رمضان المبارک کی رحمتوں کا حق دار کون ہے،کون نہیں؟

رمضان المبارک کی رحمتوں کا حق دار کون ہے،کون نہیں؟

روزہ مسلمان کے لئے ایک ڈھال کا کام دیتا ہے، روزہ اس کو دُنیا میں گناہوں اور آخرت میں جہنم کی آگ سے بچاتا ہے، جب تک انسان اپنے ہاتھوں سے اپنی اس ڈھال میں سوراخ نہ کرے، اس وقت تک یہ ڈھال انسان کو گناہوں اور نار جہنم سے بچاتی ہے، روزہ ڈھال ہے، جس طرح ڈھال تیروں اور تلواروں سے بچاتی ہے، جس طرح ایک لوہے کا زرہ نما کوٹ جسم کو گولی سے بچاتا ہے اس طرح روزہ مسلمان کو گناہ اور جہنم کی آگ سے بچاتا ہے، لیکن اگر انسان اس میں سوراخ کر دے، اس کو خود ہی توڑنا پھوڑنا شروع کر دے تو پھر ان سوراخوں کے راستے تیر بھی آ سکتا ہے، نیزے کا زخم اور گولی بھی آ سکتی ہے۔صحابہ اکرامؓ نے یہ آپ کا ارشاد گرامی سن کر وضاحت کے لئے پوچھا اللہ کے رسولﷺ آپ نے کہا کہ روزہ ڈھال کا کام دیتا ہے، انسان کو گناہ اور جہنم کی آگ سے بچاتا ہے اور ساتھ ہی آپ نے فرمایا کہ اس میں سوراخ نہ کرو وہ سوراخ کس طرح ہوتے ہیں؟

آپ ؐ نے فرمایا:جھوٹ بولنے، غلط بات کہنے اور غیبت، چغلی سے، جس کی ہم پرواہ نہیں کرتے اور جس میں دن رات مبتلا رہتے ہیں، فرمایا ان گناہوں اور اللہ کی نافرمانیوں سے اس ڈھال میں سوراخ ہوتے رہتے ہیں، اس طرح اس ڈھال کی افادیت کم ہوتی رہتی ہے اور یہ اپنا کا م نہیں کرتی، پھر یہ نہ تو انسان کو گناہ سے بچاتی ہے اور نہ نار جہنم سے بچاتی ہے۔

آپ ؐ نے وضاحت کے ساتھ فرمایا:

’’بے شک روزہ کھانا پینا چھوڑ نے کا نام نہیں ہے، بلکہ روزہ لغو، فضول باتوں، گناہوں اور بے حیائی کو چھوڑنے کا نام ہے‘‘۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان رمضان کے فرض روزے نہ رکھے یا اُن میں کھانا پینا نہ چھوڑے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ صرف کھانا پینا چھوڑنے کا نام روزہ نہیں ہے، جب تک آپ اس میں مکمل پرہیز کرتے ہوئے گناہوں کو نہیں چھوڑیں گے یہ روحانی دوائی اپنا اثر نہیں کرے گی، کیونکہ روزے کا مقصد گناہ سے بچانا ہے اور اگر روزہ رکھنے کے زمانے میں بھی انسان گناہوں پر تلا رہے تو پھر اس کے اثرات پیدا نہیں ہوتے۔

مسلم شریف کی ایک حدیث میں آپ ؐ نے کچھ مکفرات کو گنا ہے، یعنی گناہوں کو دور کرنے والی چیزیں، پہلے جو گناہ ہو چکے ہیں یہ چیزیں اُن کو دُور کرتی ہیں اور آئندہ کے گناہوں سے بچاتی ہیں۔

مکفرات یعنی گناہوں کو معاف کروانے والی چیزوں کو گنتے ہوئے، اس میں رمضان کو بھی شمار کرتے ہوئے آپ ؐ نے فرمایا:

رمضان بھی ان چیزوں میں شامل ہے، ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک اللہ تعالیٰ کسی کو زندگی دے، ایک رمضان اس نے گزرا ہے تو اس کی زندگی میں پھر دوسرا رمضان آئے، یہ غیر رمضان کا درمیانی عرصہ ان کے لئے دونوں رمضان ان گیارہ مہینوں کے جو سرے پر ہیں وہ گناہوں کو معاف کرانے کا کام کرتے ہیں۔

آپ ؐ نے آگے ایک شرط لگائی:

کہ انسان کم از کم کبیرہ گناہوں سے بچے،

جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

’’بے شک رب کریم کی مغفرت بڑی وسیع ہے اور اسی پر مسلمان کا توکل اور بھروسہ ہے‘‘۔ (نجم32-27)

اور خود نبی اکرمﷺ نے فرمایا:

’’اے رب کریم! میرا بھروسہ اپنے عمل اور نیکی پر نہیں ہے، بلکہ میَں نے زیادہ اُمید تیری رحمت، مغفرت اور فضل سے باندھی ہے‘‘ لیکن اس رحمت اور مغفرت کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ جہاں تک ممکن وہ انسان عمدا کبیرہ گناہ کا شکار نہ بنے، رب تعالیٰ کی رحمت بڑی وسیع ہے لیکن ان میں وافر حصہ کن کو ملتا ہے:

’’جو اپنے آپ کو بڑے گناہوں سے بچاتے ہیں‘‘ ان کے چھوٹے گناہوں، دانستہ غلطیوں، لغزشوں اور ٹھوکروں کی معافی کے لئے مغفرت آ کر اُن کا ہاتھ تھام لیتی ہے اور یہی بات قرآن مجید کی اس آیت میں بتائی گئی ہے کہ رمضان اور دوسری مکفرات، نیکیوں کو بڑھانے اور گناہوں کو ختم کرنے میں اپنا کردار سرانجام دیتی ہیں، جب آدمی کبیرہ گناہوں سے بچتا رہتا ہے، شرک نہ کرے۔۔۔ قتل۔۔۔ بدکاری۔۔۔ ڈاکے۔۔۔چوری اور بڑے بڑے گناہوں سے بچتا رہے تو چھوٹے گناہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم اور عبادات کی وجہ سے معاف کر دے گا۔

اور بیہقی میں ایک روایت موجود ہے:

’’جو شخص رمضان کے روزے رکھتا ہے، اس کی حدود کو پہنچانتا ہے، روزے کے تقاضے پورے کرتا ہے، اُن کی شرائط، سنت اور روزے کی حدود کے مطابق رکھتا ہے‘‘ اور اس مہینے میں جن چیزوں کی رعایت رکھنا ضروری ہے، اُن کی رعایت رکھتا ہے۔ وہ کون سی چیزیں ہیں گناہ اور روحانی بد پرہیزی سے بچے، نیکی کی طرف مائل ہو، ذکر اور تلاوت کی کثرت کرے، چغلی، جھوٹ اور بدگوئی سے بچے، وہ آداب اور احکام کی کتنی رعایت کرتا ہے، پھر جو پرہیز اور تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے یہ روزہ رکھے گا، شرائط اور آداب کی رعایت کے ساتھ رکھے گئے روزے اس کے پہلے گناہوں کے لئے کفارہ بنتے ہیں۔

رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا عام فیضان ہوتا ہے۔ کثرت سے اللہ تعالیٰ کی رحمت مسلمان کی طرف متوجہ ہوتی ہے، لیکن وہ رحمت کچھ بدقسمت انسانوں سے منہ موڑ لیتی ہے، کچھ بدقسمت اس مہینے میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہتے ہ یں۔

یہ بات جاننا بھی ضروری ہے کہ وہ کون سے بدقسمت لوگ ہیں جو ماہ رمضان میں بھی اللہ کریم کی رحمت سے دور رہتے ہیں۔

پہلا آدمی:عادی شراب نوش، جو شراب کو ترک کر کے اس سے توبہ نہیں کرتا اور رمضان میں بھی شاید اس سے دل بہلاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہتا ہے۔

دوسرا آدمی:اپنے والدین کا نافرمان، بے ادب، گستاخ اور اُن کو ناراض کرنے والے (اللہ نہ کرے نمازیوں میں شرابی تو تھوڑے ہوں گے لیکن یہ بیماری تو عام ہے اس کی طرف توجہ دینا ضروری ہے) کو بھی ان لوگوں میں شامل کیا جو رمضان میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہتا ہے۔

تیسرا آدمی:رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے والا۔۔۔ رشتہ داروں کے حقوق کی رعایت نہ کرنے والا۔۔۔ احباب اور اعزہ سے ناطہ توڑنے والا، بھی ان لوگوں میں شامل ہے جو رمضان میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہتا ہے۔

چوتھا آدمی:وہ شخص جو اپنے سینے کو کینے سے پاک نہیں کرتا، کینہ پروری کرتا ہے۔ آدمی آدمیوں کے ساتھ رہتے ہوئے اُن سے ناراض بھی ہوتا ہے اور راضی بھی ہوتا ہے۔مختلف دور آتے ہیں، لیکن مستقل طور پر کینے کو اپنے سینے میں پالنا یہ اسلام کا طریقہ نہیں ہے۔

اور نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں:

میَں صبح و شام اپنے دل کا جائزہ لیتا ہوں کہ اس میں کسی کے خلاف کینہ تو نہیں ہے؟ وقتی طور پر کسی سے ناراض ہوتا ہوں، اس کی کسی غلط بات پر ٹوکتا ہ وں، لیکن میَں مستقل دشمنی اپنے دل میں نہیں پالتا۔ بُرے کی بُرائی سے نفرت کرتا ہوں، بُرے سے نہیں ۔ اس کی اصلاح کی کوشش کرتا ہوں، کینے سے دل کو پاک رکھنا ہی مومن کا طریقہ ہے جو دشمنیاں پال رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہتا ہے۔

روزے کا ایک اور فائدہ تقویٰ ، نیکی کی طرف رغبت اور روحانیت میں اضافہ ہے اور اس کے ساتھ ایک چوتھا بڑا فائدہ یہ ہے کہ روزہ مسلمان کو صبر اور جفا کشی کی تعلیم دیتا ہے۔ ابتدائی دور میں مسلمانوں نے دوسری دشمن قوموں کے خلاف میدان جنگ میں جو کامیابیاں حاصل کیں ان میں بہت بڑا عمل یہ تھا کہ مسلمان مجاہدین کی تربیت، جفا کشی کے انداز میں روزے نے کی ہے اور وہ اللہ کی راہ میں مشقت و محنت، بھوک اور پیاس برداشت کرنا جانتے تھے۔

قرآن پاک نے کہ ہے:

’’مسلمانوں تمہارے بیس، دو سو دشمنوں پر غالب آ سکتے ہیں‘‘۔ اگر تمہارے اندر صبر۔۔۔ ثابت قدمی۔۔۔ اور برداشت کا مادہ موجود ہو اور اگر یہ نہیں، یہ مشکل لگتا ہے، اتنا صبر اور برداشت نہیں ہے تو پھر تمہیں اس قابل ہونا چاہئے اور تم ہو سکتے ہو۔

ایک سو ثابت قدم۔۔۔ صبر کرنے والے۔۔۔ جفا کش مسلمان ہوں۔۔۔ ایمان کی قوت بھی ہو۔۔۔ صبر کا مادہ بھی ہو۔۔۔ تو اپنے سے زیادہ دگنی تعداد پر غالب آ سکتے ہو اور آئیں گے، اگر تمہارے اندر ایمان، جفا کشی اور صبر موجود ہے۔

بدر کے میدان میں313نے اپنے سے تین گنا زیادہ تعداد کو شکست فاش سے دوچار کیا تھا۔ انہوں نے روزے کے ذریعے صبر سیکھا تھا۔ آپ کو معلوم ہے کہ یہ لڑائی عین رمضان کے مہینے میں 17رمضان کو ہوئی، حالانکہ میدان جنگ اور سفر میں اجازت بھی ہے، لیکن اکثر مسلمان روزے سے تھے اور اس سے پہلے بھی انہیں روزے کی تربیت حاصل تھی۔

روزہ ثابت قدمی اور مشکلات برداشت کرنا سکھاتا ہے اسی لئے فرمایا:

نماز بھی نظم و ضبط سکھاتی ہے، صبر جس طریقے سے حاصل ہو اور روزہ صبر حاصل کرنے کا یقینی ذریعہ ہے اس لئے مسلمانو! ان کے ساتھ دشمنوں اور مخالفوں کے خلاف مدد چاہو۔ اگر تمہارے اندر صبر، ثابت قدمی اور اللہ کی یاد ہو گی تو دشمنوں پر غالب آؤ گے۔

جنگ خندق کے موقع پر دشمنوں نے مسلمانوں کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا۔ نبی کریمﷺ نے مدینے کی حفاظت کے لئے خندق کھدوائی، پتھریلی، سخت زمین خندق کھودنا بڑا مشکل کام ہے۔ مسلمانوں نے بڑی محنت سے یہ کام کیا، لیکن وسائل بڑے کم تھے، کھانے پینے کی چیزیں بھی افراط سے نہیں تھیں۔ بھوک کاٹتے اور پیاس برداشت کرتے ہوئے خندق کھودنے میں لگے ہوئے تھے، تاکہ شہر محفوظ ہو جائے، کچھ صحابہ اکرامؓ اللہ کے رسولﷺ کے پاس حاضر ہوئے، ان میں سے ہر ایک نے اپنے پیٹ سے کپڑا اُٹھایا اور بتایا کہ جناب اب تو بھوک سے ہمارا یہ حال ہو گیا ہے کہ کام بھی نہیں کیا جاتا۔ کام کرنا تو دور کی بات ہے ہم سیدھے کھڑے بھی نہیں ہو سکتے۔ ہم نے اپنے جسموں کو سہارا دینے کے لئے پیٹوں پر ایک ایک پتھر باندھا ہوا ہے، تو آپ ؐ نے فرمایا: دوستو! تم نے مجھے بتلایا ہے تو اب میں بھی تمہیں بتاتا ہوں کہ میری کیا حالت ہے۔صحابہ کی شکایت سننے کے بعد نبی کریمﷺ نے اپنے بطن مبارک سے کپڑا ہٹایا تو سہارا دینے کے لئے ایک کے بجائے دو پتھر باندھے ہوئے ہیں اور آپ کو بھوک برداشت کرنے کی عادت کہاں سے حاصل ہوئی؟

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ ؐ فرض روزے تو رکھتے ہی ہیں، اس کے علاوہ ہر مہینے کثرت سے نفل روزے بھی رکھتے تھے، آپ کا کوئی مہینہ بھی روزوں سے خالی نہیں ہوتا تھا، بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ کوئی ہفتہ خالی نہیں جاتا تھا۔۔۔ سوموار کا روزہ بھی ہے، جمعرات کا روزہ بھی ہے، مہینے میں ایام بیض کے روزے بھی ہیں۔

شوال کے روزے ہیں، عرفہ کا روزہ، 9اور 10یا10اور11کو محرم کے دو روزے ہیں۔ اس کے علاوہ روزے ہیں اور شعبان کا یہ مہینہ عام مسلمانوں کے لئے ازراہ شفقت فرمایا کہ اس مہینے کے آخر ی حصے میں نفل روزے نہ رکھو تاکہ رمضان کے فرض روزوں کی تیاری ہو سکے۔ جسم ان کے لئے تیار رہے، کمزوری محسوس نہ ہو، لیکن آپ کا اپنا معمول یہ تھا کہ شعبان میں کثرت سے ر وزے رکھتے تھے، روزوں کی اس تربیت کی وجہ سے آپ میں برداشت کا مادہ پیدا ہوا۔ اس کے باوجود جب زیادہ کمزوری محسوس ہوئی تو آپ ؐ نے اپنے جسم کو سہارا دینے کے لئے پتھر استعمال کیا۔

روزے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ انسان دوسرے انسان کو بھوک کا احساس ہوتا ہے۔ امیر آدمی بھی فرض روزے کی وجہ سے بھوک کاٹتا ہے۔۔۔ پیاس برداشت کرتا ہے۔۔۔ اس طرح اس کو غریب کی بھوک کا احساس ہوتا ہے۔ اسی لئے حدیث پاک میں روزوں کے مہینے کے جو نام رکھے ہیں ان میں ایک نام’’ شہر المواساۃ‘‘ ہے۔ ہمدردی کرنے کا مہینہ، انسان اس میں ہمدردی اور ایثار سیکھتا ہے۔ اس ہمدردی کے جذبے کو زیادہ کرنے کے لئے ۔ پھر آپ ؐ نے یہ ترغیب دی کہ روزے دار کو کھانا کھلاؤ اس کا ثواب ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ ایک تربیت بھی ہے، یہ نہیں کہ بس ایک آدھ روزے دار کا روزہ افطار کروا دیا، اس کے بعد سارا سال بھوکے کی بھوک بھولے رہے۔

شہر المواساۃ کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس مہینے میں ہمدردی اور ایثار کی تربیت حاصل کرے، جو اس کو باقی مہینوں میں بھی کام دے۔

جنہوں نے اس ہمدردی اور ایثار کو سیکھا تھا وہ صرف یہی نہیں کہ افطاری کروا دیتے تھے۔ انہوں نے اس ایثار و ہمدردی کو صحیح معنوں میں سیکھا تھا۔ میدان جنگ میں ایک مسلمان مجاہد جان بلب ہے، آخری وقت میں پانی کے چند گھوٹ چاہتا ہے، مشکیزے والے آتے ہیں اور پانی پلانا چاہتے ہیں:اسی اثناء میں دوسرے مسلمان مجاہد عکرمہ کی آواز آئی کہ مجھے پانی چاہئے تو حارث بن ہشام زخمی حالت میں جان بلب شہید ہونے کے قریب ہے، یہ پانی والے کو کہتے ہیں مجھے چھوڑ دو اور میرے اس بھائی کو پانی پلاؤ وہ اس کے پاس جاتے ہیں تو تیسرا عیاش کہتا ہے مجھے پانی پلاؤ تو عکرمہ کہتے ہیں مجھے چھوڑ دو اور میرے اس بھائی کو پانی پلاؤ۔ حتیٰ کہ تینوں باری باری پانی پئے بغیر ہی شہید ہو جاتے ہیں، لیکن ہمدردی، ایثار، قربانی اور اپنی ضرورت پر دوسرے کو ترجیح دینے کی ایک لازوال مثال قائم کر کے جاتے ہیں۔

مسلمان جس نے صحیح معنوں میں اسلام کو سیکھا اور اس پر عمل کیا، جس نے روز اور اسلام کے دوسرے احکام کے ذریعے ایثار اور ہمدردی کی تعلیم حاصل کی ہے، تربیت لی ہے، وہ اپنی ضرورت پر دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دیتا ہے، دوسرے بھائی کی ضرورت کو مقدم کرتا ہے۔ہم تو اپنی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے بھی دوسرے کی طرف توجہ دینے کے لئے تیار نہیں اور وہاں جنہوں نے روزے کی روح کو سمجھا تھا ایثار اور قربانی کو صحیح معنوں میں سیکھا تھا، اس کی تربیت لی تھی۔ اُن کا یہ حال تھا کہ اپنی ضرورت کو مؤخر کرتے اور پیچھے ڈالتے ہوئے دوسروں کی ضرورت کو مقدم سمجھتے تھے۔

مزید : ایڈیشن 2