جنات کے چنگل میں پھنسے ایک مظلوم خاندان کی آپ بیتی ۔۔۔ دوسری قسط

جنات کے چنگل میں پھنسے ایک مظلوم خاندان کی آپ بیتی ۔۔۔ دوسری قسط
جنات کے چنگل میں پھنسے ایک مظلوم خاندان کی آپ بیتی ۔۔۔ دوسری قسط

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ایک مسافر کے بیگ میں ٹارچ تھی وہ آگے کی جانب لگا دی گئی۔ بارش کا زور ٹوٹنے کے بجائے بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ بجلی چمکتی تو ایک لمحے کے لیے ہر طرف خیرہ کن روشنی چھا جاتی پھر گھور اندھیرا۔ بارش نے طوفان کی شکل اختیار کر لی تھی۔

’’شام تک تو ایک بادل بھی نہ تھا۔۔۔اب بارش ہے جیسے آج ہی برسنا ہے اسے ‘‘ ایک مسافر کی بڑبڑاہٹ سنائی دی۔

’’اللہ کے کاموں میں کسے دخل ہے بھائی!۔۔۔بس دعاکرو‘‘ ایک بزرگ نے کہا ۔ پھر جس طرح اچانک بارش شروع ہوئی تھی اسی طرح ختم ہوگئی۔ رمضان جو ڈرائیورنگ سیٹ پربیٹھا ہوا تھا اس نے غیر ارادی طورپر سیلف میں چابی گھمائی تو انجن سٹارٹ ہوگیا۔ اسنے دو تین بار زور زور سے ریس دی جیسے انجن کبھی خراب ہوا ہی نہ ہو۔ سب نے شکر ادا کیا اس طرح تقریبا ایک گھنٹے بعد سفر دوبارہ شروع ہوا۔ اب رمضان خود بس چلا رہا تھا۔ اس نے سپیڈ بڑھا دی تھی اس لیے بیس پچیس منٹ کی تاخیر سے بہرحال ہم ملتان پہنچ گئے۔

جنات کے چنگل میں پھنسے ایک مظلوم خاندان کی آپ بیتی ۔۔۔ پہلی قسط  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں نے رکشہ پکڑی اور مطلوبہ پتے پر جا پہنچا۔ اللہ ناز ڈاھا بڑے تپاک سے ملا۔ پیٹ بھر کے ناشتہ کرنے کے بعد اسے سے معاملات طے پا گئے۔ وہ ہمارے بینک کی تحصیل برانچ میں اکاؤنٹ کھولنے پر آمادہ ہوگیا۔ گیارہ بجے کے قریب میں نے واپسی کی راہ لی۔ اس نے بہت کہا زیادہ تو نہیں تو ایک دودن ہی اسے میزبانی کا موقع دوں پر میں اس کا شکریہ ادا کرکے نکل آیا۔ دوسرے روز ہیڈ آفس رپورٹ کی تو چیئرمین بہت خوش ہوئے۔ ٹی اے ، ڈی اے کے علاوہ انہوں نے بھاری بونس بھی دیا۔ میرے کولیگز کا خیال تھا میرا پروموشن پکاہ ے۔ مذکورہ زمیندار کے اکاؤنٹ کھولنے سے بینک کو کافی فائدہ تھا۔ دوسرے دن چیئرمین نے مجھے آفس میں بلایا۔ میں خوش خوش گیا کہ ابھی پروموشن لیٹر لے کر آتا ہوں لیکن۔۔۔ہوا اسکے بالکل برعکس۔۔۔مجھے ٹرانفسرلیٹر ملا۔ چیئرمین کا خیال تھا میری صلاحیتوں کی وجہ سے جسطرح یہ اکھڑ شخص راغب ہوا۔ اسی طرح دیگر زمینداروں کو بھی میں اپنے بینک میں اکاؤنٹ کھولنے پرآمادہ کر سکتا ہوں۔ جائننگ کے لیے مجھے دو دن دیئے گئے ۔

اپنی داستان بیان کرنے سے پہلے میں آپ سے متعارف ہوجاؤں۔ میرا نام فاروق احمد خان ہے۔ ایک خوش حال اور خوش قسمت انسان ہوں۔ خوبصورت اور خوب سیرت بیوی صائمہ۔۔۔دو پیارے پیارے بچے سات سالہ احد اور پانچ سالہ مومنہ۔ اچھی ملازمت، شفیق ماں، محبت کرنے والی بہنیں اور بھائی۔ مجھے وہ سب کچھ میسر تھا جس کی ہر کسی کو خواہش ہوتی ہے۔ جب میں نے پروموشن اور ٹرانفسر کی خبر گھر آکر سنائی تو صائمہ جہاں میری پروموشن سے خوش ہوئی وہیں اس بات نے اسے افسردہ کر دیا کہ سب کو چھوڑ کر جانا پڑے گا۔ بڑے بھائی نے کہا ۔

’’اس میں پریشانی کی کیا بات ہے۔۔۔؟ سرکاری ملازمت ہے کچھ عرصہ بعد پھر واپس ٹرانسفر ہو جائے گی۔‘‘ دو دن بعد میں جائننگ کے لیے روانہ ہوا۔ لاہور سے مذکورہ شہر چار پانچ گھنٹے کی مسافت پر تھا اس لیے میں فجر کی نماز کے بعد روانہ ہوا۔ یوں بھی رات کے سابقہ سفری تجربے نے مجھے محتاط کر دیا تھا ۔ تقریبا گیارہ بجے وہاں پہنچ گیا۔ چھوٹا سا شہر تھا تانگے والے نے لگ بھگ بیس منٹ مجھے لاری اڈہ سے بینک کے سامنے پہنچا دیا۔ سٹاف نے نہایت تپاک سے میرا استقبال کیا۔ سابق منیجر بزرگ آدمی تھے اور اپنی مدت ملازمت پوری کرکے ریٹائر ہو رہے تھے۔ باقی عملہ بھی اچھے لوگوں پر مشتمل تھا۔ خاص کر کیشیئر عمران محمود تو مجھے بہت اچھا لگا۔ وہ عمر میں مجھ سے دو تین سال چھوٹا ہوگا ہنس مکھ اور ملنسار انسان تھا۔ ہم تھوری ہی دیر میں بے تکلف ہوگئے۔ دفتر میں میرا پہلا دن بہت اچھا گزرا۔ چھٹی کے بعد عمران اصرار کرکے اپنے گھر لے گیا۔ اس کی بیوی نازش تعلیم یافتہ اور سلجھے ہوئے مزاج کی مالک تھی۔ عمران کے تین بچے تھے تینوں بیٹے۔ اس نے شاید دفتر سے نازش کو فون کر دیا تھا اس لیے دستر خوان پر کئی قسم کے کھانے موجود تھے۔ کھانا واقعی لذیذ تھا اس پر میاں بیوی کے خلوص نے اس کی لذت کو دوبالا کر دیا۔ کھانے کے دوران نازش مجھ سے میرے گھر والوں کے متعلق پوچھتی رہی۔ صائمہ اور بچوں کے آنے کا سن کر بہت خوش ہوئیں۔ کھانے اور چائے کے بعد اصل مقصد کی طرف آیا۔

’’عمران! مجھے کرائے پر ایک اچھا سا مکان چاہئے۔‘‘

’’خان بھائی! کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔کل ہی مکان کی تلاش شروع کر دیتے ہیں‘‘ پھر کچھ سوچ کر کہنے لگا’’خان بھائی! یہاں سے تھوڑی دور پروفیسر صاحب کا شاندار بنگلہ خالی تو ہے لیکن۔۔۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگیا۔

’’لیکن کیا۔۔۔‘‘ میں نے پوچھا۔

’’کچھ نہیں۔۔۔‘‘ اس نے ایک نظر نازش اور بچوں کو دیکھا پھر کہنے لگا’’اچھا کل جا کر دیکھ لیتے ہیں اگر آپ کو پسند آئے تو ان سے بات کر لیں گے۔‘‘

’’کل کیوں۔۔۔؟ آج ہی چلتے ہیں۔‘‘ میں نے کہا۔

’’ٹھیک ہے خان بھائی!‘‘ وہ فوراً تیار ہوگیا۔

باہر آکر میں نے پوچھا’’تم کچھ کہتے کہتے رک گئے تھے کیا بات ہے؟‘‘

’’آئیے تھوڑی دیر پارک میں بیٹھتے ہیں میں آپ کو ساری بات بتا دیتا ہوں پھر جو آپ کا فیصلہ ہو۔‘‘ اس نے سامنے بنے پارک کی طرف اشارہ کیا۔ مجھے اس کے پراسرار انداز پر حیرت تو ہوئی لیکن اس کے ساتھ چل پڑا۔ شام کا وقت تھا پارک میں اکا دکا لوگ موجود تھے۔ ہم ایک بینچ پر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر سونے کے بعد کہنے لگا۔

’’خان بھائی! اس بنگلے کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ آسیب زدہ ہے ۔۔۔وہاں جو بھی رہائش اختیار کرتا ہے اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی حادثہ ضرور پیش آتا ہے۔‘‘

’’عمران! تم بھی کیسی بچوں جیسی باتیں کر رہے ہو۔ آجکل کے ترقی یافتہ دور میں ان باتوں پر کون یقین کرتا ہے؟‘‘ میں نے کہا۔

’’آپ ٹھیک کہتے ہیں پر جو کچھ وہاں ظہور پذیر ہوا ہے اسے دیکھتے ہوئے تو۔۔۔‘‘ وہ اپنی بات مکمل نہ کر پایا تھا کہ میں نے ٹوک دیا۔

’’کیا ہوا تھا وہاں؟‘‘ میں نے دلچسپی سے پوچھا۔

وہ کچھ دیر کی خاموشی کے بعدکہنے لگا۔

’’خان بھائی! زیادہ تو مجھے معلوم نہیں ہاں جو کچھ لوگوں سے سنا ہے وہ آپ کو بتا دیتا ہوں۔ پروفیسر صاحب کا پورا نام مرزا عظمت بیگ ہے لیکن پکارے وہ پروفیسر بیگ کے نام سے جاتے ہیں۔ ان کے دو ہی بچے تھے۔ مسعود اور نورین۔ مسعود، امریکہ تعلیم حاصل کرنے گیا پھر وہیں ملازمت اور شادی کرکے مستقل سیٹل ہوگیا۔ نورین۔۔۔سنا ہے نہایت حسین تھی۔ اس کی شادی اس کے خالہ زاد سرجن طاہر سے ہوئی جو خود بھی خوبرو جوان تھا۔ انہیں ’’چاند سورج کی جوڑی‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ بنگلہ جو ہم دیکھنے جا رہے ہیں پروفیسر صاحب نے بڑے چاؤ سے تعمیر کروا کے نورین کو جہیز میں دیا تھا۔ ڈاکٹر طاہر کا خیال تھا کہ کہ اس بنگلے میں اپنا چھوٹا سا ہسپتال بنا لیں گے لیکن افسوس زندگی نے ان کو مہلت نہ دی اور دونوں میاں بیوی اس دنیا سے چلے گئے۔‘‘

’’کیا ان کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا؟‘‘ میرے پوچھنے پر اس نے نفی میں سر ہلایا۔

’’نہیں خان بھائی! میں شروع سے سارا واقعہ آپ کو سناتا ہوں۔ نورین اور طاہر شادی کے چند دن بعد اسی بنگلے میں شفٹ ہوگئے۔ ضرورت کی کونسی شے تھی جو پوفیسر صاحب نے اپنی اکلوتی بیٹی کو نہ دی لیکن افسوس اسے استعمال کرنا اس کی قسمت میں نہ تھا۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد نورین کی طبیعت خراب رہنے لگی۔ طاہر ایک قابل ڈاکٹر تھا۔ اس لیے پہلے تو خود علاج کرتا رہا لیکن نورین کی حالت دن بدن بگڑتی چلی گئی۔ بہت علاج کروایا گیا۔ قابل سے قابل ڈاکٹرز نے چیک کیا لیکن اس کا مرض کسی کی سمجھ میں نہ آسکا۔ تھوڑے عرصہ بعد نورین سوکھ کر کانٹا ہوگئی۔ وہ ہر وقت بہکی بہکی باتیں کرتی۔ راتوں کو اٹھ زور زور سے چیختی۔

پروفیسر صاحب کے عزیز و اقارب نے ان کو مشورہ دیا۔ نورین کو کسی عامل یا پیر فقیر کو دکھائیں لیکن وہ ان باتوں کو خرافات سمجھتے تھے۔ نورین کی والدہ صابرہ بیگم نے جب بیٹی کی حالت دم بدم بگڑتے دیکھتی تو ایک مولوی صاحب کو بلوایا۔ جس نے نورین کو دیکھ کر کہا اس پرایک زبردست آسیب نے قبضہ جما رکھا ہے۔ لیکن یہ کام اس کے بس سے باہر ہے جو کسی عامل کو بلوا کر اس کا علاج کروائیں۔ اس کے بعد کئی عامل، پیر فقیر آئے لیکن کوئی دعا ، دعا کارگر نہ ہوئی۔ ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ تھک ہار کر انہو نے علاج کروانا چھوڑ دیا۔ کچھ دنوں بعد حیرت انگیز طور پر نورین کی حالت سنبھل گئی۔ سب نے سکھ کا سانس لیا۔ مسز بیگ نے بیٹی کی صحت یابی کی خوشی مکیں ایک چھوٹی سی پارٹی کا اہتمام کیا۔ جس میں ان کے قریبی عزیز مدعو تھے۔ رنگارنگ تقریب جاری تھی کہ یکایک موسم کے تیور بدلنا شروع ہوگئے۔ بارش اور آندھی کا طوفان اس طرح اچانک نازل ہوا کہ سب حیران رہ گئے۔ موسم کے باعث تقریب جلد ختم کر دی گئی۔ مہمان افراتفری میں رخصت ہوگئے۔ نورین نے اپنی والدہ سے کہا۔

’’امی جان! ہم بھی واپس گھر جا رہے ہیں۔‘‘

مسز بیگ نے بہت کہا ’’بیٹا! موسم خراب ہے صبح چلی جانا‘‘

وہ نہ مانی اور دونوں میاں بیوی واپس بنگلے پر آگئے۔ دوسرے دن مسز بیگ نے نورین کی خیریت دریافت کرنے کے لیے فون کیا۔ گھنٹی بجتی رہی مگر کسی نے فون نہ اٹھایا۔ کئی مرتبہ فون کرنے پر یہی نتیجہ نکلا تو مسز بیگ کو فکر لاحق ہوئی۔

’’خدا خیر کرے نورین کے گھر سے کوئی فون اٹینڈ نہیں کر رہا میرے دل میں تو ہول اٹھ رہے ہیں چلیں ذرا ان کے گھر ہو آئیں‘‘ انہوں نے پروفیسر صاحب سے کہا۔

’’اللہ کی بندی! تم توخواہ مخواہ پریشان ہو جاتی ہو۔ رات دیر تک پارٹی میں جاگتے رہے ہیں اسی لیے سو رہے ہوں گے۔ اٹھیں گے تو خود ہی فون کر لیں گے۔‘‘ پروفیسر صاحب ہنس پڑے۔

لیکن ممتا کے ہاتھوں مجبور مسز بیگ بار بار فون کرتی رہیں۔ تھوڑی دیر بعد انہوں نے روتے ہوئے پروفیسر صاحب سے نورین کے گھر چلنے کے لیے اصرار کیا۔۔۔بیوی کی پریشانی دیکھتے ہوئے وہ اس بار انکار نہ کر سکے۔ نورین کے گھر جا کر انہوں نے گھنٹی بجائے بار بار بجانے پر بھی دروازہ نہ کھلا تو پروفیسر صاحب بھی پریشان ہوگئے۔ سامنے توقیر صاحب(جن سے پروفیسر بیگ نے یہ پلاٹ خریدا تھا) کا بنگلہ تھا۔ انہوں نے جا کر انکو بتایا نورین کی بیماری کے متعلق وہ بھی جانتے تھے اس لیے جلدی سے اپنے بیٹے ساجد کو لے کر فوراً ان کیساتھ چل پڑے۔ انہوں نے بھی تین چار گھنٹی بجائے لیکن نتیجہ صفر رہا۔

’’انکل! اگرآپ اجازت دیں تو میں دیوار پھلانگ کر اندر سے گیٹ کھول دیتا ہوں۔‘‘ ساجد نے کہا۔

’’بیٹا! جو مناسب سمجھو کرو میرا تو دماغ کام نہیں کر رہا۔‘‘

مسز بیگ چپکے چپکے رو رہی تھی۔ ساجد نے دیوار پھلانگ کر جلدی سے گیٹ کھول دیا۔ سب اندر داخل ہوئے سامنے برآمدے کی لائٹ جل رہی تھی۔ پروفیسر صاحب نے اندر داخل ہوتے ہی آواز دی کوئی جواب نہ اایا۔ وہ جلدی سے نورین کی خواب گاہ کے دروازے پر پہنچے دروازہ کھٹکھٹایا جواب نہ پا کر اسے کھولنے کی کوشش کی تو وہ اندر سے بند تھا۔ مسز بیگ کی سسکیاں تیز ہوگئیں۔(جاری ہے)

جنات کے چنگل میں پھنسے ایک مظلوم خاندان کی آپ بیتی ۔۔۔ تیسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : رادھا