بدترین عمرہ بحران کا ذمہ دار کون؟

بدترین عمرہ بحران کا ذمہ دار کون؟
 بدترین عمرہ بحران کا ذمہ دار کون؟

  

پاکستان دُنیا بھر کے ممالک میں عمرہ کاروبار میں پہلے نمبر پر ہے عمرہ کاروبار باقاعدہ ٹریڈ کی شکل میں آگے بڑھ رہا ہے آج تک پاکستان کی تاریخ میں12لاکھ سے زائد عمرہ ویزہ سعودیہ سے پاکستان کے لئے جاری ہو چکے ہیں۔ انڈونیشیا دوسرے نمبر پر ہے۔ انڈیا تیسرے نمبر اورترکی چوتھے نمبر پر، اسی طرح اردن، الجزائر، مصر، عراق اور دیگر ممالک کے نمبر آتے ہیں۔ پاکستانی حکومت کی عدم دلچسپی اورمن مانی ہونے کے باوجود عمرہ انڈسٹریز ہر سال آگے بڑھ رہی ہے، ہزاروں خاندان اس کاروبار سے وابستہ ہیں، ہر دوسرا فرد اس کاروبار میں آنے کا خواہاں ہے اس کی بنیادی وجہ بطور مسلمان دینی لگاؤ حرمین شریفین سے محبت اور زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ عمرہ اور حج کی سعادت کی خواہش ہے جو تمام خواہشات پر غالب آتی ہے اس وقت پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، قصبات میں عمرہ سے وابستہ ٹریول ایجنٹ ، عمرہ ایجنٹ اور سب ایجنٹ کی تعداد بلامبالغہ لاکھوں میں ہے، لاکھوں افراد ان دفاتر سے مزید وابستہ ہیں پاکستان کی تاریخ میں اس سال عمرہ سب سے زیادہ ہوا ہے دوست بتا رہا تھا لوگ خوار اور دیوالیہ بھی شاید اس سال سے زیادہ کبھی نہیں ہوئے۔ عمرہ کے کاروبار بارے جب بھی اکثر تحریر کرتا ہوں تو بہت سے ہمارے دوست ناراض ہوتے ہیں ان سے جب مَیں کہتا ہوں بتائیں عمرہ کے کاروبار کا کنٹرول کس کے پاس ہے۔ عمرہ کے نام پر ہر سال درجنوں افراد سستے عمرہ کے نام پر دفتر بناتے ہیں، بینر لگاتے ہیں، لوٹ مار کرتے ہیں، کروڑوں روپے لے کر اچانک غائب ہو جاتے ہیں۔ ایف آئی اے جب میدان میں آتی ہے اُس وقت تک دھوکہ کرنے والے بیرون مُلک فرار ہو جاتے ہیں۔ سعودی حکومت جو خود آزمائش کا شکار ہے اور ریونیو بڑھانے کے بہانے ڈھونڈ رہی ہے دُنیا بھر کی طرح پاکستانی عمرہ ایجنٹوں کے مطالبے پر اس سال عمرہ سیزن کا آغاز ایک ماہ پہلے کیا گیا اور سعودی وزیر حج نے شوال تک نان سٹاپ ویزے دینے کا اعلان کیا اور پھر اس پر عمل بھی کر دکھایا۔ شعبان تک سو فیصد اپروول آتی رہی اور پھر رمضان میں بھی اپروول نہ رکی تو ہر سال عمرہ اپروول کے ریٹ بڑھا کر لوٹ مار کرنے والا مافیا پریشان ہوا۔نان سٹاپ عمرہ اپروول کی وجہ سے ان کی لمبی دیہاڑیاں جو گزشتہ سالوں میں لگتی رہی تھیں وہ رُک گئی تھیں پھر اسی لابی نے ڈراپ بکس مالکان سے گٹھ جوڑکیا۔ ڈراپ بکس گزشتہ برسوں میں پی آئی اے سعودیہ ایئر لائنز، ٹیپ کے ہوتے تھے دو سال سے سرمایہ دار عمرہ ایجنٹوں نے سعودی سٹاف سے ملی بھگت کے بعد ڈراپ بکس حاصل کرنے کا سلسلہ شروع کیا اس وقت اسلام آباد میں 14اور کراچی قونصلیٹ میں بھی تقریباً اتنی تعداد میں ڈراپ بکس ہیں۔ ڈراپ بکس ایسے ادارے یا کمپنیاں بنائے گئے ہیں جو قونصلیٹ کے ایجنٹ کی حیثیت سے کام کرتے ہیں قونصلیٹ ان ڈراپ بکس کو ان کی کارکردگی کی بنیاد پر کوٹہ الاٹ کرتا ہے اتنے پاسپورٹ آپ بمعہ ریکارڈ لے کر روزانہ جمع کرائیں گے ، ملک بھر کے عمرہ ایجنٹ اپنے پاسپورٹ عمرہ ویزہ کے لئے ان ڈراپ بکس والوں کو جمع کراتے ہیں اس کی50روپے فی پاسپورٹ فیس لیتے ہیں جو قانونی قرار دی گئی ہے۔ عمرہ سیزن کے آغاز میں ڈراپ بکس کا کوٹہ 600 پاسپورٹ روزانہ تھا جو کم زیادہ ہوتا رہا، رمضان میں اسی مافیا نے متعلقہ عملے سے ساز باز کر کے ایسا مکرو سٹائل اپنایا عمرہ ایجنٹ جو مقابلے کی فضا میں اپنا منافع 1500سے 2000 مقرر کرتے تھے ان کی جان نکالنا شروع کر دی، کیونکہ رمضان میں جانے والے اپنی ٹکٹ کئی کئی ہفتے ایڈوانس بنوا لیتے ہیں، ایڈوانس ٹکٹ عموماً نان ریفنڈایبل ہوتی ہے ان افراد کی خواہش ہوتی ہے ان کا ویزہ روانگی سے چند روز پہلے لگ جائے مگر اس سال 28مئی سے رمضان شروع ہوا تو مخصوص مافیا نے یکم رمضان کو کراچی میں سٹیکر ختم ہونے کا شوشہ چھوڑ کر عمرہ ایجنٹوں کی نیندیں اڑا دیں۔ یکم جون تک40ہزار پاسپورٹ کراچی قونصلیٹ میں جمع تھے کہ یہ شوشہ چھوڑ دیا گیا،5سے6 ہزار پاسپورٹ ویزہ لگ کر روزانہ باہر آتے تھے جب8جون تک ایک پاسپورٹ نہ آیا تو10ہزار کے قریب عمرہ زائرین کی ٹکٹیں ضائع ہو گئیں، مکہ مدینہ میں ہوٹلوں کی بکنگ کے کروڑوں روپے بھی ضائع ہو گئے۔

یہ تماشا جاری تھا کہ اسلام آباد قونصلیٹ سے وابستہ افراد نے عمرہ پر کوٹہ لگنے کا شوشہ چھوڑ دیا، عمرہ ایجنٹوں کی اپنی نیندیں بھی حرام ہو گئی گئیں پھر اسلام آباد میں بن اجمل نامی ڈراپ مالکان پر ٹیپ اور دیگر عمرہ ایجنٹوں نے الزام لگایا کہ وہ35سو روپے فی پاسپورٹ لے کر پاسپورٹ جمع کر رہے ہیں پھر یہ الزام4ہزار روپے فی پاسپورٹ سے بڑھتا ہوا10ہزار روپے فی پاسپورٹ تک پہنچا۔ ایک دن میں لاکھوں کی رشوت، ہفتہ میں کروڑوں تک پہنچ گئی۔9جون کو کراچی قونصلیٹ کے سامنے احتجاج ہوا تو اسی دن قونصل جنرل نے اعلان کر دیا کہ سٹیکر آ گئے ہیں، پھر چھٹیوں کے تین دن میں 30ہزار پاسپورٹ پر ویزے لگ کر پاسپورٹ باہر آ گئے،انہی دِنوں میں اسلام آباد نے پاسپورٹ تین دن کے لئے لینا بند کر دیئے۔ اس سارے ڈرامے میں ہزاروں افراد کی ٹکٹیں ایکسپائر ہو گئیں، ہوٹل کا نقصان علیحدہ ہوتا رہا۔ 15رمضان کے بعد عمرہ زائرین زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ 90فیصد لوگ حرمین شرفین میں اعتکاف کرنا چاہتے ہیں ہمارے مسلمان دوستوں نے اس سے بھی فائدہ اٹھایا ان افراد کو بھی بلیک میل کیا اور کروڑوں کمائے۔ ہمارے ایک دوست صوفی خالد صاحب بتا رہے تھے اگر حکومت نے مداخلت نہ کی تو عمرہ ایجنٹ خود کشی پر مجبور ہو جائیں گے جلتی پر تیل کا کام قطر ایئر ویز پر پابندی نے کر دکھایا، ٹکٹ جو پہلے نہیں مل رہے تھے۔ 10ہزار کے قطر ایئر ویز کا مسافر بھی خواری میں آ گیا ایک ٹکٹ پر اگر بندہ نہیں گیا تو 15ہزار روپے ایئر لائنز کینسل کروانے کا یا آگے کروانے کا لے رہے ہیں آج کے دن تک جب سعودیہ میں آخری عشرہ (اعتکاف کا عشرہ) شروع ہو گیا۔ اسلام آباد قونصلیٹ میں15ہزار سے زائد افراد کے پاسپورٹ جمع ہیں سارے کے سارے وہ ہیں جو اعتکاف سے محروم رہ گئے ہیں، مافیا سٹیکر ختم ہو گئے،کوٹہ لگ گیا کا ڈرامہ کر رہا ہے۔ کراچی میں ایک لاکھ سٹیکر آیا تو50ہزار اسلام آباد نہیں بھیجے جا سکتے تھے۔ایسا کیوں نہیں کیا گیا افسوس کہ ہم نے دین کومذاق بنا دیا ہے جو قوم اب زم زم دو نمبر بھر کر اُمت مسلمہ کو فروخت کر سکتی ہے ان کے لئے سعودی عملے سے ساز باز کرنا کیا مشکل ہے۔ کہا جاتا ہے جب تک حرص وہوس زندہ ہے فراڈیئے بھوکے نہیں مر سکتے۔ موجودہ حکومت کو چار سال ہو گئے ہیں عمرہ آرگنائزر کو رجسٹرڈ کرتے ہوئے چند ماہ باقی رہ گئے۔ عمرہ کے نام پر خدمت کرنے والے عمرہ کے نام پر دھندہ کرنے والے سب آزاد ہیں۔ایئر لائنز کی اپنی مناپلی ہے، ہوٹلز انتظامیہ کی اپنی مناپلی ہے،عمرہ ایجنٹوں کی اپنی مناپلی ہے۔ ڈراپ بکس مالکان نئے مافیا کی شکل میں سامنے آ گئے ہیں کون کس کو پکڑے، فیصلہ مبارک مہینے میں ہمیں خود اپنے گریبان میں جھانک کر کرنا ہو گا، حکومت کو مداخلت کرتے ہوئے سعودی سفارت خانے سے دو ٹوک بات کرنا چاہئے تاکہ عوام کے لئے15شوال تک عمرہ جاری رہنے کی خوشی ادھوری نہ رہ جائے۔ اب تو عید کے بعد بھی عمرہ زائرین سعودیہ کا سفر کر سکیں گے اور خالی حرم کا مزہ لے سکیں گے اللہ ہماری کوشش کو قبول فرمائے۔آمین

مزید : کالم