ہو سکتا ہے یہ اسمبلی مدت پوری نہ کر سکے اور تحلیل ہو جائے :وزیر اعلیٰ سندھ

ہو سکتا ہے یہ اسمبلی مدت پوری نہ کر سکے اور تحلیل ہو جائے :وزیر اعلیٰ سندھ

کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ حکومت کے تحلیل ہو جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ اسمبلی اپنی مدت پوری نہ کرسکے اور تحلیل ہوجائے۔ سندھ حکومت 161بلین روپے استعمال کرچکی ہے۔ کے ایم سی کوگزشتہ برس8 ارب روپے ترقیاتی کاموں کیلیے دیے، بلدیہ عظمی کراچی نے کیا کیا؟ جب کہ ہماری اسکیموں پر 7 ارب خرچ ہوئے ہیں جو نظرآرہا ہے صدر، ایمپریس مارکیٹ کے اطراف گلیوں میں سیوریج لائنیں تبدیل کیں۔ میئر کراچی نے نئی اسکیموں کیلیے 9 ارب روپے مانگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں زرعی انکم ٹیکس کاہدف ایک ارب روپے رکھاہے۔اقلیتوں کیلیے گرانٹ میں اضافہ کردیاہے۔ بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کیتحت17لاکھ افرادمیں فی کس2ہزارروپے دیے جائینگے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے جمعرات کو سندھ اسمبلی کے بجٹ 18-2017 سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ بجٹ پر بات کرنے پر میں 100واں اسپیکر ہوں۔ بجٹ پر 24 ایم کیو ایم کے ممبر بولے اور 60پیپلز پارٹی کے ممبر نے تقاریر کیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال ہوسکتاہے اسمبلی اپنی مدت پوری نہ کرپائے اورتحلیل ہوجائے۔ سندھ کے لوگ پہلے بھی پیپلزپارٹی کے ساتھ تھے اورآئندہ بھی رہیں گے۔ سندھ کے لوگوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔جن لوگ کوکچھ دن کیلئے بیوقوف بنایاگیاتھاوہ اب سمجھ گئے ہیں۔ میں ان لوگوں کوبتاناچاہتاہوں کہ اب سندھ کے لوگ بیوقوف بننے والے نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ تنقید اچھی بات ہے میں تنقید سننے کیلیے بیٹھا ہوں، لیکن اپوزیشن نے بیجا تنقید کی۔ یہ بات غلط ہے کہ ٹیکس کراچی سے لیتے ہیں اوریہاں خرچ نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ آپ تنقید کریں لیکن اچھی باتوں کو سراہایا بھی کریں۔ آپ نے جس کولیڈر بنایا اس نے ملک کو کیا دیا؟. ہمارے لیڈرنے دکھ کی گھڑی میں بھی پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔ انہوں نے خواجہ اظہار کو مخاطب ہوتے کہا کہ انہوں نے سندھیوں کی پاکستان کیلیے قربانیاں بھول کرزیادتی کی۔ آپ جب یہاں آئے توسندھیوں نے آپ کو سینے سے لگایا۔ سندھ پاکستان بننے سے پہلے صدیوں سے موجود تھا۔ آپ قائد اعظم محمد علی جناح کو بھی بھول گئے ہیں۔ انہوں نے مزید آگاہ کیا کہ پیپلزپارٹی نے لوڈشیڈنگ کے معاملے پر ہر شہرمیں احتجاج کیاتھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میئرکراچی وسیم اختر میرے پاس آتے رہتے ہیں، میں نے ان سے کہا جاری اسکیموں پرتوجہ دیں تاکہ ان کومکمل کیاجاسکے، میئر نے نئی اسکیموں کیلیے 9 ارب روپے مانگے ہیں۔ میں نے میئر کراچی کو کہا کہ آپ جاری منصوبوں پر توجہ دے کر مکمل کروائیں، میں 100 فیصد فنڈنگ دے رہا ہوں، میئر کراچی نے بیان بازی کرنی تھی اور وہ یہ کر رہے ہیں, لیکن کام میں سنجیدہ نہیں۔ہم نے کراچی کے لئے 70بلین روپے ترقیاتی کاموں کے لئے رکھے ہیں۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سڑکیں الیکشن کے لیے نہیں آیندہ پچاس سال کیلیے بنائی ہیں۔ ہم BISP کے بینیفشریز کو 2000دے رہے ہیں, 17لاکھ فیملیز کو 3.5بلین روپے دیں گے اور یہ 20 جون تک جاری ہو جائیں گے۔ اقلیتوں کے لئے 13اسکیمیں ہیں۔ ہم نے طلبا اور یوتھ کو فوکس کیا ہے۔ اے گریڈز کے کیش ایوارڈ کو سراہا گیا۔ہم نے پی ایس 112 اور113میں جو پی ٹی آئی کے حلقے ہیں میں ہم نے ڈرینج کی لائن نئی لگائی ہیں۔ ہم نے ایمپریس مارکیٹ میں 660ملین روپے سے ڈرینج سسٹم اوور ہال کیا۔ 130ملین روپے کے ایم سی نے کلفٹن میں ترقیاتی کاموں پر خرچ کئے ہیں۔ہر مرتبہ یہ بات ہوتی ہے کہ رقم جاری تاخیر سے ہوئی ہیں، یہ بات ٹھیک نہیں۔ کل تک 210.2بلین جاری ہوچکے ہیں جو ایک ریکارڈ ہے۔جس میں 161بلین خرچ ہوچکے ہیں۔ ہم نے جولائی 2016میں 45بلین جاری کیے تھے۔ اس وقت تک سندھ کو وفاق سے 68بلین کم ملے ہیں۔ایک جگہ وزیراعلی سندھ نے حزب اختلاف کے نند کمار سے مخاطب ہوتے کہا کہ آسمان پر تھوکنے سے اپنا منہ خراب ہوتا ہے، آپ نے شہید ذوالفقار علی بھٹو پر الزام لگایا؟ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی محنت و کاوشیں سب کو یاد ہیں، عدالتی قتل بھی سب کو یاد ہے، 1970سے پیپلز پارٹی کے لوگ منتخب ہوتے ہوئے آئے ہیں، انقلاب 1970میں شہید ذوالفقار علی بھٹو لایا تھا، لوگوں کو زبان دی، عوام کو بولنے کی جرائت بھی دی۔وزیراعلی سندھ نے قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن کو دعا دیتے کہا کہ وہ آئندہ بھی حزب اختلاف کا لیڈر بنے۔ انہوں نے کہا کہ آج مجھے پتہ چلاکہ ایم کیو ایم پاکستان ہے، آپ تو ایم کیو ایم کے نام سے جیت کر آئے ہیں۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ہم نے دیہی اور شہری تقسیم کبھی نہیں کی۔ محمد حسین نے میرے والد کی حکومت کو سراہا لیکن میری حکومت سے مطمئن نہیں؟ آپ حقوق چاہتے ہیں تو پھر آپ سندھ کو تقسیم کرنے کے خواب دیکھنا بند کریں۔ آپ کو چائنا کٹنگ اور دہشتگردی کا حق کبھی نہیں ملے گا۔ میری آپ لوگوں سے استدعا ہے کہ آپ سندھ کے ہوجاؤ۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ بجٹ 18-2017 ٹیکس سے پاک بجٹ ہے، 5ڈائریکٹ اور 10ان ڈائریکٹ ٹیکسز لگائے گئے، یہ بات غلط ہے کہ ٹیکس کراچی سے لیتے ہیں اور خرچ یہاں نہیں کرتے، ہم نے کہا ہے کہ سیلز ٹیکس آن گڈز سندھ کی وصولی کے کیے دیا جائے۔ کچھ لوگ زرعی ٹیکس کی آڑ میں اپنے ٹیکس چھپا رہے ہیں تھے ہم نے ان کو روکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے سال کے لیے زرعی انکم ٹیکس کی مد میں 1بلین رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھجور کے درخت خریدنے کے لیے ایک روپیہ بھی نہیں دیا۔ کھجور کے درخت کسی ٹھیکے دار نے مفت میں دیے ہیں۔وزیراعلی سندھ نے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے اجلاس کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت 76فیصد وفاقی حکومت سے جب کہ 24فیصد خود وسائل پیدا کرتا ہے۔ سندھ واحد صوبہ ہے دیگر صوبوں کی بنسبت جو اپنے وسائل پر انحصار کرتا ہے۔ سب سے پیچھے خیبرپختونخواصوبہ ہے، جوکہ 89فیصد وفاقی حکومت اور 10فیصد خود وسائل پیدا کرتا ہے۔ خیبرپختونخوا کا ترقیاتی بجٹ 33 فیصداورپنجاب کا 32 فیصد ہے۔ اور اسکے بعد پیچھے رہنے والا صوبہ پنجاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کا بجٹ ہر صوبے کے مقابلے میں بہتر ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول