ہو سکتا ہے یہ اسمبلی مدت پوری نہ کر سکے اور تحلیل ہو جائے : وزیر اعلٰی سندھ

ہو سکتا ہے یہ اسمبلی مدت پوری نہ کر سکے اور تحلیل ہو جائے : وزیر اعلٰی سندھ

کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ حکومت کے تحلیل ہو جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ اسمبلی اپنی مدت پوری نہ کرسکے اور تحلیل ہوجائے۔ سندھ حکومت 161بلین روپے استعمال کرچکی ہے۔ کے ایم سی کوگزشتہ برس8 ارب روپے ترقیاتی کاموں کیلیے دیے، بلدیہ عظمی کراچی نے کیا کیا؟ جب کہ ہماری اسکیموں پر 7 ارب خرچ ہوئے ہیں جو نظرآرہا ہے صدر، ایمپریس مارکیٹ کے اطراف گلیوں میں سیوریج لائنیں تبدیل کیں۔ میئر کراچی نے نئی اسکیموں کیلیے 9 ارب روپے مانگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں زرعی انکم ٹیکس کاہدف ایک ارب روپے رکھاہے۔اقلیتوں کیلیے گرانٹ میں اضافہ کردیاہے۔ اس وقت تک سندھ کو وفاق سے 68بلین کم ملے ہیں۔ایک جگہ وزیراعلی سندھ نے حزب اختلاف کے نند کمار سے مخاطب ہوتے کہا کہ آسمان پر تھوکنے سے اپنا منہ خراب ہوتا ہے، آپ نے شہید ذوالفقار علی بھٹو پر الزام لگایا؟ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی محنت و کاوشیں سب کو یاد ہیں، عدالتی قتل بھی سب کو یاد ہے، 1970سے پیپلز پارٹی کے لوگ منتخب ہوتے ہوئے آئے ہیں، انقلاب 1970میں شہید ذوالفقار علی بھٹو لایا تھا، لوگوں کو زبان دی، عوام کو بولنے کی جرائت بھی دی۔وزیراعلی سندھ نے قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن کو دعا دیتے کہا کہ وہ آئندہ بھی حزب اختلاف کا لیڈر بنے۔ انہوں نے کہا کہ آج مجھے پتہ چلاکہ ایم کیو ایم پاکستان ہے، آپ تو ایم کیو ایم کے نام سے جیت کر آئے ہیں۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ہم نے دیہی اور شہری تقسیم کبھی نہیں کی۔ محمد حسین نے میرے والد کی حکومت کو سراہا لیکن میری حکومت سے مطمئن نہیں؟ آپ حقوق چاہتے ہیں تو پھر آپ سندھ کو تقسیم کرنے کے خواب دیکھنا بند کریں۔ آپ کو چائنا کٹنگ اور دہشتگردی کا حق کبھی نہیں ملے گا۔ میری آپ لوگوں سے استدعا ہے کہ آپ سندھ کے ہوجاؤ۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ بجٹ 18-2017 ٹیکس سے پاک بجٹ ہے، 5ڈائریکٹ اور 10ان ڈائریکٹ ٹیکسز لگائے گئے، یہ بات غلط ہے کہ ٹیکس کراچی سے لیتے ہیں اور خرچ یہاں نہیں کرتے، ہم نے کہا ہے کہ سیلز ٹیکس آن گڈز سندھ کی وصولی کے کیے دیا جائے۔ کچھ لوگ زرعی ٹیکس کی آڑ میں اپنے ٹیکس چھپا رہے ہیں تھے ہم نے ان کو روکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے سال کے لیے زرعی انکم ٹیکس کی مد میں 1بلین رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھجور کے درخت خریدنے کے لیے ایک روپیہ بھی نہیں دیا۔ کھجور کے درخت کسی ٹھیکے دار نے مفت میں دیے ہیں۔وزیراعلی سندھ نے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے اجلاس کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت 76فیصد وفاقی حکومت سے جب کہ 24فیصد خود وسائل پیدا کرتا ہے۔ سندھ واحد صوبہ ہے دیگر صوبوں کی بنسبت جو اپنے وسائل پر انحصار کرتا ہے۔ سب سے پیچھے خیبرپختونخواصوبہ ہے، جوکہ 89فیصد وفاقی حکومت اور 10فیصد خود وسائل پیدا کرتا ہے۔ خیبرپختونخوا کا ترقیاتی بجٹ 33 فیصداورپنجاب کا 32 فیصد ہے۔ اور اسکے بعد پیچھے رہنے والا صوبہ پنجاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کا بجٹ ہر صوبے کے مقابلے میں بہتر ہے۔

مزید : علاقائی