’’پڑھا لکھا سندھ ‘‘مراد علی شاہ کے خواب کو تعبیر مل سکے گی؟

’’پڑھا لکھا سندھ ‘‘مراد علی شاہ کے خواب کو تعبیر مل سکے گی؟

کراچی (رپورٹ / نعیم الدین) وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا خواب ’’ پڑھا لکھا سندھ‘‘ پورا ہوسکے گا، یا یہ خواب ہی رہے گا ۔ سندھ کے بجٹ میں اس مرتبہ تعلیم اور صحت کیلئے تاریخی ریکارڈ رقم مختص کی گئی ہے جو کہ بڑی خوش آئند بات ہے ، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی رقم ایک سال میں استعمال کرلی جائے گی ، کیا اتنی بڑی رقم سے سندھ کی عوام کو تعلیم میسر ہوجائے گی۔ کیونکہ اصل چیز اس پیسے کا صحیح استعمال اور اس پر عملدرآمد انتہائی ضروری ہے جو کہ سندھ اب تک جن مسائل سے گذر رہا ، یہ پورے ملک کی عوام کو معلوم ہے۔ سال ختم ہونے پر رقم کو زبردستی خرچ کیا جاتا ہے تاکہ رقم واپس نہ ہو۔ صوبے کا اصل مسئلہ گھوسٹ اسکول، گھوسٹ اساتذہ ہیں ، جن کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے، اس پر حکومت گذشتہ چار سالوں میں کتنا عملدرآمد کرسکی ہے۔ وزیراعلی نے بجٹ تقریر میں دو کھرب اور دو ارب روپے مختص کیے ہیں اور ساتھ ہی کچھ سہولیات بھی فراہم کرنے اعلان کیا ہے۔ جن میں انرولمنٹ فیس حکومت ادا کرے گی اور A1 گریڈ لانے والے طالبعلم کو ایک لاکھ روپے فی کس انعام دیا جائے گا۔ طلباء کی حوصلہ افزائی کیلئے یہ اقدام قابل ستائش ضرور ہے۔ مگر دوسری جانب اپوزیشن کا یہ الزام کہ ان کے علاقوں میں ترقیاتی فنڈز نہیں دیے جاتے ۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سے سوال کیا ہے کہ یہ بتائیں کہ اپوزیشن کے کون کون سے حلقوں میں ترقیاتی کام ہوئے ہیں ؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی شعبے کیلئے بڑی رقم مختص کروانا کوئی مشکل نہیں ہے مگر اس رقم کو بروقت اور صحیح جگہ خرچ کرنا ضروری ہے، اس وقت صوبہ پنجاب جسے ماضی کے و زیراعلیٰ ق لیگ سے تعلق رکھنے والے چوہدری پرویز الہی نے اور بعد میں موجودہ وزیراعلی شہباز شریف نے بھی یہی نعرہ لگایا تھا کہ ’’پڑھا لکھا پنجاب‘‘ اور انہوں نے حقیقت میں اس پر عملدرآمد کرایا۔ صوبہ سرحد میں بھی تعلیم کی بہتر صورتحال ہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے صحت کے شعبے کو بھی اہمیت د ی ہے ، لیکن اس شعبے میں بھی توجہ کی ضرورت ہے ۔ سندھ کے سرکاری ہسپتالوں میں قابل ڈاکٹرز موجود ہیں اور ادویات کی بھی قلت نہیں ہے۔ مگر ادویات کی تقسیم کا نظام میں خصوصی توجہ دینا ضروری ہے تاکہ مستحق لوگوں کو یہ ادویات میسر ہوسکیں۔ جبکہ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن رہنما سید سردار احمد کے مطابق بجٹ بنانے سے پہلے اپوزیشن سے تجاویز لینی چاہیءں تھیں ، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا، اور انہوں نے اس بجٹ کو اکاؤنٹ بجٹ قرار دیا ہے ، اور کہا کہ پرفارمنس بجٹ نہیں ہے ۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کو اپنے وزراء اور مشیروں کو فضول اخراجات کو گریز کرنے کی ہدایات کرنی چاہیے۔ گذشتہ دنوں جو تفصیل صوبائی وزراء اور مشیروں کے دفاتر کی تزین و آرائش کیلئے شائع ہوئی اس پر سیاسی حلقے افسوس کا اظہار کررہے ہیں کہ پاکستان جیسے غریب ملک کے غریب صوبے کے بڑے ٹھاٹ صوبہ کو کس طرف لے جارہے ہیں۔ کیونکہ صوبائی حکومت پہلے ہی 319 گھروں اور سرکاری رہائش گاہوں کی تزئین و آرائش کے لیے آوٹ سائیڈ بجٹ منظور کرچکی ہے۔ لیکن یہ بات درست ہے کہ اگر صوبے کو ’’پڑھا لکھا سندھ‘‘ کے نعرے پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو پھر یہ ’’خواب خواب ہی رہے گا ‘‘ کیونکہ پیپلز پارٹی کے پاس صرف ایک سال ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول