وزیر تعلیم کی عوام کے وسیع تر مفاد کے مختلف منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت

وزیر تعلیم کی عوام کے وسیع تر مفاد کے مختلف منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے ...

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد عاطف خان نے محکمے کے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ صوبے اور اس کے عوام کے وسیع تر مفاد میں محکمے کے ماتحت مختلف پروگراموں اور منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کریں اور حکومت کے احکامات کے مطابق ان پر من و عن عمل درآمد یقینی بنائیں۔یہ ہدایات انہوں نے جمعرات کے روز پشاور میں محکمے کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ اجلاس میں دوسروں کے علاوہ سیکرٹری تعلیم ڈاکٹر شہزاد بنگش،سپیشل سیکرٹری قیصر عالم اور دوسرے متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔اجلاس کو سٹینڈرڈائزیشن آف سکولز پراجیکٹ ،پلے ایریازاور پلے گراؤنڈز پر کام کی رفتار، سررکاری سکولو ں میں آئی ٹی لیب کے قیام،گرلز کیڈٹ کالج مردان،سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی بہتری کے لئے قانون سازی کے امور اور تعلیم کے شعبے میں کئے گئے اقدامات کی میڈیا کے ذریعے مناسب تشہیر پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور اس سلسلے میں کئی اہم فیصلے کئے گئے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کئی اہم منصوبے افتتاح کے لئے تیار ہیں جبکہ کئی منصوبوں کا عنقریب سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ سٹینڈرڈائزیشن آف سکولز پراجیکٹ کے تحت 42سکول تیار ہیں جبکہ 10ہزار میں سے تقریباًساڑھے سات ہزار پرائمری سکولوں میں پلے ایریاز قائم کئے جا چکے ہیں جبکہ باقی ماندہ آئندہ سال مکمل کر لئے جائیں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے شعبہ تعلیم کی بہتری کے لئے جو انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں ماضی میں ان کی مثال نہیں ملتی ۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے تعلیم ماضی کی حکومتوں کی ترجیح ہی نہیں رہی جس کی وجہ سے شعبہ تعلیم زبوں حالی کا شکار رہاہے تاہم موجودہ حکومت نے تعلیم کو میگا پراجیکٹ کے طور پر لیا اور گزشتہ چار سالوں میں اس کا بجٹ 61ارب روپے سے بڑھا کر 138ارب روپے کر دیا ہے جبکہ سرکاری سکولوں میں ناپید سہولیات پر 25ارب روپے سے زیادہ خرچ کئے جا چکے ہیں۔عاطف خان نے کہا کہ یہ بات انتہائی حوصلہ افزاء ہے کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے والدین کا سرکاری سکولوں پر اعتماد بحال ہوا ہے اور اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ نجی تعلیمی اداروں کے بچے سرکاری سکولوں میں داخلہ لے چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سکولوں میں اساتذہ کی کمی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لئے اب تک چالیس ہزار اساتذہ بھرتی کئے گئے ہیں اور آئندہ سال مزید پندرہ ہزار بھرتی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کے لئے آن لائن ایکشن مینجمنٹ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے جس کی وجہ سے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی حاضری میں نمایاں بہتری آئی ہے اسی طرح سکولوں کے لئے انسپکٹوریٹ کا قیام بھی زیر غور ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول