امریکہ نے عربوں کو تقسیم کردیا

امریکہ نے عربوں کو تقسیم کردیا
امریکہ نے عربوں کو تقسیم کردیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سعودی عرب اور خلیجی ممالک نے اپنی سفارتی تعلقات قطر کیساتھ منقطع کر لئے ہیں۔ ان ممالک کے درمیان روابط کو بحال کروانے کے لئے کئی ممالک اپنی طور پر کوششیں کر رہے ہیں۔پاکستان کی حکومت نے بھی سعودی عرب کی حکومت کو مخصوص انداز میں بتا دیا ہے کہ وُہ سعودی عرب، خلیجی ممالک اور قطر کی کشیدگی میں کسی ایک پارٹی کیساتھ کھڑے ہونے کا تا ثر نہیں دینا چاہتابلکہ پاکستان کی خواہش ہے کہ وُہ تمام مُسلم برادر ممالک کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرکے امن اور سلامتی کے لئے کوششیں کرے۔پاکستان کے ایران، قطر اور دوسرے اسلامی ممالک کے ساتھ بھی برادرانہ تعلقات قا ئم ہیں۔ وُہ ایک مُلک کو خوش کرنے کے لئے دوسرے مُلک سے ناراضگی مول نہیں لے سکتا۔ پاکستان کے عوام اور پارلیمان بھی یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اُمہ میں اتحاد پیدا کرنے کے لئے اپنے تما م وسائل کو برؤے کار لائے۔ اِسی جذبے کے تحت وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے خاص وفد کیساتھ سعودی عرب کا یک روزہ دورہ کیا ہے۔

سعودی حکومت نے پاکستان کے وزیر اعظم اور اُنکے وفد کا گرم جوشی سے استقبال کیا ہے، سرکاری طور پر اِس دورے کو بڑا مثبت اور اہم قرار دیا جارہا ہے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ سعودی عرب کی حکومت پاکستان سے زیادہ ہی توقع رکھتی ہے جو کہ بوجوہ پاکستان پُوری نہیں کر سکتا۔ سعودی عرب کی دیرینہ خواہش ہے کہ پاکستان کی پوُری فوج سعودی عرب کا دفاع کرے اور جب بھی سعودی عرب کو پاکستان کے ایٹم بم کی ضرورت پڑے وُہ اُسکو سہولت کے ساتھ استعمال کر سکے۔ لیکن پاکستان کے حالیہ روئیے سے سعودی عرب کی حکومت کو ما یوسی ہوئی ہے۔ جبکہ بعض تبصرہ نگاروں کا خیال ہے کہ نواز شریف سعودی عرب کی حکومت کے ممنون ہیں کہ انہوں نواز شریف کو پھانسی کی سزا سے بچایا اور اپنے مُلک میں پناہ دی۔ اِس کے علاوہ پاکستان میں نواز شریف کو دوبارہ بحال کرنے کے لئے بھی سیاسی اور ما لی اعتبار سے نواز شریف کی خاطر خواہ مدد کی۔ لہذا نواز شریف اِس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ سعودی حکومت کو ٹکا سا جواب دے سکیں۔

