احتجاج کی آڑ میں کسی کو بھی ہسپتال بند کرنے اور مریضوں کو تکلیف پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی:شہرام ترکئی

احتجاج کی آڑ میں کسی کو بھی ہسپتال بند کرنے اور مریضوں کو تکلیف پہنچانے کی ...

پشاور(سٹاف رپورٹر )خیبر پختونخوا کے سنیئر وزیر برائے صحت شہرام تراکئی نے ینگ ڈاکٹروں کی طرف سے بلا وجہ ہڑتال اور ہسپتالوں میں سروسز کی بندش کوغیر ا خلاقی اور غیر قانونی قدم قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ڈاکٹروں کا یہ اقدام نہ صرف صوبائی حکومت بلکہ عوام کے لئے بھی ناقابل قبول ہے ۔ گذشتہ روز صوبے کے دیگر ہسپتالوں سے تعلق رکھنے والے چند ڈاکٹروں کی طرف سے حیات آباد میڈیکل کمپلکس میں سروسز کو بند کرنے کی کوشش اور رات کے وقت چوری چھپے ہسپتال میں اپریشن تھئیٹرز کے تالوں میں ایلفی ڈالنے کے واقعے کو انتہائی شرمناک اور غیر قانونی حرکت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایسا اقدام کار سرکار میں مداخلت کے زمرے میں آتا ہے جس پر قانون حرکت میں آئی ہے اور اس واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانوں کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ صوبائی وزیر نے کہا ہے کہ حیات آباد میڈیکل کمپلکس کے واقعے میں مٹھی بھر عناصر نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے اور ہسپتال انتظامیہ سمیت قانوں نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سے بدسلوکی کرکے خود تشدد کو دعوت دی ہے مگر ہسپتال انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاورں نے جس طریقے سے اُن کی کوششوں ناکام بنایا ہے وہ قابل تحسین ہے ۔ وہ جمعرات کے روہیلتھ سیکریٹریٹ میں صوبے کے بڑے خودمختار تدریسی ہسپتالوں کی انتظامییہ کے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں ینگ ڈاکٹروں کی طرف سے ان تدریسی ہسپتالوں میں بلا وجہ ہڑتال اور سروسز کو بند کرنے کی کوششوں سے نمٹنے کے لئے ایک مؤثر لائحہ عمل پر تفصیلی غورو حوض کے بعد متعدد اہم فیصلے کئے گئے ۔سیکریٹری ہیلتھ کے علاوہ ان تمام ہسپتالوں اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کے شراکاء سے اپنے خطاب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ احتجاج کرنا سب کا آئینی حق ہے جو قانون کے دائرے کے اندر ہونا چاہئے ، احتجاج کی آڑ میں کسی کو بھی ہسپتال بند کرنے اور مریضوں کو تکلیف پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ ہسپتال عوام اور مریضوں کے لئے بنے ہیں اور اُن ہی کی ٹیکس کے پیسوں سے بنے ہیں یہ کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہیں ایسا کرنے کی کوشش کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا مگر ہسپتالوں کو ایک سیکنڈ کے لئے بھی بند نہیں ہونے دیا جائے گا۔شہرام تراکئی نے کہا ڈاکٹر معاشرے کا ایک اہم طبقہ ہیں اور موجودہ صوبائی حکومت نے ڈاکٹروں کو جتنی عزت دی ہے اس کی ملکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ، ہماری حکومت آیندہ بھی ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے تمام جائز مطالبات پوری کرے گی ۔ مختلف ہسپتالوں میں دوران ڈیوٹی جان بحق ہونے والے ڈاکٹروں کے ورثاء کو مالی معاوضوں کی ادائیگی ایک جائز مطالبہ ہے جس کی بحیثیت وزیر صحت وہ خود حمایت کرتے ہیں اور ان کی خصوصی درخواست پر وزیر اعلیٰ نے اس سلسلے میں ارسال کردہ سمری کی منظوری دے دی ہے ۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ چند مٹھی بھر عناصر اپنے ذاتی مفادات کے لئے پوری کمیونٹی کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں اور یہ عناصر صحت کے شعبے میں موجودہ صوبائی حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کو ناکام بنانے کے کو شش کررہے ہیں اور اس کوشش کو کبھی کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا کیونکہ عوام نے اس حکومت کو صحت کے شعبے میں اصلاحات کا مینڈیٹ دیا ہے ۔ شہرام تراکئی نے مزید کہا کہ ڈاکٹروں کا کام مریضوں کا علاج کرنا اور دکھی انسانیت کی خدمت کرنا ہے نہ کہ سیاست کرنا جن لوگوں کو سیاست کا اتنا ہی شوق ہے وہ اپنی ملازمتوں سے مستعفی ہو کر عملی سیاست کے میدان میں آئیں اور اگلے عام انتخابات کے لئے تیاریاں کریں لیکن ہسپتالوں میں آئے روز سروسز بند کرکے غریب مریضوں کی زندگیوں کے ساتھ نہ کھیلیں ورنہ عوام انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی ۔ صوبائی وزیر نے تمام ہسپتالوں کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر ہسپتالوں میں طبی عملے کی طرف سے ہڑتال اور ہسپتالوں کے احاطوں میں احتجاجی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک مشترکہ لائحہ عمل مرتب کریں جس کے تحت ان طبی اداروں میں ہڑتالوں اور احتجاجوں کی آڑ میں سروسز کو بند کرنے کی کوشش کرنے والے عناصر کے خلاف بلا تاخیر اور فوری کاروائی عمل میں لائی جاسکے جس میں ایسے ملازمین کی معطلی ،برخواستگی اور دیگر قانونی سزائیں شامل ہیں ۔صوبائی وزیر نے تدریسی ہسپتالوں کے حکام کو یہ بھی ہدایت کی گذشتہ روز حیات آباد میڈیکل کمپلکس میں سروسز بند کرنے کے لئے دیگر ہسپتالوں سے آئے ہوئے ڈاکٹروں کی نشاندہی کی گئی ہے اور متعلقہ ہسپتالوں کی انتظامیہ اُن ڈاکٹروں کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لاکر محکمہ صحت کواس حوالے سے رپورٹ پیش کریں ۔صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت نے ڈاکٹروں کی بہتر مستقبل اور اُن کی اچھی کیرئیر کے لئے اپنی وسائل اور استطاعت سے بڑھ کر اقدامات کئے ہیں مگر جن ڈاکٹروں کو اپنی ہی کیرئیر کی پرواہ نہیں تو حکومت اس حوالے سے مزید مصلحت سے کام نہیں لے گی کیونکہ حکومت کے لئے عوام کو علاج معالجے کی سہولیات کی بلاتعطل فراہمی اہم ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا ۔

مزید : کراچی صفحہ اول