’’خبردار،سوئمنگ پول میں جانا ہے تو سارے کپڑے اُتارنا ہوں گے‘‘ تارکین وطن اس صورتحال میں کیا کرتے ہیں ،یہ بھی جان لیں

’’خبردار،سوئمنگ پول میں جانا ہے تو سارے کپڑے اُتارنا ہوں گے‘‘ تارکین وطن ...
’’خبردار،سوئمنگ پول میں جانا ہے تو سارے کپڑے اُتارنا ہوں گے‘‘ تارکین وطن اس صورتحال میں کیا کرتے ہیں ،یہ بھی جان لیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

برلن(راشدبلال سے )پاکستان میں سوئمنگ پول کا کلچر ابھی تک بہت پسماندہ ہے۔دیہی علاقوں کے لوگ قریبی نہروں میں جاکر سوئمنگ کا شوق پورا کرلیتے ہیں یا جن کے دریا قریب ہیں یا جھیلیں انہیں بھی اسکا موقع مل جاتا ہے لیکن یورپی کلچر میں تو سوئمنگ ایسے ہی جیسے روزمرہ کا معمول ۔یورپئین اسکے عادی ہیں ۔ذرا سی گرمی ہوئی نہیں کہ سوئمنگ پولز پر مادر زاد بہار نظر آنے لگتی ہے اور یہ نظارہ شروع شروع میں تارکین وطن کو بہت بھلا لگتا ہے۔جرمنی میں تارکین وطن کو بھی بڑی گرمی لگتی ہے لہذا وہ بھی سوئمنگ پولز پر جرمنوں کے ساتھ جاکر انجوائے کرتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں سے کوئی مخصوص سوئمنگ پول پر چلا جائے تو وہاں کے قواعد دیکھ کر سٹپٹا جاتا ہے۔

جرمنی میں اڑتیس درجہ حرارت پر ہر کوئی بلبلاا اٹھتا ہے ،انہیں گرمی بہت لگتی ہے۔لہذاگرمی کے ستائے ہوئے لوگ سوئمنگ پول کا رخ کرتے اور ٹھنڈے ٹھنڈے پانی میں خوب انجوائے کرتے ہیں۔

جرمنی کے شہر کارسوھے میں بہت بڑا سوئمنگ پول ہے جہاں بچے۔عورتیں۔مرد۔جب گرمی کچھ زیادہ ھوتی ھے تو اپنی اپنی فیملی کے ساتھ جا کر انجوائے کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ گھر سے کھانے تیار کر کے ساتھ لے جاتے ہیں اور سوئمنگ کے بعد وہیں گراؤنڈ میں بیٹھ کر ریفریشمنٹ کا مزا بھی لیتے ہیں۔سوئمنگ پو ل کی نارمل ٹکٹ چار یورو ہوتی ہے تاہم سٹوڈنٹس کو تیس فیصد ڈسکاؤنٹ دیا جاتا ہے۔سوئمنگ پول میں تارکین وطن کی بھی اچھی خاصی تعداد ہو تی ہے اس لئے خدشہ ہوتا ہے کہیں تارکین وطن لیڈیز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں لہذا ایسے میں وہاں سکیورٹی کا بھی انتظام کیا گیاہوتا ہے۔

سوئمنگ کے لئے جالی دار چھوٹے چھوٹے شارٹس ہوتے ہیں جو خاص طور پر سوئمنگ کے لئے بنائے جاتے ہیں۔عام شارٹس کے ساتھ سوئمنگ کی اجازت نہیں ہوتی۔

یورپ کے تمام ممالک کا ماحول بہت ایڈوانس ہے اور ہر مقامی اور تارکین وطن کو مکمل آزادی حاصل ہے۔یہی وجہ ہے کہ جرمنی میں کچھ ایسے بھی سوئمنگ پول ہیں جہاں سوئمنگ کے لئے جانے والے ہر انسان کو مادر زاد ہونا پڑتاہے۔ خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور بچے۔اگر کوئی لباس کے ساتھ اندر جانے کی کوشش کرے گا تو سکیورٹی والے اس کو روک لیں گے۔کیوں کہ ان لوگوں کا کلچر ہی ایسا ہے ۔ ان لوگوں کو گورنمنٹ کی طرف سے بھی مکمل آزادی ہوتی ھے۔شروع شروع میں تارکین وطن کے لئے سب کچھ عجیب ھوتا ھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ بھیاسی معاشرے میں جینے کے عادی ہو جاتے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی