آج کاجمعہ ’’یوم ندائے مسلم ‘‘ کے طور پر منایا جائے گا،پاکستان علماء کونسل

آج کاجمعہ ’’یوم ندائے مسلم ‘‘ کے طور پر منایا جائے گا،پاکستان علماء کونسل

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)پاکستان علماء کونسل کے تحت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے آج (جمعہ 16جون کو) ملک بھر میں ’’یوم ندائے مسلم ‘‘ کے طور پر منایا جائے گا۔جمعہ کے اجتماعات میں دہشت گردی ،انتہاپسندی اور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کیخلاف مذمتی قرار دادیں منظور کی جائیں گی۔یہ بات پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے ملک بھر کے علماء ،خطباء،آئمہ مساجد کے نام اپنے ایک پیغام میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کی تقسیم امت مسلمہ کے مقدس مقامات کے امن سے کھیلنے کی سازش ہے۔ پاکستان کی مصالحتی پالیسی مسلم امہ کے جذبات کی ترجمانی ہے۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان اور وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی ملاقات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔اسلامی ممالک کو متحد ہوکر امت مسلمہ کے مسائل کے حل کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ،انتہاپسندی عالمی اسلامی عسکری اتحاد کا قیام عالم اسلام کے مفاد میں ہے۔ مسلم امہ کو دہشت گردی ،انتہاپسندی سے بچانے کیلئے مسلم حکمرانوں کو اپنے اختلافات ختم کرکے آگے بڑھنا ہوگا۔ داعش کا وجود عالم اسلام کیلئے خطرہ ہے۔ اسلامی ممالک کو داعش کے مقابلہ کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپنا نا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیزاور وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف قطر اور عرب ممالک کی صورتحال پر ملاقات انتہائی احسن اقدام ہے۔اس ملاقات کے مثبت اثرات سامنے آئیں گے اور عرب ممالک کے درمیان برھتی ہوئی تلخیوں کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ شام ،عراق ،فلسطین،برما اورکشمیرکے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم افسوسناک ہیں۔ پاکستان علماء کونسل مظلوم شامیوں ،عراقیوں ،کشمیریوں اور فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرتی رہے گی۔ صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے ملک بھر کے علماء ،خطباء،آئمہ مساجد سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آج (جمعہ 16جون)کا دن دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں سے اظہاریکجہتی کیلئے پاکستان علماء کونسل کے تحت ’’یوم ندائے مسلم ‘‘ کے طور پر منایا جائے۔ جمعہ کے خطبات میں دہشت گردی ،انتہاپسندی کیخلاف اور امت مسلمہ پر ہونے والے مظالم سے عوام الناس کو آگاہ کیا جائے اور اس کیخلاف مذمتی قراردادیں منظور کی جائیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 4