باغبانپورہ میں 5بچوں کی ماں پولیس کی غیر قانونی مداخلت اور مخالفین کے تشدد سے ہلاک ہوئی

باغبانپورہ میں 5بچوں کی ماں پولیس کی غیر قانونی مداخلت اور مخالفین کے تشدد ...

لاہور ( خبرنگار) باغبانپورہ کے علاقہ میں بچوں کی لڑائی میں شیر جوان بھی کود پڑے ۔لڑائی کی شدت میں پولیس اہلکاروں کے آنے پراضافہ ہوا۔مخالف پارٹی کے تشدد سے 5بچوں کی ماں شمیم اختر ہلاک ہوئی ۔ پولیس نے شیر جوانوں کی مداخلت کوگول کردیا۔متاثرہ گھرانے کا وزیراعلیٰ سے نوٹس لینے کامطالبہ ،تفصیلات کے مطابق سراج پورہ میں بچو ں کی کرکٹ کے دوران معمولی لڑائی ہوئی۔ بات بڑوں تک پہنچ گئی ۔خوشی محمداور اس کے بیٹے اقبال نے بھی محمد ندیم کی والدہ اور بچوں سے لڑائی جھگڑا شروع کر دیا۔اس دوران خوشی محمد کے بیٹے محمد اقبال نے ایک دوست پولیس کو بلالیا۔ اہلکارنے آتے ہی شمیم اختر کے بیٹوں ندیم اور وسیم کو حراست میں لے لیا۔اور معاملے کو رفع دفع کر وانے کے بجائے وسیم اور ندیم کو تھانے لیجانے لگے کہ اس دوران مخالف افراد نے ندیم اور وسیم کی والدہ شمیم اختر کے سامنے بچوں پرتشدد کرناشروع کردیاشمیم اخترآگے بڑھی تو وہ بھی مخالف پارٹی کے تشدد کی زد میں آگئی جس پراس کی حالت غیرہوگی اورشمیم اختر کومحلے دار ہسپتال لیجانے لگے کہ شمیم اختر جانبرنہ ہوسکی اور راستے میں ہی ہلاک ہو گئی جس پر پولیس اہلکار وہاں سے رفو چکر ہوگئے ۔مقتولہ کے بیٹوں وسیم احمداور ندیم احمد نے بتایاکہ پولیس اہلکارلڑائی میں نہ کودتے اور انہیں حراست میں نہ لیتے اومعاملے کو ختم کروادیتے تو شاید لڑائی مزید طول نہ پکڑتی اور مردوں اور خواتین کے آپس میں ایک دوسرے پر تشددنہ ہوتا اوران کی والدہ کی شایدجان بچ جاتی۔ملزمان کاپولیس اہلکاروں کے آنے پر حوصلہ بڑھا، اہلکاروں نے معاملے کو رفع دفع کروانے کے بجائے صرف انہیں حراست میں لیامقتولہ کے بڑے بیٹے محمد وسیم نے بتایاکہ اہلکاروں کی مبینہ آشیرباد سے ان کی ماں پر تشدد کیاگیا۔ جس سے ان کی ماں ہلاک ہوئی ۔ وزیراعلیٰ نوٹس لیکرملزمان کو گرفتار کروائیں ۔ جبکہ ملزمان پارٹی سے خوشی محمد اور اقبال نے بتایاکہ بچوں کی لڑائی میں دھکم پیل سے خاتون کو دھکالگا۔ اور اس کی موت واقع ہوگئی ۔ایس ایچ او باغبانپورہ حسین فاروق نے بتایاکہ پولیس اہلکار 15 کی کال پر گئے اور اس وقت خاتون بے ہوش ہوچکی تھی اور اسے ہسپتال لیجایاجارہاتھا ۔تشدد میں یاکسی ایک پارٹی کی اہلکاروں نے حمایت نہیں کی ہے۔

مزید : علاقائی