’ماں، میں تم سے بس یہ کہنا چاہتی ہوں کہ۔۔۔‘ عمارت میں خوفناک آتشزدگی کا نشانہ بننے والی لڑکی کا اپنی ماں کو فون، آخری الفاظ کیا کہے؟ جان کر پتھر دل بھی پگھل جائے

’ماں، میں تم سے بس یہ کہنا چاہتی ہوں کہ۔۔۔‘ عمارت میں خوفناک آتشزدگی کا ...
’ماں، میں تم سے بس یہ کہنا چاہتی ہوں کہ۔۔۔‘ عمارت میں خوفناک آتشزدگی کا نشانہ بننے والی لڑکی کا اپنی ماں کو فون، آخری الفاظ کیا کہے؟ جان کر پتھر دل بھی پگھل جائے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ دنوں لندن کے گرینفل ٹاور میں خوفناک آگ لگی جو درجنوں افراد کی زندگیاں نگل گئی۔ اس المناک سانحے میں جاں بحق ہونے والوں میں اٹلی سے آیا نوجوان مارکو گوٹیردی اوراور اس کی منگیتر گلوریا تریویسن بھی شامل ہیں۔ جب آگ نے مارکو اور گلوریا کو گھیر لیا تو انہوں نے اٹلی میں اپنے والدین کو فون کرکے آخری بار بات کی۔ انہوں نے والدین سے جو کچھ کہا، جان کر آپ بھی دل گرفتہ ہو جائیں گے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق مارکو اور گلوریا محض تین ماہ قبل ہی اٹلی سے لندن منتقل ہوئے تھے اور اسی بدقسمت ٹاور کے ایک فلیٹ میں مقیم تھے۔

’3 سال قبل میں نے بطور غیر مسلم اپنے دوستوں کے ساتھ روزے رکھنا شروع کئے لیکن پھر ایسا کام ہوگیا کہ میں اسلام قبول کرنے پر مجبور ہوگئی اور۔۔۔‘ نوجوان لڑکی کے مسلمان ہونے کی ایسی کہانی کہ جان کر آپ کا بھی ایمان تازہ ہوجائے گا

اپنی آخری فون کال میں انہوں نے اپنے والدین سے کہا کہ ”ہم آپ کو خداحافظ کہنا چاہتے ہیں اور آپ نے ہمارے لیے زندگی میں جو کچھ کیااس کے لیے ہم آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔“ پہلے تو ان دونوں نے فون پر اپنے والدین سے آگ کے متعلق چھپائے رکھا لیکن پھر گلوریا نے اپنی والدہ کو بتادیا کہ ”یہاں آگ لگی ہے۔ ہمارے چاروں طرف دھواں اٹھ رہا ہے اور سیڑھیوں سے بلند ہوتی آگ کی لپٹیں میں دیکھ رہی ہوں۔“ مارکو اور گلوریا دونوں آرکیٹیکچرگریجوایٹ تھے۔ دونوں تاحال لاپتہ ہیں، لیکن واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کی بڑھتی تعداد دیکھ کر ان کے والدین مایوس ہو چکے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس