا

آئینے بچتا ہوں میں اندھوں کے شہر میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنتے ہیں لوگ یوں دل ویراں کی داستاں

جیسے یزید حادثہ کربلا سنے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ راز اپنی قومی تاریخ کا راز ہے

رانا نذر الرحمٰن اپنے دوست احباب کی محافل میں کئی سربستہ رازوں سے پردہ اٹھاتے رہے اور مخفی امور کے پس پردہ حقائق بڑے ٹھوک بجا کے بیان کرتے ۔ سینکڑوں راز انہوں نے اپنی سرگزشت میں افشا کئے اور کچھ زیر ترتیب تصنیف میں ادھورے پڑے ہیں لیکن مرحوم نے جو کہا ڈنکے کی چوٹ پر کہا اس کی پروا کئے بغیر کہ کون ناراض ہوتا ہے ۔وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ ہم لوگ جنہیں بہت بڑا قرار دے کر آسمان پر بٹھاتے ہیں وہ اندر سے بڑے چھوٹے لوگ ہوتے ہیں ۔ مرحوم گرم دمِ گفتگو اور گرم ترین دمِ جستجو تھے وہ اپنا موقف بیان کرتے ہوئے اتنے سخت ہو جاتے اور لڑنے مارنے کو آ جاتے کہ ایسا لگتا کہ واقعی لڑائی کر رہے ہیں ۔انہوں نے دمِ آخر موت سے بھی خوب لڑائی کی ۔زندگی کے آخری ایام میں کئی بار بیمار ہوئے اور بیماری سے جنگ جیتتے بھی رہے لیکن تین چار روز قبل زندگی کی بازی ہار گئے اور داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔مرحوم نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز نظام اسلام پارٹی کے نامور کارکن کی حیثیت سے کیا تھا اور سمن آباد میں یونین کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر اپنے علاقے کی بہت زیادہ خدمت کی لاہور میونسپل کارپوریشن میں ان کا کردار سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے 1973ء میں بھٹو آمریت کے دوران دفعہ 144کی خلاف ورزی پر جن 10افراد کو گرفتار کیا گیا ان میں ایم حمزہ ، خواجہ صفدر، مشتاق راج، احسان وائیں ، ملک قاسم، مولانا سلیم اللہ، قاضی عبدالحئی منت اللہ اور رانا نذر الرحمان بھی شامل تھے ان سب کو ایک بڑے بیرک میں قید کرکے 13دن جگائے رکھا اور وزیر جیل خانہ جات نے جیل حکام کو اس بات پر مامور کئے رکھا کہ انہیں شور شرابہ سے مسلسل جگا کر رکھیں ۔بجلی بند کر کے ان قیدوں کو اذیت دی گئی ۔بالآخر محمود علی قصوری نے لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس صمدانی کی عدالت میں رٹ کر کے اس اذیت سے نجات دلائی اور رانا صاحب سمیت تمام ملزموں کو سی کلاس کی بیرک میں منتقل کر دیا گیا ۔1973ء میں رانا نذر الرحمان نے اپنے حلقے سے صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں حصہ لیا ان کے مدمقابل سابق وزیر قانون ایس ایم مسعود ایڈووکیٹ تھے ۔کہا جاتا ہے کہ ہر قسم کے ناجائز ہتھکنڈے استعمال کر کے رانا نذر الرحمان کو صرف 1200و وٹوں سے ہرایا جا سکا مرحوم آمریت کے ہر دور میں جمہوریت کی تمام تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے اے آر ڈی کے متحرک اور سرگرم رہنما تھے ان کی رہائش گاہ پر اے آر ڈی کے کئی اہم اجلاس بھی منعقد ہوئے جن میں قومی سطح کے اہم فیصلے بھی ہوتے رہے ۔قومی اتحاد کی تحریک میں رانا نذر الرحمان پی این اے کے مالیتی امور کے انچارج تھے ان کا ذاتی کردار اتنا مستحکم تھا کہ کبھی مالی بدعنوانیوں کا ایک بھی الزام نہیں لگا ۔

اپنی کم و بیش 60سالہ سیاسی زندگی میں ایک قدم بھی ایسا نہیں اٹھایا جس میں لغزش آئی ہو کبھی کسی قسم کا ناجائز کام یا رعایت حاصل کرنے کا کبھی سوچا نہ کوشش کی پاکستان تحریک انصاف کے قیام کے ابتدائی دنوں میں بڑے فعال اورمتحرک رہے سنٹرل ایگزیکٹو کے ممبر ہونے کے باوجود کھل کر پارٹی کو غلط روی یا غلط لوگوں کو نوازنے پر تنقید کرتے اور پالیسیوں کو راہ مستقیم پر چلانے کی مسلسل کوشش کرتے رہے ۔مرحوم کا کردار سیاسی کارکنوں کے لئے ایک منجھے ہوئے اتالیق کا ہے جس سے میدان سیاست کے نوواردان بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

ویسے تو رانا نذر الرحمن کی سرگزشت صبح کرنا شام کا پوری کی پوری پڑھنے کے لائق ہے اور انہوں نے اپنے چشم دید واقعات ، تجربات کو تجزیات کے جس رنگ میں ڈھالا ہے وہ کمال ہے ۔ذیل میں اس تصنیف میں’’سیاسی ریشہ دوانیاں‘‘ کے عنوان سے شامل اقتباس کا مطالعہ کر کے مملکت پاکستان کی انتظامی سیاست کے ایک باب سے بخوبی آگاہی حاصل کی جا سکتی ہے ۔

میں ان خوش نصیبوں میں سے ہوں جنہوں نے قیام پاکستان کی ولولہ انگیز تحریک کو منزل مراد تک پہنچتے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ وہ مقاصد ابھی تک پورے نہیں ہوئے جن کی خاطر لاکھوں انسان قتل ہوئے اور لاکھوں کو ہجرت کے صدمے سہنے پڑے۔ رہنماؤں کا فرض تھا کہ وہ آزادی کے بعد نئی قائم ہونے والی ریاست کی تعمیر کی فکر کرتے لیکن انہوں نے کرسیوں کی جنگ میں وقت ضائع کرنا شروع کر دیا۔ پاکستان کی خالق جماعت میں عبدالرب نشتر، لیاقت علی خاں اور خواجہ ناظم الدین ایسے دیانتدار اور مخلص قائدین بھی تھے لیکن اکثریت وڈیروں اور جاگیرداروں کی تھی۔ انہوں نے پاکستانی سیاست کو بازیچہ اطفال بنا لیا۔ وہ ریاست کے انتظامی امور چلانے کا تجربہ نہیں رکھتے تھے، چنانچہ گھاگ سول اور فوجی افسروں نے انہیں بڑی آسانی سے اپنے جال میں پھنسا لیا۔

بھارت میں یکم جنوری 1950ء سے نیا آئین نافذ ہو گیا لیکن یہاں 1956ء تک حکومتوں کی بار بار ادلا بدلی کی وجہ سے آئین سازی کا مرحلہ بہت سست رفتاری سے طے ہوا۔ قائد اعظم آزادی کے فقط ایک سال بعد وفات پا گئے اور امور مملکت کی ساری ذمے داری لیاقت علی خان کے کندھوں پر آ گئی۔ وہ بے لوث اور محب وطن رہنما تھے۔ انہوں نے معاشی ترقی کے لئے سنجیدگی سے کوششیں کیں۔ ان کے دور وزارت کا پہلا بجٹ نہایت متوازن تھا۔ اس کی آج بھی تعریف کی جاتی ہے۔ انہو ں نے کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے عالمی طاقتوں پر دباؤ بھی ڈالا۔ ان کا ایک اہم کارنامہ دستور ساز اسمبلی سے قرار داد مقاصد کا پاس ہونا بھی ہے، جس سے پاکستان کا نظریاتی رخ واضح ہو گیا۔ لیاقت عی خان کے دور میں مسلم لیگ کی شکست و ریخت شروع ہو گئی لیگ کے اندر ہی سے نکل کر پیر مانکی شریف نے عوامی مسلم لیگ، نواب افتخار حسین ممڈوٹ نے جناح مسلم لیگ، مولانا بھاشانی نے پاکستان عوامی لیگ اور میاں افتخار الدین نے آزاد پاکستان پارٹی بنائی۔ 1951ء میں کچھ فوجی افسروں نے اشتراکی عناصر کے ساتھ مل کر حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کی۔ لیاقت علی خان ہی کے دور میں اپوزیشن کی آواز دہانے کے لئے بار بار سیفٹی ایکٹ کا سہارا لیا گیا۔ روزنامہ نوائے وقت، روزنامہ تسنیم، ہفت روزہ چٹان اور دیگر کئی جرائد پر پابندی لگائی گئی۔ ان کمزوریوں کے باجود ان کی ذات اہل پاکستان کے اتحاد کی علامت تھی۔ ایک موقع پر جب انہوں نے بھارت کو مکا دکھایا تو پنڈت نہرو اپنی فوجیں سرحد سے پیچھے لے جانے پر مجبور ہو گئے۔ اکتوبر 1951ء میں جب انہیں گولی کا نشانہ بنایا گیا تو پوری قوم سوگ میں ڈوب گئی۔ ان کے قتل کی تفتیش جس طریقے سے ہوئی اس سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان کو راستے سے ہٹانے والوں کے مقاصد کیا تھے۔ یہ قتل آج بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک سربستہ راز ہے حالات کے اسی منظر نامے میں تین افسروں کی سیاست کا آغاز ہوا: ملک غلام محمد، میجر جنرل اسکندر مرزا اور جنرل محمد ایوب خان، ملک غلام محمد آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس کے آدمی تھے۔ قائد اعظم نے ان کی مالیاتی سوجھ بوجھ دیکھتے ہوئے انہیں وزیر خزانہ بنایا تھا۔ جب لیاقت علی قتل ہوئے تو اس وقت ملک غلام محمد فالج کی وجہ سے وزارت سے مستعفی ہو چکے تھے اور علاج کے لئے امریکہ جانے والے تھے۔ اسکندر مرزا انگریز کی پولیٹیکل سروس میں رہ چکے تھے اور علاج کے لئے امریکہ جانے والے تھے۔ تقسیم کے بعد وہ پہلے سیکرٹری داخلہ اور پھر سیکرٹری دفاع مقرر ہوئے۔

لیاقت دور میں پہلے یہی سننے میں آتا رہا کہ جنرل گریسی کی جگہ جنرل افتخار لیں گے۔ لیکن جنگ شاہی کے نزدیک طیارے کا حادثہ ہوا جس میں جنرل افتخار اور بریگیڈیئر شیر بہادر وفات پا گئے تھے۔ اس سانحہ کی آج تک کوئی تحقیقاتی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ عام طور پر اس حادثے کو سازش ہی گردانا جاتا ہے ۔ کیونکہ جنرل افتخار کی موت کے بعد ہی ایوب خان کے لئے کمانڈر انچیف مقرر ہونا ممکن ہوا تھا۔ لیاقت علی کی شہادت کے بعد ضروری تھا کہ حکمران جماعت کی پارلیمانی پارٹی خود نئے وزیر اعظم کا انتخاب کرتی لیکن یہ کام صرف تین افراد نے انجام دیا اس کے بعد چھ وزراء اعظم باری باری لائے گئے اور رسوا کر کے فارغ کئے گئے۔مذکورہ تین کی ٹولی نے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین کو وزارت عظمیٰ پر اور مفلوج ملک غلام محمد کو گورنر جنرل کے عہدے پر لا بٹھایا۔ غلام محمد آمرانہ مزاج کے مالک تھے۔ انہوں نے اس حال میں خواجہ صاحب کو وزارت عظمیٰ سے فارغ کیا جبکہ تھوڑے ہی دن پہلے وہ دستور ساز اسمبلی سے بجٹ پاس کروا چکے تھے۔ ان کی جگہ امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر محمد علی بوگرہ کو بلا کر وزیر اعظم بنا دیا۔ مسلم لیگ سے کوئی مشورہ نہ لیا گیا بلکہ الٹا اس کے ممبران اسمبلی سے کہا گیا کہ وہ بوگرہ کو اعتماد کا ووٹ دیں۔ اس طرح سے افسروں نے سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں کی بے توقیری شروع کر دی۔ تھوڑے دن بعد بوگرہ نے اسمبلی میں گورنر جنرل کے اختیارات کم کرنے کے لئے بل پیش کیا تو ملک غلام محمد نے برافروختہ ہو کر دستور ساز اسمبلی ہی کی بساط لپیٹ دی۔ اسمبلی کے سپیکر مولوی تمیز الدین نے سندھ چیف کورٹ میں گورنر جنرل کے اس اقدام کو چیلنج کر دیا۔ فیصلہ تمیز الدین خاں کے حق میں آ گیا۔ حکومت نے فیڈرل کورٹ میں اپیل دائر کی تو جسٹس منیر نے گورنر جنرل کے اقدام کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دے دیا۔ البتہ دستور ساز اسمبلی کے نئے الیکشن کرانے ضروری قرار دیئے۔ چنانچہ 1954ء میں دستور ساز اسمبلی کے نئے انتخابات ہوئے تو مسلم لیگ اسمبلی میں اکثریت کھو بیٹھی۔ یہی چیز افسر شاہی کو مطلوب تھی۔ اس سے پہلے یہی کھیل مشرقی پاکستان میں کھیلا گیا۔ وہاں تمام پارٹیوں نے مسلم لیگ کے خلاف متحدہ محاذ بنا لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مسلم لیگ نئی صوبائی اسمبلی میں مشکل ہی سے اپنا پارلیمانی گروپ بنا سکی۔ دستور ساز اسمبلی ختم کرنے کے بعد بوگرہ کو عبوری حکومت بنانے کا حکم دیا گیا تو کابینہ میں کمانڈر انچیف ایوب خان کو وزیر دفاع اور اسکندرمرزا کو وزیر داخلہ بنایا گیا۔ اس طرح سے سول اور ملٹری افسر حکومتی امور پر غلبہ حاصل کرتے چلے گئے۔ سیاسی نظام سراسر مذاق بن گیا کہ حاضر سروس افسر وزیر بھی بننا شروع ہو گئے۔ بوگرہ کا قابل ذکر کارنامہ بوگرہ آئینی فارمولا تھا۔ اس پر تمام صوبے متفق تھے۔ اسی کی بنیاد پر آئین بننے کی منزل قرب آ گئی تو افسر شاہی کو یہ بات کسی طرح بھی گوارا نہ تھی۔

22نومبر 1954ء کو بوگرہ نے ریڈیو پر اعلان کیا کہ پورے مغربی پاکستان کو ایک واحد صوبے کی شکل دی جائے گی۔ نئے انتخابات کے تحت چودھری محمد علی کووزیر اعظم بنایا گیا انہوں نے نئی دستور ساز اسمبلی سے 30ستمبر 55ء کو ون یونٹ کا بل منظور کروا دیا۔ ون یونٹ بنا تو اس کے متعلق چودھری محمد علی اور دیگر اکابرین مسلم لیگ نے جو تقریریں کیں اور جو بیانات دیئے ان سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ اس طرح سے مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں توازن قائم ہو گا، یگانگت بڑھے گی لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ چھوٹے صوبے ون یونٹ کے سراسر خلاف تھے۔ وہ اسے اپنے لسانی، ثقافتی اور سیاسی حقوق کے لئے نقصان کا باعث سمجھتے تھے۔ دراصل نوکر شاہی شروع دن سے مشرقی پاکستان کی عددی برتری کو پسند نہیں کرتی تھی۔ اس نے پیرٹی (Parity)کے اس فارمولے کے ذریعے مشرقی پاکستان کے عوام کو ذہنی صدمہ پہنچایا۔ یعنی طے پایا کہ مقننہ میں دونوں بازوؤں سے یکساں تعداد میں ممبران منتخب ہو کر پہنچیں گے۔ ون یونٹ کے خلاف چھوٹے صوبوں کی تحریک ہی کا نتیجہ تھا کہ نیشنل عوامی پارٹی مسلم لیگ سے اس منصوبے کے خلاف دستخط کرانے میں کامیاب ہو گئی۔

نئے صوبے مغربی پاکستان کے پہلے گورنر مشتاق احمد گورمانی اور وزیر اعلیٰ ڈاکٹر خان صاحب مقرر ہوئے۔ ڈاکٹر خان صاحب اسکندر مرزا کے قبل از تقسیم دور میں ذاتی دوست تھے، اس لئے وزارت اعلیٰ ان کا مقدر ہوئی ۔ چودھری محمد علی نے 23مارچ 1956ء کو اسمبلی سے نیا دستور منظور کروا کر نافذ کر دیا۔ حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ کے لئے اسکندر مرزا نے راتوں رات ری پبلکن پارٹی کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل کروائی۔ اسی کی مدد سے حکومتوں کو بنانے اور توڑنے کا کھیل 1958ء تک کھیلا گیا۔

ری پبلکن پارٹی کے قیام کا ایک بڑا مقصد پاکستان کے اسلامی تشخص کو نقصان پہنچانا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں قرار داد مقاصد کا پاس ہونا قابل برداشت نہ تھا، وہ اسے غیر موثر بنانے کے در پے تھے۔ یہی لوگ جداگانہ انتخابات کو بھی ختم کرانا چاہتے تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے مشرقی پاکستان کا دورہ بھی کیا۔ وہاں کے لا دین حلقوں سے مل کر جداگانہ انتخابات کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس پر نظام اسلام پارٹی نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ نظام اسلام پارٹی دراصل جمعیت العلمائے اسلام کے اس گروپ پر مشتمل تھی جس نے مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ کی قیادت میں قیام پاکستان کی حمایت کی تھی۔ اس پارٹی کے قائد مولانا اطہر علی تھے۔ جب ایوب خان نے مارشل لاء لگایا تو اس وقت نظام اسلام پارٹی اور جماعت اسلامی کے درمیان مل کر ملکی انتخابات لڑنے کے لئے مذاکرات ہو رہے تھے۔

ڈاکٹر خان صاحب کا قتل

اسی پارلیمانی دور حکومت کا ایک اہم واقعہ ڈاکٹر خان صاحب کا قتل ہے۔ وہ سرخپوش رہنما خان عبدالغفار خان کے بھائی تھے اور تقسیم تک کانگرس کے حامی رہے تھے۔ آزادی کے وقت وہ صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ تھے۔ وہ انگریزی دور سے اسکندرمرزا کے دوست چلے آئے تھے۔ انہی کے اشارے پر ڈاکٹر خان صاحب نے ری پبلکن پارٹی بنائی تھی۔ ون یونٹ بنا تو وہ مغربی پاکستان کے وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئے تھے۔ ان کے افتاد طبع کا ایک واقعہ سن لیجیے۔

پرانی انارکلی میں جہاں آج کل رانا چیمبرز ہے، یہاں کپور تھلہ ہاؤسنگ سکیم کا پلاٹ نمبر18 تھا جسے میں نے کوٹ رادھا کشن کے دو آڑھتیوں علی احمد وغیرہ سے باقاعدہ منافع دے کر خریدا تھا اس سے پہلے انہوں نے یہ پلاٹ لاہور امپروومنٹ ٹرسٹ سے نیلامی میں خرید کیا تھا۔ میں نے اس پلاٹ کی تفصیل معلوم کرنے کے لئے ٹرسٹ کی فائل کا مطالعہ کیا تو وہاں ایک لمبی داستان ملی۔ پرانی انارکلی کے اردگرد کے لوگوں نے بھی باتیا کہ جب اس نیلام شدہ پلاٹ کا قبضہ لینے کے لئے خریداران نے لاہور امپروومنٹ ٹرسٹ سے رابطہ کیا تھا تو اس وقت یہاں ایک پٹھان کا لکڑی کا ٹال تھا۔ امپروونٹ ٹرسٹ نے جب اس پٹھان پر دباؤ ڈالا کہ وہ پلاٹ خالی کر دے تو وہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر خان صاحب کی کوٹھی پر گیا، شکایت کی کہ ٹرسٹ ناجائز طور پر اسے تنگ کر رہا ہے۔ ڈاکٹر خان صاحب نے کمشنر لاہور ڈویژن چیئرمین ٹرسٹ اور دیگر افسران کو موقع پر طلب کیا۔ پولیس افسران کو بھی بلایا اور خود بھی پہنچ گئے۔ افسران نے ان کو موقع پر فائل دکھائی کہ یہ باقاعدہ منظور شدہ سکیم کا پلاٹ ہے، اس پر پٹھان نے ناجائز طور پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر خان صاحب پر حقیقت حال کھلی تو وہ بہت ناراض ہوئے ، پٹھان کو خوب صلواتیں سنائیں بلکہ آگے بڑھ کر خود لکڑیاں اٹھا اٹھا کر پھینکنی شروع کر دیں۔ ان کے ساتھ تمام افسران بھی شامل ہو گئے اور آدھ پون گھنٹے میں پورا پلاٹ خالی ہو گیا۔

مئی 1958ء میں ڈاکٹر خان صاحب قتل ہو گئے۔ ان کا قاتل عطا محمد نامی ایک شخص تھا جو رہنے والا تو میانوالی کا تھا لیکن ریاست بہاولپور میں بطور پٹواری تعینات تھا۔ اسے دوسرے روز پولیس نے حراست میں لے لیا۔ جن پولیس افسروں نے یہ جھوٹا مقدمہ علامہ مشرقی پر بنایا تھا، ان میں سے کئی سمن آباد میں رہائش پذیر تھے۔ آتے جاتے میری ان سے کبھی ملاقات ہوتی تو وہ من گھڑت کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ عطا محمد نے ہائی کورٹ میں اپنے اقبالی بیان میں کہا کہ ارائیوں نے ریاست بہاولپور میں ایک Invisibleگورنمنٹ قائم کر رکھی ہے جو غیر ارائیوں کو وہاں ٹکنے نہیں دیتی۔ اس کے ساتھ ملزم نے لمبی چوڑی داستان سنائی کہ کس طرح اس سے محکمانہ طور پر ناجائز سلوک ہوتا رہا تھا۔ عجیب سی بات لگی کہ تنگ تو وہ اپنے محکمے کے ارائیوں سے تھا لیکن مار دیا ڈاکٹر خان صاحب کو، شاید اسے ہی کہتے ہیں ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ!

مزید : ایڈیشن 1