مشال خان قتل کیس میں گرفتار یونیورسٹی طلبہ کو فی الفور رہا کیا جائے،محمد ریاض خان

مشال خان قتل کیس میں گرفتار یونیورسٹی طلبہ کو فی الفور رہا کیا جائے،محمد ...

چارسدہ( بیورو رپورٹ) مشال خان قتل کیس میں گرفتار یونیورسٹی طلبہ کو فی الفور رہا کیا جائے ۔طلبہ پر تشدد کرکے ان سے اپنے مرضی کے بیانات ریکارڈکئے گئے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان اس حوالے سے سوموٹوایکشن لے ۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی چارسدہ کے ضلعی امیر محمد ریاض خان نے وفد کے ہمراہ مشال قتل کیس میں گرفتار طلبہ سے ملاقات کے بعد جاری کردہ بیان میں کیا ۔وفد میں جماعت اسلامی کے ضلعی ترجمان نورحسین ،ڈسڑکٹ ممبرحاجی حلیم اللہ ، امان خان،قمرجہان اور جماعت اسلامی مردان کے جنرل سیکرٹری عماد اکبر بھی موجود تھے ۔ محمد ریا ض خان نے کہا کہ جے آئی ٹی نے ابھی تک توہین رسالت کے ایک پہلو کی تحقیقات نہیں کی جو کہ مسئلہ کا اصل بنیاد ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عبدالو لی خان یونیورسٹی کے انتظامیہ میں نااہل ،کرپٹ اور ایک پارٹی کے کارکنان کو بھرتی کئے گئے ہیں جس کی وجہ یونیورسٹی میں بد انتظامیاں ہوتی رہی ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر نااہل افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کرے تاکہ اہل افراد کے تعیناتی سے اچھے انداز میں طلبہ و طالبات اپنا تعلیم حاصل کرے۔انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت ﷺ کے قانون پر عمل داری نہ ہونے کی وجہ سے لوگ توہین رسالت پر اترآتے ہیں جس کے بعد عاشقان رسول ﷺ قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہیں ۔حکومت کو مستقل میں بھی اس طرح کے واقعات کے روک تھام کے لیے توہین رسالت کے قانون کے تحت گرفتار جیلوں میں افراد کو سزا دیں تاکہ عوام کا قانون پرعمل داری کے حوالے سے بداعتمادی دور ہوجائے ۔انہوں نے گرفتار طلبہ کو جلد ازجلد رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کا جیلوں میں ہونے سے قیمتی وقت ضائع ہور ہا ہے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر