امریکا نے شام میں موبائل آرٹلری راکٹ لانچرز نصب کر دئیے

امریکا نے شام میں موبائل آرٹلری راکٹ لانچرز نصب کر دئیے
امریکا نے شام میں موبائل آرٹلری راکٹ لانچرز نصب کر دئیے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

واشنگٹن(این این آئی)امریکا نے جنوبی شام میں اپنے ایک فوجی اڈے کی حفاظت کے لیے الطنف کے علاقے میں اپنے موبائل آرٹلری راکٹ لانچرز نصب کر دیے ۔ اس فوجی اڈے پر امریکی دستے شام میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف لڑنے والے جنگجوؤں کو تربیت دیتے ہیں۔

افغانستان میں پچھلی غلطیاں نہیں دہرائیں گے:امریکی وزیر دفاع

میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے حکام نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ ملکی فورسز نے برسوں سے خانہ جنگی کے شکار ملک شام کے جنوب میں الطنف کے علاقے میں اپنے ایک اڈے پر اب ایسا جدید موبائل توپ خانہ بھی نصب کر دیا ہے، جو راکٹوں سے حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔عسکری اصطلاح میں اس قابل انتقال توپ خانے کو ’ہیمارس‘ کہتے ہیں۔ پینٹاگون کے حکام نے بتایا کہ یہ دراصل ایک ایسا راکٹ سسٹم ہے، جس کی مدد سے بڑے بڑے فوجی ٹرکوں سے بیک وقت بہت سے راکٹ فائر کیے جا سکتے ہیں۔امریکی عسکری ماہرین کے مطابق شام کے جنوب میں ملکی سرحد کے قریب یہ پیش رفت اس لیے ایک نیا خطرہ تھی کہ یوں دمشق حکومت کی فوجیں الطنف میں اس امریکی فوجی اڈے کے قدرے قریب آ گئی تھیں۔

اس امریکی فوجی پیش رفت پر شامی صدر اسد کے انتہائی اہم حلیف روس نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔ ماسکو میں روسی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ امریکا اپنے یہ ’ہیمارس‘ راکٹ سسٹم شامی حکومکت کی فوجوں پر حملوں کے لیے استعمال کرے گا۔دفاعی ماہرین کے مطابق امریکا ’ہیمارس‘ راکٹ سسٹم کو اس لیے اتنی اہمیت دے رہا ہے کہ اس کے ذریعے بہت خراب موسم میں اس وقت بھی جملہ اہداف کو بڑی کامیابی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جب مطلع صاف نہ ہو اور حالات ہوائی حملوں کے لیے سازگار نہ ہوں۔

مزید : بین الاقوامی