کُچھ واقفانِ حال کے نزدیک نواز شریف کو اِس بات سے دھچکہ لگاہے کہ ا سلامی کانفرنس کے دوران اُن کو تقریر کا وعدہ کرکے اُنکو عین وقت پر مو قعہ نہیں دیا گیا۔ جس سے نواز شریف کی سُبکی ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں، امریکی اور سعودی عرب کے سر براہان نے اپنی تقاریر میں پاکستان کی خدمات اور قُربانیوں کا سرے سے ذِکر نہیں کیا۔ جنرل راحیل شریف کے اختیارات کو بھی سلب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔با ا لفاظ دیگر، پاکستان کی سیاسی اور فوجی اہمیت کو کمتر کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ اِس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ سعودی عرب پاکستان کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات بگاڑنا نہیں چاہتا۔ سعودی عرب اپنے حا لات کی وجہ سے امریکہ سے قریبی تعلقات قائم رکھنے کا متمنی ہے۔ سعودی عرب امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے پاکستان سے دُوری بنائے رکھنا چاہتا ہے۔ کیونکہ پاکستا ن کو کبھی قرضہ یا سستا پٹرول دے کر خوش کیا جا سکتاہے لیکن سعودی عرب کو ایران کے اثر رسوخ کو روکنے کے لئے ایک طاقتور مُلک کی ضرورت ہے۔ جو سیاسی اور فوجی طور پر سعودی عرب کو علاقے میں تحفظ دے سکے۔ اور امریکہ یہ کام سعودی عرب کے لئے آسانی کے ساتھ کر سکتا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے ممتاز ر اہنما اور معروف قانون دان اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ نواز شریف اپنی عزت کو بچانے کے لئے سعودی عرب کے حالیہ دورے کے بارے میں دروغ گوئی سے کام لے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب کے شاہ سلمان نے نواز شریف سے کہا ہے کہ وُہ بتائیں کہ پاکستان سعودی عرب اور قطر کے تنازعہ میں کس کی طرفداری کرتا ہے؟ بقول اعتزاز احس کے شاہ سلمان نے کہا کہ پناہ، پیسہ اور پٹرول ہم آپ کو دیتے ہیں۔ ہر مُشکل میں ہم آپکی مدد کرتے ہیں اور جب ہم کو آپکی ضرورت پیش آ ئے آپ لوگ آنکھیں بدل لیتے ہیں۔ اگر آپ قطر کی وکالت کرنے آئے ہیں تو ہم معذرت خواہ ہیں۔ ہم آپ کے موقف کی تائید نہیں کر سکتے۔ لہذا پاکستان کی حکومت کی طرف سے یہ جو تاثر دیا جارہا ہے کہ وزیر اعظم کا سعودی عرب کا دورہ بہت کامیاب رہا با لکُل غلط ہے، اسکا حقیقت سے دُور کا تعلق نہیں ہے۔ نواز شریف اور اُنکے کارندے عوام کو دھوکہ دینے کے لئے غلط بیانی سے کا م لے رہے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ امریکہ کی وجہ سے سعودی عرب نے پاکستان سے دُوری اختیار کی ہے۔ سعودی عرب خلیج اور قطر کے درمیان تناؤ کی وجہ بھی امریکہ ہی ہے۔ سعودی عرب نے صدر ٹر مپ کو خوش کرنے کے لئے خزانے کے مُنہ کھول دیئے تھے۔ کر وڑوں ڈالرز کی مالیت کے انعامات صدر ٹرمپ کو دئے گئے ہیں اور یہ ا نعامات اُنکے لئے ذاتی ہیں۔صدر ٹرمپ نے نہ صرف بیش قیمت ا نعامات حاصل کئے بلکہ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ اربوں ڈالرز کی ما لیت کے تجارتی معاہدے بھی کئے۔ لیکن صدر ٹرمپ نے اپنے دورے کے دوران واضع کیا کہ قطر یمن کی لڑائی میں ڈبل کردار ادا کررہا ہے۔ اُسکے ایران کے ساتھ خصو صی تعلقات ہیں۔ لہذا سعودی خاندان کو اپنی حکومت اور دوسرے خلیجی ممالک کو قطر کی سازشوں سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ امریکی صدر کے دورے کے فوراً بعد ہی سعودی عرب اور خلیجی ممالک نے قطر کے ساتھ اپنے تعلقات کو مُنقطع کر لیا۔اپنے فضائی اور سمُندری سرحدوں کو بھی بند کر دیا۔ایسے بائیکاٹ کی قطر کی قطعی اُمید نہ تھی۔ لیکن اِس بائیکاٹ کی وجہ انٹیلیجنس نہیں جو کہ امریکہ نے خفیہ طور پر سعودی عرب اور خلیجی ممالک کو فراہم کی بلکہ قطر کی حکومت کے وزیر کے بیانات ہیں جن میں سعودی اور خلیجی ممالک کے خلاف بیانات دئیے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں، ایران نے قطر کی ہر طرح سے مدد کرنے کی حامی بھر لی ہے۔ تُرکی نے بھی موقع سے فائدہ اٹھایا ہے۔ اور اپنی پارلیمنٹ سے قطر میں اپنی فوجی اڈہ قایم کرنے کی منظوری حاصل کر لی ہے۔ اَب امریکہ نے قطری حکومت کو سعودی عرب اور خ خلیجی ممالک کے غضب سے بچانے کئے بھاری ما لیت کے ایف ۱۵ طیارے بیچنے کا معاہدہ کیا ہے۔ جس کی مالیت دو ارب مالیت بتائی جاتی ہے۔ امریکہ نے بڑی ہوشیاری سے عربوں کو تقیسم کر دیا ہے اور اپنے لئے بھاری مالیت کے معاہدے بھی حاصل کر لئے ہیں۔ اِسے کہتے ہیں سیاست یعنی آموں کے آم گھُٹلیوں کے دام۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