کھیل تو جاری ہے لیکن عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہو گا

کھیل تو جاری ہے لیکن عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہو گا

تجزیہ:قدرت اللہ چودھری

وزیراعظم نواز شریف جے آئی ٹی میں پیش ہوگئے، جن سوالات کے جوابات مانگے گئے وہ دے دئے اور پھر یہ بھی پوچھ لیا کہ کوئی اور سوال بھی ہو تو کرلیں، نواز شریف اس سیشن کے بعد باہر آئے تو تھوڑے عرصے کے بعد عمران خان کا یہ رد عمل سامنے آگیا کہ انہوں نے جے آئی ٹی کے روبرو کوئی نئی بات نہیں کی، خان صاحب کی اس بات پر کہا جاسکتا ہے ’’خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھئے‘‘ جس جے آئی ٹی میں صرف ٹیم کے ارکان تھے اور ایک وزیراعظم، اس کی سب سے پہلے اطلاع عمران خان کو کیسے پہنچی۔ لگتا ہے ان کی حالت شاعر کی سی ہے جس نے کہا تھا۔

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

اب جس جے آئی ٹی میں کوئی اور نہیں تھا اس کی اطلاع یا تو خان صاحب کو وزیراعظم دے سکتے ہیں یا جے آئی ٹی کے ارکان، ان میں سے اگر کسی نے نہیں دی تو پھر لگتا ہے ان کے پاس غالب کی طرح غیب سے مضامین آتے ہیں جنہیں وہ کسی تبدیلی کے بغیر میڈیا کو پیش کردیتے ہیں اور یوں گلشن کا کاروبار چل رہا ہے ورنہ بازار سیاست کی رونقیں تو مانگ پڑ جاتیں، اب ایک دلچسپ صورتحال ہے وزیراعظم کے حامی کہتے ہیں انہوں نے تاریخ رقم کردی اور قانون کو سر بلند کردیا، لیکن مخالفین کے نزدیک وزیراعظم کو پہلے استعفاٰ دینا چاہئے تھا پھر پیش ہونا چاہئے حالانکہ سارا جھگڑا ہی اس استعفےٰ کا ہے، اگر نواز شریف دھرنے کے دنوں میں ہی استعفاٰ دے دیتے جب ایک ایجنسی کے سربراہ کی طرف سے بھی یہ مطالبہ سامنے آگیا تھا تو حالات ہی مختلف ہوتے۔ سکرپٹ کے مطابق استعفاٰ آجاتا اور عہدوں کی بندر بانٹ ہوجاتی، جو منصوبہ بنایا گیا تھا اس کے مطابق بعض افسر توسیع پا جاتے، اور اس طرح اپنا گیم پلان آگے بڑھاتے، لیکن ایک تو نواز شریف نے استعفاٰ نہیں دیا دوسرے جاوید ہاشمی نے لنکا ڈھا دی، نتیجہ یہ ہوا کہ اب یہ کہنا پڑتا ہے کہ 126 روزہ دھرنا بھی بے کار گیا، حالانکہ اس سے گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز کا ایک ریکارڈ تو بن ہی گیا پھر یوں ہوا کہ توسیع کے منصوبہ سازوں کو وقتِ مقررہ پر گھروں کو جانا پڑا۔ اس وقت یاروں نے کہاں بستیاں بسائی ہوئی ہیں معلوم نہیں۔ لیکن 2014ء سے 2017ء آگیا اور استعفے کا پرنالہ وہیں کا وہیں ہے، وکلاء کہتے ہیں کہ نواز شریف کو استعفاٰ دے کر جے آئی ٹی میں پیش ہونا چاہئے تھا، قمر زمان کائرہ کہتے ہیں ان کے پاس کوئی آپشن نہیں تھا، چلئے جو بھی ہوا، ہو تو گیا، بعد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ زمانہ گیا جب سب کچھ پردوں سے پیچھے چھپا رہتا تھا اب کٹھ پتلیوں کے کھیل نہیں کھیلے جاسکتے، انہیں کہنا چاہئے کامیاب نہیں ہوسکتے کیونکہ کٹھ پتلیاں کہیں گئی نہیں، یہیں موجود ہیں، انہیں جنبش دینے والے بھی موجود ہیں، لیکن کھیل کامیاب نہیں ہوپاتا کیونکہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد کٹھ پتلیاں اپنا بنا بنایا کھیل خود ہی بگاڑ لیتی ہیں۔ آپ کو یاد نہیں رہا تو دھرنا فلم کا فلیش بیک چلا کے دیکھ لیں، پتلیاں بھی رقصاں نظر آئیں گی، اور پتلی تماشے والے بھی، تماشا بھی نظر آئیگا اور اس تماش گاہ کے تماش بین بھی، افتخار عارف یاد آئے،

کہانی آپ الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے

یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہوگا

لیکن تماشے کے اختتام سے پہلے بھی بہت کچھ واضح ہے۔ وزیراعظم نواز شریف تو ایک جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوگئے جو عدالت نہیں، عدالت کی بنائی ہوئی ایک ٹیم ہے جس کے ذمے 60 دن میں ایک کام مکمل کرنے کی ذمہ داری لگائی گئی ہے لیکن ہمارے ملک کے دو نامور سیاستدان جو اپنی اپنی جماعتوں کے سربراہ بھی ہیں، قانون کے تحت قائم عدالتوں میں بھی پیش نہیں ہوتے ان پر یہ مقدمات دھرنے کے دنوں میں قائم ہوئے تھے لیکن وہ ایک پیشی پر بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے، عدالتیں انہیں اشتہاری قرار دے چکیں۔ سنا ہے ایک عدالت کی طرف سے بنی گالہ کی 300 کنال کی ’’کاٹیج‘‘ کے باہر ایک نوٹس بھی چسپاں ہے جس میں صاحب ’’کاٹیج‘‘ کو عدالت میں طلب کیا گیا ہے لیکن وہ نتھیا گلی کے پر فضا مقام پر لڈو سے دل بہلا رہے ہیں، عدالت میں جاکر اپنی صفائی پیش نہیں کرتے، دعویٰ پھر بھی کرتے ہیں کہ وہ بڑے انصاف پسند ہیں، اسی طرح ایک دوسرے رہنما اعتکاف کی عبادت کیلئے بیرون ملک سے تشریف لائے ہیں جو سیاسی رہنما ان کے لئے چشم براہ تھے انہوں نے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ ایک سیاسی گرینڈ الائنس بنائیں، یہ درخواست تو انہوں نے مان لی ہے لیکن یہ کام اگر اتنا آسان ہوتا تو پرویز مشرف نہ کرلیتے جو محرومِ اقتدار ہونے سے لیکر اب تک اس کام میں لگے ہوئے ہیں، پہلے وہ کراچی میں بیٹھ کر گرینڈ الائنس بنانے کیلئے کوششیں کرتے تھے لیکن یہ بیل منڈھے نہ چڑھی، وجہ اس کی یہ تھی کہ جو سیاسی جماعتیں اس اتحاد میں شرکت کی حامی بھرتی تھیں ان کی پہلی شرط ہی یہ ہوتی تھی کہ اتحاد کا اہم عہدہ اس کے حصے میں آئے، یہی کوششیں کرتے کرتے جنرل صاحب بیرون ملک پدھار گئے۔ اب زیادہ وقت دبئی میں گزارتے ہیں اور دل بہلانے کے لئے گرینڈ الائنس کی مالا جپتے ہیں۔ لندن کا چکر بھی لگا آتے ہیں، امریکہ بھی چلے جاتے ہیں لیکن پاکستان نہیں آتے کہ یہاں کی عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمات ہیں۔ وہ ان میں پیش ہونا اپنی توہین سمجھتے ہیں ان کی خواہش غالباً یہ ہے کہ کوئی خصوصی طیارہ انہیں پاکستان لانے کیلئے بھیجا جائے اور وہ واپس آکر دوبارہ تختِ اقتدار پر متمکن ہوجائیں۔ لیکن یہ اعزاز بھی جنرل راحیل شریف کے حصے میں آگیا جنہیں لانے کیلئے خصوصی طیارہ شاہ سلمان نے بھیج دیا تھا اور اس وقت وہ ریاض میں اسلامی فوجوں کا اتحاد بنا رہے ہیں۔ جن رہنماؤں نے ساری امیدیں گرینڈ الائنس سے وابستہ کرلی ہیں انہیں شاید معلوم نہیں کہ ایسی بہت سی کوششیں پہلے ہی بری طرح ناکام ہوچکی ہیں لیکن ایک اور کوشش کرنے میں کیا حرج ہے؟ زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ انجام پہلے سے مختلف نہیں ہوگا۔

مزید : تجزیہ