عرب ملک میں کفیل نے اپنی خادمہ کو بھوکا ماردیا، پھر اس پر عدالت کی جانب سے کیا سزا سنائی گئی؟ جان کر آپ کا دل واقعی خون کے آنسو روئے گا، اتنی معمولی سزا کہ۔۔۔

عرب ملک میں کفیل نے اپنی خادمہ کو بھوکا ماردیا، پھر اس پر عدالت کی جانب سے کیا ...
عرب ملک میں کفیل نے اپنی خادمہ کو بھوکا ماردیا، پھر اس پر عدالت کی جانب سے کیا سزا سنائی گئی؟ جان کر آپ کا دل واقعی خون کے آنسو روئے گا، اتنی معمولی سزا کہ۔۔۔

  

دبئی سٹی (مانیٹرنگ ڈیسک) غیر ملکی محنت کشوںپر عرب کفیلوں کے مظالم کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن متحدہ عرب امارات میں ایک خاتون کفیل نے تو سفاکیت کی انتہا ہی کر دی۔ اس بے رحم خاتون نے اپنی غیرملکی ملازمہ کو کمرے میں بند کر دیا اور کئی روز تک کھانا نہیں دیا جس کے نتیجے میں بیچاری ملازمہ بھوک سے تڑپ تڑپ کر موت کے منہ میں چلی گئی۔ اگرچہ اس ظالم خاتون کو سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن اب عدالت کو نجانے کیوں اس پر رحم آگیا ہے کہ اس کی سزا کم کر کے تین سال کر دی گئی ہے۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 62 سالہ اماراتی خاتون کو گزشتہ سال دسمبر میں اپنی انڈونیشیائی ملازمہ کے سفاکانہ قتل کے جرم میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ فورینزک ماہرین نے بھی تصدیق کی تھی کہ ملازمہ کو قید میں رکھا گیا اور اسے کھانے سے مسلسل محروم رکھا گیا جس کے نتیجے میں اس کی موت ہوئی تھی۔ اماراتی خاتون نے سات سال قید کی سزا کے خلاف اپیل کی تو عدالت نے اس سزا میں تخفیف کرکے اسے تین سال کردیا ہے، تاہم سزا میں کمی کی وجوہات بیان نہیں کی گئی ہیں۔

’میں عمرہ کرنے کیلئے مکہ المکرمہ جانا چاہتا ہوں‘ دبئی میں شہری نے اپنے بھارتی باس سے چھٹی مانگی تو آگے سے اس نے ایسا شرمناک جواب دے دیا کہ ہنگامہ برپاہوگیا، دفتر میں فوری پولیس پہنچ گئی کیونکہ۔۔۔

اس لرزہ خیز قتل کی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا تھا کہ اماراتی خاتون نے ملازمہ کو کئی دن تک ایک کمرے میں قید رکھا تھا اور اسے مسلسل کھانے پینے کی اشیاءسے محروم رکھا تھا۔ مقتولہ کے جسم پر تشدد اور زخموں کے نشانات بھی پائے گئے تھے۔ کیس کی تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ اماراتی خاتون پہلے بھی اپنی ملازماﺅں کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد میں ملوث رہی تھی جس کے بعد اس پر پابندی عائد کی گئی تھی کہ وہ کسی ملازمہ کو اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتی تھی۔

مزید : عرب دنیا