آئیں حساب کر لیتے ہیں!

آئیں حساب کر لیتے ہیں!
 آئیں حساب کر لیتے ہیں!

  

یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اہم دن ہے جب پاکستان کے منتخب آئینی وزیراعظم کو ان کے خاندانی کاروبار اور جائیداد پر حساب دینے کے لئے ایک چھ رکنی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش کیا گیا ہے اور اگر خان صاحب اسے اپنی کامیابی سمجھتے ہیں تو یہ بہترین موقع ہے کہ ایک مرتبہ پھر جمع ، تفریق کر لی جائے، حساب کتاب کر لیا جائے، اس کا جائزہ لے لیا جائے کہ کس نے کیا کھویا کیا پایا، یہ کھاتہ تب کھلا تھا جب خان صاحب نے اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی ننگی حمایت کے ساتھ لاہور کے مینار پاکستان پر ایک بڑے جلسے کا انعقاد کیا تھا، اس جلسے کے شرکاء کی بڑی تعداد وہ ممی ڈیڈی کلاس تھی جو اس سے پہلے مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے جلسوں میں عمومی طور پر نظر نہیں آتی تھی مگر اس جلسے سے شروع ہونے والے کھیل کا پہلا راونڈ خان صاحب آج سے چار برس پہلے گیارہ مئی کی شام ہار گئے تھے اوراسی گیارہ مئی کی رات کھیل کے دوسرے راونڈ کا آغاز ہوا تھا جس میں پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سازش کے تحت انتخابات میں دھاندلی کے من گھڑت الزامات عائد کرتے ہوئے آزادی کے دن کو احتجاج کے آغاز کے لئے چنا اور ایک سو چھبیس دن طویل دھرنا دیا گیا تھا ، سولہ دسمبر کے سیاہ دن بدترین دہشت گردی کو فیس سیونگ کے لئے استعمال نہ کیا جاتا تو یہ دھرنا بھی اپنی مو ت آ پ مر رہا تھا، سازشی کھیل کے دوسرے راونڈ کو ایکسپوز کرنے میں جمہوریت کو ایمان سمجھنے والے مخدوم جاوید ہاشمی کے الفاظ مجھے یاد آ رہے ہیں جنہوں نے اس کے بعد جوڈیشئل مارشل لا کی بھی بات کی تھی،بہرحال، دوسرا راونڈ بھی عمران خان اس وقت ہار گئے تھے جب وہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں منظم دھاندلی ثابت کرنے میں ناکام رہے تھے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان کی پارٹی نے خیبرپختونخوا میں بھی سادہ اکثریت حاصل نہیں کی تھی اور اگر وفاق میں اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی تھوڑی سی بھی کوشش کرتی تو وہ وہاں بھی حکومت قائم کر سکتی تھی،اسی دوران گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات میں پی ٹی آئی مکمل طور پر ناکام رہی تھی۔

دوسرے راونڈ میں ناکامی کے بعد پاناما لیکس کے نا م پر تیسرے راونڈ کا آغاز کیا گیااور سمجھا یہ جا رہا تھا کہ اس کے ذریعے وزیراعظم نواز شریف کی مقبولیت کے تابوت میں کیل ٹھونک دئیے جائیں گے مگریہ مقبولیت ایک بھوت کی طرح ان کے مخالفین کو چمٹ گئی، جی ہاں، پی ٹی آئی نے پے در پے ضمنی انتخابات ہارے، اس وقت پاناما لیکس کا غلغلہ اپنے عروج پر تھااور اپوزیشن کی سیاست کو اس وقت ہونے والی لوڈ شیڈنگ کا سہارا بھی مل رہا تھا جب پی ٹی آئی کا امیدوار تلہ گنگ کے ضمنی انتخاب میں جماعت اسلامی ،قاف لیگ اور پیپلزپارٹی کی سپورٹ کے باوجود ہار گیا۔ عمران خان کا المیہ ہے کہ جو گڑھا وہ دوسروں کے لئے کھودتے ہیں خود سر کے بل اس میں جا گرتے ہیں۔ یقینی طور پر عوامی مقبولیت کا فیصلہ تو اگلے برس عام انتخابات میں ہی ہو گا مگر اس سے پہلے جو محاذ کھلے ہوئے ہیں ان پر بات کر لیتے ہیں ،اس انوکھی لڑائی میں عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے ترجمان کے طور پر موجود ہیں اور ان کی پارٹی کے ایک ترجمان فواد چودھری اسی چھ رکنی تفتیشی ٹیم کی پاسبانی اور ترجمانی کر رہے ہیں۔ خان صاحب نے پاناما لیکس کو ہتھیار بنایا تو جہاں وزیراعظم نواز شریف کی کوئی کمپنی سامنے نہیں آئی مگر عمران خان کی ایک سے زیادہ آف شور کمپنیاں سامنے آ گئیں۔ بات لندن کے فلیٹوں کی کی گئی تو پاکستان میں خود عمران خان کے بنی گالہ میں بنائے ہوئے عظیم الشان فارم ہاوس کے سامنے سوالیہ نشان لگ گیا کہ اس کے لئے رقم کہاں سے آئی۔ عمران خان کے والد بہرحال کوئی کاروباری اور امیر ترین شخص نہیں تھے اور خان صاحب کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی بہترین کمائی بطور کرکٹر ہی کی جس کیرئیر کو وہ عشروں پہلے ترک کر چکے ہیں ۔ اب وہ بظاہر کوئی کاروبار نہیں کرتے مگر اس کے باوجود ایک ارب چالیس کروڑ روپوں کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ انہوں نے شریف خاندان پر کرپشن کا الزام لگایا تو خود ان پر ایسے الزامات لگے کہ جو شاید ہی کسی دوسرے سیاستدان پر لگے ہوں۔ ان کی اپنی پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر ہاتھوں میں ثبوت لئے غیر قانونی غیر ملکی فنڈنگ کا مقدمہ لئے الیکشن کمیشن سے سپریم کورٹ تک عمران خان کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔یہ الزام تو سب سے خوفناک ہے کہ والدہ کے نام پر عوامی چندے سے ہسپتال بنایا اور پھر کوئی کاروبار نہ کرنے والی بہنوں کے نام پر آف شور کمپنیاں بنا لیں۔ ہمیں ان مخالفین کو سراہنا چاہئے جو غصے میں بات تو کر لیتے ہیں مگر ابھی تک انہوں نے امریکی عدالت سے ہونے والے ذاتی نوعیت کے اہم ترین اخلاقی فیصلے اور محترمہ شوکت خانم کے نام پر بننے والے ہسپتال کے فنڈز میں خورد برد کے معاملات کو عدالتوں میں نہیں اٹھایا۔

میں نے کہا کہ خان صاحب کا المیہ ہے کہ جو گڑھا وہ دوسروں کے لئے کھودتے ہیں خود سر کے بل اس میں جا گرتے ہیں اور اس کی ایک مثال بنی گالہ میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو لکھا گیا خط ہے اوراس کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خود ان کا تعمیر کردہ تین سو ایکڑ کا زرعی فارم ایک نہیں بلکہ تین ریاستی اداروں کے قوانین کے خلاف ہے اور اس سے بھی بڑا لطیفہ یہ وقوع پذیر ہوا ہے کہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی پرشدید ترین احتجاج کرنے والے عمران خان خود اپنی پارٹی میں شفاف انتخابات نہیں کروا سکے۔ مجھے ان پارٹی انتخابات کی بات نہیں کرنی جن میں دھاندلیوں کی تحقیقات جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین نے کی تھیں اوردھونس دھاندلی کرنے والوں کی نشاندہی پر خود پارٹی سے نکال باہر کئے گئے تھے، مجھے گذشتہ برس مقرر ہونے والے چیف الیکشن کمشنر تسنیم نورانی سے اختلافات کو بھی ڈسکس نہیں کرنا، ہاں، اعظم سواتی کے الیکشن ڈرامے پر ضرور بات کرنی ہے ۔ اس ڈرامے میں مبینہ تئیس لاکھ ووٹروں میں سے صرف دس فیصد یعنی دولاکھ تیس ہزار ووٹروں نے حق رائے دہی استعمال کیا جبکہ نوے فیصد اپنی ہی پارٹی کے الیکشن سے لاتعلق رہے۔ یہاں یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اس نیک محمد خان کو نہیں جانتا جس نے عمران خان کے مقابلے میں چئیرمین کا الیکشن لڑا مگر وہ نامعلوم شخص اکتالیس ہزار ووٹ لے گیا، یعنی پارٹی کے اکتالیس ہزار کارکن عمران خان کی بجائے نیک محمد خان کو پارٹی کا سربراہ دیکھنا چاہتے ہیں جو ان کی اختیار کردہ پالیسیوں کی ناکامی کی بڑی دلیل ہے۔میں سوچ رہا ہوں کہ یہاں اگر نیک محمد خان کی بجائے کوئی متحرک رہنما مقابلے میں ہوتا توخان صاحب کو لینے کے دینے بھی پڑ سکتے تھے۔ مجھے تو یہ بھی شک ہے کہ خان صاحب کو ملنے والے ووٹوں میں کارکنوں نے انصاف پینل کو جتوانے کے لئے ہر موبائل کمپنی کی سم سے الگ الگ ووٹ کاسٹ کیا ہو گا۔

چلیں ! واپس اسی حاضری پر آجاتے ہیں ، خان صاحب جس پاناما لیکس اورجے آئی ٹی کو مسلم لیگ نون کی مقبولیت میں خاتمے کی بنیاد سمجھ رہے تھے وہی اس کی مقبولیت میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافے کا سبب بن گئے ہیں۔ اس کے لئے سیانے تدبیر کند بندہ تقدیر زند خندہ کی مثال استعمال کرتے ہیں۔ چھوڑو گینگ نے حسین نواز کی تصویر یہ سوچ کر سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی کہ ایک حکمران کے بیٹے کو اس حالت میں بیٹھے دیکھ کر اپنے بدنام زمانہ میڈیا سیلوں کے ذریعے اسے عوامی سطح پر بے عزت کیا جا سکے گا مگر عزت اور ذلت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، تصویر لیکس سے جے آئی ٹی میں پیشی سمیت ہر معاملے میں شریف خاندان کو ہی اخلاقی اور سیاسی میدانوں میں فائدہ ملا ہے۔ وہ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا جو اس سے پہلے مسلم لیگ نون کے مخالفوں سے بھرا رہتا تھا، آج وہ وقت آ گیا ہے کہ اس پر وزیراعظم نواز شریف کی سرکاری ملازمین پر مشتمل جے آئی ٹی میں پیشی کی خبر آنے کے صرف گیارہ منٹ کے اندر ’ میں بھی نواز ہوں‘ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، ہاں ، پہلے لوگ نہیں پوچھتے تھے مگر اب تواس کمانڈو بارے بھی سوال ہوتا ہے جو سپریم کورٹ میں حاضر ہونے کی بجائے عمران خان کی ہی سازشی تحریک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا اوریہ سوال بھی ہوتا ہے کہ نواز شریف کی تلاشی کا نعرہ لگانے والے عمران خان پارٹی فنڈنگ کیس میں اپنی تلاشی دینے سے کیوں بھاگ رہے ہیں ؟

مزید : کالم