کارڈف میں پاکستان کی کرکٹ کا عروج

کارڈف میں پاکستان کی کرکٹ کا عروج
کارڈف میں پاکستان کی کرکٹ کا عروج

  

کارڈف میں پاکستان نے انگلستان کو بدترین شکست سے دو چار کیا اور دُنیائے کرکٹ میں ایک عرصے بعد وہ مقام حاصل کیا جو ماضی میں اس کا خاصہ رہا ہے۔ یہ پاکستان کی کرکٹ کے عروج کے دن ہیں پاکستان فائنل تک پہنچا اور یوں انگلستان میزبان کی حیثیت سے فائنل کی دوڑ سے باہر ہوا۔پاکستان نے سیمی فائنل میں اس ٹورنامنٹ کے لیگ میچوں میں سرد کوتاہیوں سے سبق حاصل کیا اور یوں ہماری کرکٹ کی تاریخ میں ایک سنہری باب کا اضافہ ہوا۔ پاکستان کا رنز ٹارگٹ حاصل کرنے کا طریقہ وہی تھا جو212 جیسے حقیر سکور کو حاصل کرنے کے لئے ہونا چاہئے تھا۔ پاکستان کے دونوں اوپنر کھلاڑیوں نے شاندار سٹروکس کھیلے، اظہر علی اور فخر زمان نے پاکستان کو شاندار 118رنز کا آغاز فراہم کیا۔میرے خیال میں فخر زمان پاکستان کی نئی دریافت ہیں، مگر ابھی بڑا سکور کرنے کے لئے اسے جم کر کھیلنا بھی آنا چاہئے وہ باؤلر کی کوشش سے کم اور اپنی کوشش سے زیادہ آؤٹ ہوئے۔بہرحال انہیں بین الاقوامی کرکٹ اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں کچھ نہ کچھ فرق کھنا چاہئے۔ فخر زمان ایک تاریخی میچ اور اپنے کیریئر کی اہم ترین اننگز کھیل رہے تھے پاکستان نے جو کچھ کیا وہ انگلینڈ کی توقعات اور خدشات سے بری نہیں تھا انگلینڈ کی بیٹنگ کی ناکامی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ پاکستان کی باؤلنگ نے انگلینڈ کے خلاف وہ شاندار پرفارمنس دکھائی جو توقع کے عین مطابق تھی۔ پاکستان کی باؤلنگ کی دھاک انگلینڈ کے بیٹسمینوں پر بیٹھ چکی تھی وہ وقفے وقفے سے آؤٹ ہوتے جا رہے تھے۔نوجوان فاسٹ باؤلر رومان رئیس جنہیں محمد عامر کے اَن فٹ ہونے پر ٹیم میں شامل کیا تھا اپنی سلیکشن کو بالکل درست ثابت کیا۔ انہوں نے دو وکٹیں حاصل کیں اگر ان کی باؤلنگ پر پاکستانی فیلڈر ساتھ دیتے تو انہیں مزید دو وکٹیں بھی مل سکتی تھیں اور ان کی باؤلنگ پر بننے والے رنز بھی 44سے کم ہوتے۔نوجوان فاسٹ باؤلر حسن علی انگلینڈ کے بیٹسمینوں کے لئے نفسیاتی طور پر خطرہ بن کر آئے اور اپنی بہترین باؤلنگ کے ذریعے اس ٹورنامنٹ کے سب سے کامیاب باؤلر بن چکے ہیں ان کی وکٹوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔انگلینڈ کی بیٹنگ پاکستان کے تمام باؤلرز کے سحر میں گرفتار نظر آئی، سٹوک اس ٹورنامنٹ کے کامیاب بیٹسمینوں میں سے ایک ہیں مگر وہ اس طرح کھیل رہے تھے جیسے انہیں کسی نے رنز بنانے سے روک رکھا ہے وہ بالآخر 64گیندیں کھیلنے کے بد آؤٹ ہوئے۔ پاکستان کے کپتان سرفراز نے باؤلنگ کے وسائل کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا اور یوں انگلینڈ ٹیم اِس ٹورنامنٹ کے کم ترین سکور پر آؤٹ ہونے والی ٹیم بن گئی۔

دوسری جانب بھارت بھی بنگلہ دیش کو یکہ طرفہ مقابلے میں ہراکر فائنل میں پہنچ گیا،اگرچہ بھارت نے بیٹنگ میں اپنی طاقت دکھائی پھر بھی بنگلہ دیش کی ایونٹ میں کارکردگی بہترین رہی۔کرکٹ شائقین کیلئے اچھا موقع ہے کہ وہ چیمپئنز ٹرافی میں ایک اور عظیم مقابلہ ہوتا دیکھیں گے جو کرکٹ کی جنم بھومی انگلستان میں ہوگا۔

مزید : کالم