پانامہ پالیسی

پانامہ پالیسی
 پانامہ پالیسی

  

اگر وزیراعظم کا ووٹ بینک قائم ہے ،پارٹی متحد ہے اور عمران خان کومطلوبہ عوامی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی تو کہا جا سکتا ہے کہ پانامہ سکینڈل پر وزیراعظم نواز شریف کی پالیسی درست تھی۔ اس پالیسی کو اپنا کر اگرچہ شیر زخمی ضرور ہوا ہے، لیکن زخم اتنا گہرا نہیں کہ بھر نہ سکے ۔دوسری طرف عدالت عظمیٰ کی جانب سے سیسیلین مافیا کی آبزرویشن پر حکومتی ترجمان کے دو ٹوک موقف نے پانامہ مقدمے کے فیصلے میں گاڈ فادر کے حوالے کو بھی کمزور کردیا ہے ۔ عوام میں تاثر ابھرا ہے کہ سپریم کورٹ کو یہ باتیں نہیں کرنی چاہئے تھیں، کیونکہ اس سے دُنیا میں پاکستان کا امیج متاثر ہوا ہے۔

آج وزیراعظم کے خلاف گلی گلی میں شور ہے والا نعرہ دم توڑ چکا ہے ، اپوزیشن کوشش کے باوجود عوام کو موبلائز نہیں کر سکی ، کیونکہ وزیراعظم کسی طور پر بھی یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ وہ اپنے آپ کو قانون اور انصاف سے ماورا سمجھتے ہیں،اس کے برعکس وہ یہ کریڈٹ لیتے ہیں کہ اس کے باوجود کہ آئین اور قانون کی رو سے انہیں بہت سے استثناء حاصل تھے ، انہوں نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کے لئے اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کردیا۔

شیخ رشید نے مژدہ سنایا ہے کہ عید کے بعد اپوزیشن حکومت کیخلاف سٹرکوں پر ہو گی،لیکن جو پہلے بھوکے وہ عید کے بعد بھی بھوکے کے مصداق اگر اپوزیشن میں اتنا دم خم ہوتا تو اب تک کئی عیدیں برپا کر چکی ہوتی۔ عالم یہ ہے کہ عمران خان اپنے ساتھ پیپلز پارٹی کے کرپٹ سیاست دانوں کو ملا کر تاثر دینے کی ناکام کوشش رہے ہیں کہ وہ ملک کے پاپولر لیڈ ر بن چکے ہیں اور مُلک سے کرپشن کے خاتمے کی مہم زور پکڑتی جا رہی ہے ۔

لمحہ بھر کو سوچئے کہ اگر وزیراعظم اس اصولی اور قانونی موقف کو اپنا لیتے کہ ان کا لندن کے فلیٹوں سے کوئی تعلق نہیں، ان کے بچے پاکستان سے باہر رہتے ہیں اور پاکستان میں ان کے کاروبار سے متعلق کوئی پوچھ گچھ نہیں ہو سکتی اور پانچ سال سے اوپر کے انکم ٹیکس کے معاملات کو نہیں کھنگالا جا سکتا تو کیا ہوتا؟۔۔۔ا ن کے اس موقف پر بے تحاشا تنقید ہوتی ، اسلامی خلفاء کے حوالے دیئے جاتے اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا جاتااور گلی گلی میں بات ہوتی کہ وزیر اعظم احتساب سے بھاگ گئے ہیں،چور ثابت ہو گئے کیونکہ وہ اپنے آپ کو بے گناہ ثابت نہیں کر سکے۔

اگر آج بھی یہ اصولی اور قانونی پوزیشن لے لی جائے تو صورتِ حال بگاڑ کا شکار ہو جائے گی ۔ یہ حربہ کہیں پر کارگر ثابت ہوا ہے تو سپریم کورٹ میں ہوا ہے جہاں یہ موقف لیا گیا کہ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے اِس لئے اس کے سامنے شہادت نہیں دی جا سکتی اور نتیجتاً جے آئی ٹی تشکیل پا گئی۔

سوال یہ ہے کہ کیا آج جے آئی ٹی کے سامنے یہ موقف اختیار کیا جاسکتا ہے کہ حسین اور حسن نواز نان ریذیڈنٹ پاکستانی ہیں،ان کے اثاثوں کی چھان پھٹک پاکستان میں نہیں ہو سکتی اور یہ کہ پانچ سال سے زائد عرصے کا ٹیکس ریکارڈ نہیں مانگا جا سکتا۔ اگر آج یہ پوزیشن لی جاتی ہے تو لوگ کہیں گے کہ وزیراعظم احتساب سے بھاگ گئے۔ اسی لئے یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جے آئی ٹی غلط کر رہی ہے ۔

میڈیا اور اپوزیشن مل کر کچھ بھی ہنگامہ برپا کر سکتے ہیں۔دیکھا جائے تو خود نواز شریف بھی میمو سکینڈل پر اسی طرح میڈیا کے ہمرکاب تھے اور اس سے قبل عدلیہ بچاؤ تحریک میں میڈیا نواز شریف کی سپورٹ میں کھڑا ہو گیا تھا۔

آج اگر شریف فیملی لاچار بنی کہیں ملزم ، کہیں مجرم بنی کھڑی ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ میڈیا وزیراعظم کے خلاف ایکٹو ہے اور اس نے مسلسل پراپیگنڈے سے ایسا بڑا سوالیہ نشان کھڑا کیا ہوا ہے کہ وزیراعظم کو اپنی پوزیشن واضح کرتے کرتے یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے ۔یہ بے چارگی ، یہ لاچارگی اسی لئے ہے۔اپوزیشن کے مطالبے کو میڈیانے مکالمے میں تبدیل کردیا، وزیراعظم مجبور ہو گئے کہ اپنی پوزیشن واضح کریں۔میڈیا پر تسلسل کے ساتھ شریف فیملی کے خاکے چلائے گئے اور ایسا تاثر بنایا گیا، جس سے پتہ چلتا تھا کہ کرپشن ہوئی ہے ۔ پھر تلاشی کی بات شروع ہو گئی۔

وہ جو پانامہ سکینڈل کو زندہ رکھنے میں عمران خان کے کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں انہیں میڈیا اور چوہدری اعتزاز احسن کا شکر گزار ہونا چاہئے جنہوں نے پانامہ پر ٹی آراوز کے معاملے پر بہت موثر سیاست کی اور اسے ایک عوامی مسئلہ بنا دیااورحاکم وقت ماتم وقت کا نشان بنا دیا ۔

مزید : کالم