پولیس کی نئی وردی محکمہ کے مورال اور امیج کے برعکس ہے: ’’پاکستان‘‘ سروے

پولیس کی نئی وردی محکمہ کے مورال اور امیج کے برعکس ہے: ’’پاکستان‘‘ سروے

لاہور(لیاقت کھرل) پاکستان کے وجود سے قائم قانون کے رکھوالوں نے پولیس کی وردی مختصر وقت میں ہی تبدیل کر کے رکھ دی ہے جو کہ معیار کے مطابق نہیں ہے جس سے بیورو کریسی سیاست دانوں، حاضر و ریٹائرڈ پولیس افسران سمیت تاجروں، اساتذہ اور عام آدمی میں تشویش پائی جانے لگی ہے اور نئی وردی کے بارے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور پولیس کی پرانی یونیفارم کو بحال کرنے پر زور دیا ہے پولیس کی نئی وردی غیر معیاری اور محکمہ کے مورال اور امیج کے مطابق نہیں ہے ، اس سے محکمہ کا وقار مجروح ہوا ہے ۔اعلیٰ پولیس افسروں کے ایک گروپ نے وزیر اعلیٰ کو گمراہ کر کے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر برصغیر دور سے چلی آنے والی محکمہ پولیس کی شناخت اور علامت کو ختم کر کے رکھ دیا ہے ’’روزنامہ پاکستان‘‘ کی جانب سے پولیس کی پرانی و نئی یونیفارم کے حوالے سے تحقیقات اور کئے گئے سروے میں بیورو کریسی سیاست دانوں، تاجروں اور اساتذہ سمیت عام شہریوں نے بھی تحفظات اور نئی وردی کے بارے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور پولیس کی نئی وردی کو غیر معیاری قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ محکمہ پولیس کے اعلیٰ افسروں کے ایک مخصوص گروپ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو گمراہ کیا ہے اور اپنے ذاتی مفاد کی خاطر اربوں جہاں محکمہ کے اربوں روپے ضائع کئے ہیں وہاں محکمہ پولیس کا وقار مجروح کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے بعض بیورو کریٹوں ، سیاستدانوں کے ساتھ ایس ایس پی ریٹائرڈ احمد خاں چدھڑ نے کہاکہ یہ کوئی اچھا فیصلہ نہیں کیاگیاجوکہ رات ورات صدیوں سے چلنی والی پولیس کی وردی کوتبدیل کردیاگیااس طرح پولیس کے نظام میں اصلاحات کبھی نہیں آئی آئے گی عوام میں ذرابھربھی نئی وردی کی پذیرائی نہیں ہوئی ہے اور عوام نے سرے سے ہی پسند نہیں کیاہے ۔ بلکہ کسی اہلکارکے گزرنے پر عوام میں تشویش پائی جانے لگتی ہے اور ایسالگتاہے کہ جیسے اس وردی کے لاگو کرنے میں بڑے پیمانے پرکوئی خورد برد کی گئی ہے انہوں نے کہاکہ پہلی یونیفارم ایک عرصہ سے چلی آرہی تھی اور ملائشیا سے تیارشدہ یونیفارم اچھی اور اعلیٰ کوالٹی اور خوبصورت تھی ۔ جوکہ فورس کی شان تھی اب تو پتہ نہیں چلتاہے کہ بنک یاسیکورٹی کمپنی کے ملازم ہیں کوئی اچھاامیج یاتاثرنہیں پایاجارہاہے عوام نے بھی نئی یونیفارم کومسترد کردیاہے اس حوالے سے ایس پی ریٹائرڈ رائے ضمیرالحق ڈی ایس پی ریٹائرڈ ملک اشرف اور حاضروریٹائرڈ پولیس افسروں نے بھی نئی یونیفارم کے بارے تشویش کااظہارکیااورکہاکہ پہلی یونیفارم محکمہ کی علامت کے ساتھ فورس کی شناخت تھی ۔ تاجروں جن میں آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر خالد پرویز نے کہا کہ وردی تبدیل ہونے پر محکمہ کا وقار مجروع ہو کر رہ گیا ہے نئی وردی غیر معیاری اور اس میں اربوں روپے خورد برد کئے گئے ہیں اور پولیس کی شناخت کو ختم کر کے رکھ دیا گیا ہے ۔ امن کمیٹی بین المذاہب لاہور کے چیئرمین حاجی محمد اکرم نے کہا کہ وردی تبدیل کر کے پولیس اہلکار کو ایک عام آدمی کی شکل میں تبدیل کر دیا گیا ہے، پرانی وردی میں رعب و دبدبہ اور محکمہ کی شناخت تھی، اب تو ایسا لگ رہا ہے کہ جیسا کہ کوئی پٹرول پمپ یا کسی نجی سیکیورٹی کے اہلکار ہیں، محکمہ کے اہلکار خود ناپسندیدگی کا اظہار کر رہے ہیں پچاس فیصد ملازم اور افسر تو پہنتے ہی نہیں ہیں، محکمہ کے ریٹائرڈ اور حاضر پولیس افسروں کا کہنا تھا کہ نئی وردی میں محکمہ کا مورال نہیں رہا ، پولیس افسر اور اہلکار خود کو ہلکا محسوس کرتے ہیں اور اس میں کوئی رعب اور دب دبا نہیں ہے اس وردی سے محکمہ پولیس کے امیج میں بہتری نہیں آئی ہے، ایک حاضر سروس پولیس افسر نے اپنا نام ظاہر کئے بغیر کہا کہ یہ ایک مخصوص گروپ نے محکمہ کے ساتھ سازش اور زیادتی کی ہے، پرانی وردی برصغیر کے دور سے چلی آ رہی تھی۔ نئی وردی کو تبدیل کرتے وقت کم سے کم پرانی شرٹ رہنے دیتے تو پھر بھی تھوڑی بہت شناخت برقرار رہتی اس حوالے سے انجمن تاجران شالا مار لنک روڈ کے صدر حاجی منظور احمد اور انجمن دوکانداران کے صدر راؤ محمد اکرم خان، ٹیچر یونین کے مرکزی صدر اللہ بخش قیصر، وائس چیئرمین چوہدری ارشد محمود، لیڈی کونسلر شکیلہ انجمن سمیت پی ٹی سی ایل یونین کے رانا محمد حسن اور سوئی گیس ایمپلائیز یونین کے راہنما رانا وقار حسین اور میاں ساجد نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو فوری طور پر نوٹس لیکر نئی یونیفارم کے بارے پائے جانے والے تحفظات کا فوری نوٹس لینا چاہئے اور نئی یونیفارم میں جو خورد برد کے بارے افواہیں اور خبریں سرگرم ہیں اس تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنی چاہئے اور پولیس کی پہلی ہی یونیفارم کو بحال کر دینا چاہئے اس سے محکمہ کا مورال بلند ہو گا اور محکمہ کی شاخ بحال ہو جائے گی۔

پاکستان سروے

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر