رمضان المبارک۔۔۔ اتحادِ امت کا مظہر!

رمضان المبارک۔۔۔ اتحادِ امت کا مظہر!

پسروری

اسلام کے معروف ارکان و عبادات میں سے اہم رکن اور مہتمم بالشان روحانی عبادت روزہ بھی ہے، جس طرح نماز جملہ مسلمانوں کی اجتماعیت کا مظہر ہے بعینہ روزہ بھی وحدت اسلامی کا مظہر ہے۔ ماہ رمضان میں پوری انسانیت دن بھر ماکولات و مشروبات سے گریز کرتی ہے اور بھوک و پیاس کی شدت بخوشی برداشت کرتی ہے۔ اپنے جملہ نفسانی خواہشات اور تمناؤں کی قربانیاں پیش کرتی ہے۔ روزہ جملہ عبادات میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہ منفرد اور اُس کے امتیازی اوصاف بھی جداگانہ ہیں اس کی خصوصیت و فوائد بیشمار ہیں۔ رب ذوالجلال کی رضا مندی اسی عبادت میں پنہاں ہے۔ یہ سب عبادتوں میں افضل اور رب کے نزدیک محبوب ترین عبادات اس لئے قرار پائی کہ اس میں بندوں کی نیتوں کا مکمل اعتبار ہوتا ہے بایں طور کہ اس کا تعلق باطن سے ہے نہ کہ ظاہری اعمال اور حرکات و سکنات سے۔ ایک روزہ دار کی کیفیت کا اندازہ بخوبی اللہ تعالیٰ ہی لگا سکتا ہے اور بشر اس سے عاری ہے کہ وہ کسی روزہ دار پر یہ بات چسپاں کر دے کہ وہ روزہ دار نہیں ہے۔ اس میں صبح سے شام تک خورو نوش سے احتراز کرنا اور تمام نفسانی خواہشات سے بچنا روزہ دار کی بہترین خوبی تصور کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اجرو ثواب میں بے مثال ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس عبادت سے خوش ہو کر اس کے اجرو ثواب کو اپنے لئے خاص کر لیا ہے کہ میَں ہی اس کا بدلہ دوں گا کیونکہ بندے نے اللہ کی خشیت کا بھرپور لحاظ اور اپنا قلبی تعلق بالواسطہ اللہ سے جوڑے رکھا ہے۔ پورے ماہ میں زیادہ نمود سے کوسوں دُو ررہ کر رضائے الٰہی کو حاصل کرنے کے لئے روزہ رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی بشارت بھی سنا دی ہے۔

یعنی ابن آدم کے ہر عمل کا بدلہ دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سوائے روزہ کے، کیونکہ روزہ محض میرے لئے ہے اور میَں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ بندہ میری ہی خاطر نفسانی خواہشات اور کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے۔

جملہ اعمال حسنہ اللہ کے لئے ہی کئے جاتے ہیں اور بندہ اپنے ہر عمل پر ا للہ سے اجرو ثواب کا امیدوار ہوتا ہے، لیکن یہ عبادت ایسی ہے جس کا مکمل اختیار اللہ تعالیٰ کو ہے کہ وہ بندوں کے ماہ رمضان میں عملی کردار کی بنیاد پر پورا پورا ثواب دے۔ اس کے اندر سارے احتمالات ہوتے ہیں اور کسی کو کوئی دیکھتا نہیں ہے، اگر انسان چاہے تو اپنے گھروں یا ہوٹلوں میں کھا پی لے اور روزہ دار ہونے کا دعویٰ کرے، مگر وہ ایسا کچھ نہیں کرتا۔ وہ اس بات کو یاد رکھتا ہے کہ اگرچہ دُنیا کا کوئی انسان نہیں دیکھتا ہے لیکن اللہ رب العالمین کی نگاہ ضرور میرے اوپر ہے۔ چنانچہ وہ ان جملہ اعمال سے اجتناب کرتا ہے جن سے رَب ناخوش ہوتا ہے۔

روزہ سے اسلامی معاشرے پر بڑا اچھا اثر مرتب ہوتا ہے جہاں مسلمانوں کی روحانی تربیت ہوتی ہے وہاں جسمانی تربیت بھی۔ ایمان و یقین میں پختگی آتی ہے۔ صفات حسنہ کی عادت پڑتی ہے روزہ سے اسلامی مساوات کا عملی مظاہرہ ہوتا ہے۔ دوسرے مہینوں میں نہیں تو ماہ رمضان میں سبھی کے دلوں سے فرقت و اختلاف کے آثار ختم ہو جاتے ہیں۔ اتحاد و اتفاق کا ماحول پورے معاشرے پر چھا جاتا ہے، رحمت و برکت کی چھاؤں میں امیر و غریب کا تفاوت مٹ جاتا ہے، بایں طور کہ دونوں بھوک و پیاس کی شدت برداشت کرنے میں مساوی ہوتے ہیں۔ رمضان ہمدردی و غمگساری کا مہینہ ہے جس میں امراء و روساء کے دلوں میں یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ جس طرح ماہ رمضان میں بھوک و پیاس کی شدت سے ہم تڑپتے ہیں بعینہ ماہ رمضان کے علاوہ باقی گیارہ مہینوں میں فقراء و مساکین بھی بھوک سے تڑپتے ہوں گے ان دنوں میں ہمارا یہ فرض بنتا ہے ہے کہ ہم ان کا ہر پل خیال رکھیں اور تمام تفوق اور برتری کو مٹا کر ایک صف میں کھڑے ہونے کی عادت ڈالیں۔

روزہ اسلامی فرائض میں ایک امتیازی فریضہ ہے جس کو تمام مسلمان مل کر ایک مخصوص نرالے انداز میں ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک دستر خوان پر امراء و فقراء کا اکٹھا ہونا ہی وحدت اسلامی کا مظہر ہے۔ اس وقت ساری امتیازی برتری ختم ہو جاتی ہے، ساری آلائشوں اور نجاستوں سے سب یکساں طور پر بچتے ہیں۔ سختیوں کو جھیلتے ہیں، خواہشات کو دباتے ہیں۔ اپنے جسمانی اعضاء کو نظام الٰہی کے تابع بنانے کی سعی کرتے ہیں۔ نیکیوں اور عبادتوں میں اپنے آپ کو محو رکھتے ہیں۔ یہ روحانی سلسلہ ایک ماہ تک دراز رہتا ہے۔

روزہ اُمت مسلمہ میں ہم آہنگی و اتحاد پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس ماہ میں پورا معاشرہ اس اہم فریضہ کی ادائیگی کے لئے تیاری کرتا ہے اور بیداری کی مہم چل پڑتی ہے۔ ایک ساتھ روزہ رکھنا، کھانا پینا، دستر خوان پر بڑے چھوٹے کا امتیاز ختم کر کے افطار کرنا اپنے خالق حقیقی کے حکم کی تعمیل کرنا اتحاد ملی اور وحدت اسلامی کا بہترین مظہر ہے۔ رمضان میں اجتماعی عبادت و ریاضت شدت پیمانہ وفا کی تجدید ہے کہ اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے برگزیدہ بندہ محمد ؐ کے بتائے ہوئے ارشادت و ہدایات کی روشنی میں روزہ رکھ کر تیرے ہاتھوں اجر و ثواب پانے کی اُمید رکھتے ہیں۔ تیری نصرت و اعانت، رحمت و مغفرت اور برکت کے طلب گار ہیں۔ ہم اس قوت و توانائی کے خواست گار ہیں جس کو پا کر معاشرہ میں بہار لا سکیں۔ گندگیوں اور نجاستوں سے معاشرہ کو پاک کر دیں او احکام الٰہی کی پابندی ہمارا طرۂ امتیاز بن جائے۔

تقدیر کے پابند نباتات و جمادات

مومن فقط احکام الٰہی کا ہے پابند

ماہ رمضان کی برکت اور تقدس و احترام کا نتیجہ ہے کہ دوسرے مہینہ میں چلنے والی جنگ روک دی جاتی ہے، ہر ایک کے دل میں اس کے احترام کے ساتھ ساتھ بھوک و پیاس کے عالم میں لڑنے والی قوم کے تئیں ہمدردی و غم خواری کے جذبات امڈ پڑتے ہیں، یہ تو احترام جاہلیت کے زمانہ میں بھی تھا اور آج بھی اگرچہ اقوام عالم کے ظلم و تعدی کا نشانہ مسلمان اس ماہ میں بھی گاہے بگاہے بن جاتے ہیں، تاہم اس سے انکار ناممکن ہے کہ یہ شہر المواسات ہے اپنے اندر بہت سارے پیغامات لے کر آتا ہے اس میں وحدت اسلامی کا بھی پیغام ہوتا ہے۔ چنانچہ ہمیں ماہ رمضان کے احترام و تقدس کی پاسداری کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی و غمخواری اخوت و بھائی چارگی کا جذبہ برقرار رکھنا چاہئے۔ بیش از بیش اللہ کی عبادت و ریاضت میں اپنے قیمتی اوقات کو صرف کرنا چاہئے تاکہ نیکیوں کا یہ موسم بہار ہمارے لئے ہلاکت و تباہی اور خسران و زیاں کا ذریعہ نہ بنے، بلکہ عروج و ارتقاء کی اعلیٰ منازل کی راہ سجھائے ،سب کے دلوں میں الفت کے بیج بونے کا درس دے۔ امراء و فقراء کو وحدت کی لڑی میں پرونے کا ہنر بتائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اور جملہ مسلمانوں کو اس بات کی توفیق دے کہ ہم روزہ جیسی اہم عبادت کو انجام دے کر اللہ کی خوشی و رضا مندی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں اور وحدت و یگانگت کی فضا قائم کر سکیں۔(آمین)

***

مزید : ایڈیشن 2