کچی آبادیوں کی لیز کی منتقلی پر پابندی لگا رہے ہیں ،غلام مرتضیٰ بلوچ

کچی آبادیوں کی لیز کی منتقلی پر پابندی لگا رہے ہیں ،غلام مرتضیٰ بلوچ

کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلی سندھ کے معاون خصوصی برائے کچی آبادی مرتضی بلوچ نے کہاہے کہ سندھ کی کچی آبادیوں میں قبضہ مافیا اور بلڈر ز مافیا اور ان کا بڑھاوا روکنے کے لیے موثر قانون سازی کی جارہی ہے، 15 سال تک کچی آبادیوں کی لیز کی منتقلی پر پابندی لگا رہے ہیں اور رجسٹرڈ یا ان رجسٹرڈ خرید و فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اعلی سطحی اجلاس کے فیصلے کی بعد کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچی آبادیوں میں موجود صنعتوں کو بھی دیگر جگہوں پر منتقل کریں گے تاکہ مکینوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں اب تک 2000 ہزار کچی آبادیوں کی نشاندہی ہوئی ہے جوکہ مقررہ تاریخ 30 جون 1997 سے قبل آباد ہوچکے اور اس میں وہ کچی آبادیاں جو اس کے بعد قائم ہوئی ہیں شامل نہیں ہیں۔ اسی غیرقانونی کچی آبادیوں کے خلاف بھی موثر کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں دیگر صوبوں کے لوگ بھی بسیں ہوئے ہیں،دیگرصوبوں میں دھشتگردی اور سیلاب کا شکار بننے والے متاثرین نے سندھ کی کچی آبادیوں کا رخ کیا ہے، پنجاب میں دیگر صوبوں کے لوگوں کو بسنیں نہیں دیا جاتا، پیپلزپارٹی واحد پارٹی ہے جس نے سندھ میں دیگر صوبوں کے متاثرین کو پناھ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے غریبوں سے گھر چھینے ہیں اور پی پی پی نے غریب لوگوں کو سندھ میں مفت گھربناکر دیے ہیں، منصوبہ بندی کے تحت آئندہ مالی سال میں 100 کچی آبادیوں کو ترقی اور مالکانہ حقوق دینے کہ لیے منظوری دی ہے. انہوں نے مزید کہا کہ جلد کچی آبادی اتھارٹی کا ازسر نوٹیفکیشن جاری کیا جائیگا اور کچی آبادی کے تنظیم نو کو ہیومن سیٹل اسپیشل ڈویلپمینٹ کا نام دیا جائیگا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر