معمولی تنازع پر انسانی جانوں سے کھیلنا انتہائی جہالت ہے :سپریم کورٹ

معمولی تنازع پر انسانی جانوں سے کھیلنا انتہائی جہالت ہے :سپریم کورٹ

اسلام آباد(آن لائن ) سپریم کورٹ نے قتل کے 4مقدمات نمٹاتے ہوئے 2ملزمان کو شک کا فائدہ دیکر بری اور ایک ملزم کی بریت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اسکی عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے جبکہ جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے ضمانت منسوخی کے ایک مقدمہ میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے ہمارا معاشرہ جہالت کی کس حد تک پہنچ گیا ہے کہ گاڑیوں کی کراسنگ کے تنازعے پر فائرنگ کرکے 15افراد کو زخمی کر دیا گیا جن میں سے 3جاں بحق ہوگئے ۔جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمی کے تین رکنی بینچ نے چار مختلف مقدمات کی سماعت کی ۔ پہلے قتل کے مقدمہ میں عدالت نے08ء میں ضلع گوجرانوالہ میں صابر حسین کو قتل کرنے کے الزام میں قید ملزم محمد اعظم کو 9 سال بعد رہا کرنے کا حکم دیا عدالت کا کہنا تھا استغاثہ ملزم کیخلاف اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے اور ناکافی شواہد و شک کا فائدہ دیکر ملزم کو فوری طور پر رہا کیا جائے، ملزم کو ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی جسکو ہائیکورٹ نے عمر قید میں تبدیل کردیا تھا۔ دو سر ے مقدمہ میں عدالت عظمی نے سرگودھا میں محمد سلیم نامی شہری کو قتل کرنیوالے ملزم شبیر عرف شکو کی اپیل منظور کرتے ہوئے 14سال بعد بر ی کرنے کا حکم سنادیا ،ملزم کی وکیل عائشہ تسنیم نے دلائل دیتے ہوئے کہامقدمہ کا مدعی جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھا جبکہ گواہ بھی 18 کلو و میٹر دور سے لایا گیا ۔ عدالت نے کیس کے حقائق کا جائزہ لینے کے بعد ماتحت عدالتوں کی جانب سے سنائی گئی سزائیں کالعد م قرار دیدیں اور ملزم کوفوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیدیا ملزم کو ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی جسکو ہائیکورٹ نے عمر قید میں تبدیل کردیا تھا ۔ تیسر ے مقدمہ میں عدالت نے غیر ت کے نام پر 08ء میں اوکاڑہ میں پسند کی شادی کرنے پربہنوئی محمد ندیم کو قتل اور بہن بشریٰ کو زخمی کرنیو ا لے ملزم آصف کی بریت کی درخواست مسترد کردی ۔ ملزم کو ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی جسکو ہائیکورٹ نے عمر قید میں تبدیل کردیا تھا ، ایبٹ آباد کے علاقہ نواں شہر میں قتل کے کیس کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کے حوالے سے چوتھے مقدمہ میں درخو ا ست گزار امان اللہ کی ہائیکورٹ کے فیصلہ کیخلاف اپیل مسترد کردی گئی۔اس موقع پر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے پرانے مقد ما ت کا حوالہ دینے پرجسٹس آصف کھوسہ نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہاپرانی کتابوں کا استعمال کرو اور اچھے مقدمات ہارتے جاؤ ''use old books and lose good cases''۔عدالت نے ضمانت منسوخی کی درخواست خارج کردی۔

مزید : صفحہ آخر