پنجاب اسمبلی اجلاس، 168ارب کا ضمنی بجٹ منظور، اپوزیشن کا واک آؤٹ، حکومت کورم پورا کرنے میں کامیاب

پنجاب اسمبلی اجلاس، 168ارب کا ضمنی بجٹ منظور، اپوزیشن کا واک آؤٹ، حکومت کورم ...

لاہور ( نمائندہ خصوصی، کامرس رپورٹر) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں 168ارب روپے کا ضمنی بجٹ مالی سال2016-17گزشتہ روز اپوزیشن کے واک آؤٹ کر جانے کے باوجودمنظور جبکہ اپوزیشن کی کٹوتی کی تمام تحریکیں مسترد کر دی گئیں ،اجلاس میں اپوزیشن کی بجائے حکومتی خواتین ا ر ا کین اسمبلی زیادہ شوروغل کرتی رہیں ، اپوزیشن کی طرف سے دو بار کورم کی نشاندہی کی گئی مگر دونوں بار حکومت کورم پورا کر نے میں کامیاب رہی، اس موقع پروزیر خزانہ عائشہ غوث پاشا نے پنجاب اسمبلی کے ملازمین کو دو ماہ کی ا ضافی تنخواہ دینے کا اعلان بھی کیا ،تفصیلات کے مطا بق گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے قائم مقام سپیکر سردار شیر علی گورچانی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں حکومت نے ایک کھرب 68کروڑ سے زائد کا ضمنی بجٹ اپوزیشن کی غیر موجودگی میں منظور کرلیا۔وزیر خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہا ضمنی بجٹ کل بجٹ کا صرف چار فیصد ہے ، صوبائی حکومت پہلی مرتبہ پنجاب فنانس کمیشن متعارف کرانے جا رہی ہے جس کی وجہ سے ضلع کی سطح پر ہیلتھ کا نظام مزید فعال ہو گا،لوکل گورنمنٹ کا قیام کامیابی سے انعقاد پذیر ہو چکا ہے اب حکومت اس نظام کو مزید بہتر کرنے جا رہی ہے ،اس کیساتھ زراعت کے شعبے میں بھی انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ کسانوں کی خوشحالی کیلئے حکومت مختلف منصوبوں پر تیزی سے کام کر ر ہی ہے، حکومت کی گڈگورننس پر سوالات اٹھانے والوں کو پہلے بجٹ غور سے پڑھنا چاہیے ،حکومت نے بجٹ میں سب سے زیادہ ریلیف عام آدمی کو دیا ہے، حکومت لوگوں کے مسائل گلی محلوں میں حل کررہی ہے اسکی مثال دیگر صوبوں میں نہیں ملتی۔قبل ازیں پی ٹی آئی کی رکن سعدیہ سہیل نے ضمنی بجٹ میں کٹوتی کی تحریک پر اپنے دلائل میں کہا حکومت اپنے اللے تلوں کیلئے یہ بجٹ رکھ رہی ہے اسکا عام آدمی کو کوئی فا ئدہ نہیں ،حکمرانوں نے اپنے کالے دھندے پر پردہ ڈالنے کیلئے یہ بجٹ رکھا ہے۔عارف عباسی نے کہا پنجاب میں گزشتہ دس سال سے شر یف برادران کی حکومت ہے لیکن عوامی مسائل ویسے کے ویسے ہی ہیں ،ہر محکمہ پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔میاں اسلم اقبال نے کہا ہر دور حکو مت میں ضمنی بجٹ کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے مگر موجودہ دور حکومت میں دن بدن ضمنی بجٹ بڑھتا جا رہا ہے اب حکومت نے اپنے گناہ پر پردہ ڈالنے کیلئے168ارب روپے ضمنی بجٹ پیش کر دیا ہے جبکہ صوبے کے عوام صاف پانی کو ترس رہے ہیں لیکن حکمران اپنی عیاشیوں کیلئے اربوں روپے مختص کررہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کا نام پاناما، حدیبیہ پیپرز ملز کیس میں ہے، انہو ں نے سرکاری خزانہ سے بنے ہسپتال اپنے نام منسوب کیو ں کیا ،حکمران ذاتی جیب سے ہسپتال بنائیں اور ان پر اپنا نام لکھوائیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ہر وہ راستہ جو جاتی امراء کی طرف جاتا ہے وہ ٹھیک ہو رہا ہے حکمرانوں کوہمارے حلقے نظر نہیں آتے،حکمرانوں کی جہاں اپنی زمینیں ہیں وہاں سرکاری خزانے سے اربوں روپے کے ترقیاتی کام ہو رہے ہیں۔ حکومتی خواتین کے شوروغل پر میاں اسلم اقبال نے تقریر کے دوران غصے میں اپنا مائیک زور سے ہلا کر کہا میں اس طرح مائیک کو توڑ نہیں رہا جس پر قائم مقام سپیکر نے کہا مائیک واقعی ٹوٹ گیا ہے ۔ضمنی بجٹ کی منظور ی کے دوران اپوزیشن نے واک آؤٹ کردیا حکومت نے اپوزیشن کی غیر موجودگی میں ضمنی بجٹ کو آسانی سے منظور کرلیا، جسکے بعد قائم مقام سپیکر سردار شیر علی گورچانی نے اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا ۔

مزید : صفحہ آخر