پانامہ جے آئی ٹی ، فیصلے کے بعد کیا کرنا ہے؟ ن لیگ نے کمر کس لی!

پانامہ جے آئی ٹی ، فیصلے کے بعد کیا کرنا ہے؟ ن لیگ نے کمر کس لی!

قبلہ قادری کا ایڈوانچر موڈ میں نہ ہونا  بھی انتہائی معنی خیز ہے۔

وزیرا عظم کی پنامہ جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد ان کی   میڈیا ٹاک دراصل  اس کہانی کا 'خلاصہ 'تھا جس کا سِرا ہاتھ نہیں آرہا۔ کٹھ پتلیوں کے کھیل تماشے اور پس پردہ ہونے والی سازشوں کا حوالہ بالخصوص قابل غور تھا۔ ملکی سلامتی کو در پیش ممکنہ خدشات کی وارننگ بھی انہی حوالوں کے تناظر میں دی گئی تھی۔ پاکستان کا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں مقتدر قوتیں مکمل ہم آہنگی اور انہماک کیساتھ سویلین بالادستی کو پروان چڑھتے نہ دیکھ سکیں۔ لیکن عہد حاضر اس حوالے سے قدرے مختلف ہے کہ اب ان حلقوں  کی انتہائی اعلی قیادت 'رول آف لا' پر یقین رکھتی ہے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ موجودہ سسٹم تاحال برقرار ہے۔طویل جدوجہد اور کئی ایک خوفناک طوفانوں سے گزرنے کے بعد  کھڑے ہونے والے پانی میں پتھر مارنے کیلئے البتہ  استاد مچھیروں  کی جانب سے احکامات درکار نہیں ہوا کر تے اور یہی وجہ ہے کہ منجھلے مچھیرے ابھی بھی اس تالاب کی تہہ میں موجود مچھلیوں کیساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے میں مصرو ف عمل ہیں۔  کیونکہ سالوں سے بنے 'مائنڈ سیٹ' میں تبدیلی کے لئے ایک عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اور ویسے بھی کھڑے پانی میں چند گندی مچھلیاں پورا تالاب بدبودار کر دیتی ہیں اور تالاب  کے مالک پانی تبدیل کرنے میں ہی عافیت جانتے ہیں۔ اس سارے کھیل میں بڑی ذمہ داری تو ان مچھلیوں پر ہی عائد ہوتی ہے جو تالاب گندا کرتی ہیں، مالک تو اخیر میں تالاب صفائی کا جتن کرتے ہیں۔  دانہ پانی کے حصول کیلئے جب مچھلیاں تالاب کی بجائے پانی کی سطح سے بار بار باہر منہ نکالیں گی تو راہ گیر ہوں یا مالک ، کچھ نہ کچھ تو دان دیں گے۔ بہرحال کل وزیر اعظم نے برملا کہا کہ  وہ عوام سے کئی باتیں کرنا چاہتے ہیں، غالبا وہ دھرنوں سے لے کر لاک ڈاون ۔،   ڈان لیکس سے لے کر تصویر لیک  اور  جے آئی ٹی میں شامل مختلف اداروں کے نمائندوں کی سلیکشن سے لر کر   ان کے کنڈنکٹ تک کی تفصیلات  بارے کسی مناسب وقت پر اظہار خیال کرنا چاہتے ہیں، ایک رائے یہ بھی ہے وہ ایسا قطعا نہیں کہیں گے انہوں نے یہ سب محض 'ٹیزر' کے طور پر کہا  کہ: ' شاید کہ ترے دل میں اتر جائے میری بات' ۔ بصورت دیگر بند گلی میں پہنچنے والے کو تمام تر دستیاب آپشنز استعمال کرنا ہی پڑتے ہیں۔  ورنہ بند گلی مہلک ثابت ہوتی ہے۔ اب بھی اگر معاملات بند گلی تک  پہنچ گئے تو پھر تبدیلی نہیں بلکہ تبدیلیاں آنے کی شنید ہے جس میں نقصان پورے تالاب کا ہو سکتا ہے۔  قبلہ قادری البتہ سیانے نکلے ہیں، کل لاہور میں  ہوئی افطار میں شیخ رشید، چوہدری سرور،رضا ہارون، منظور وٹو اور دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ہمراہ افطار میں قبلہ نے انقلاب کی بشارت سنانے سے گریز کیا اور جے آئی ٹی کو ڈرامہ قرار دے دیا۔ اندازہ ہے کہ بار بار باری لینی کی کوشش نے انہیں کافی سکھلا دیا، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے حقیقی تبدیلی کو تمام جماعتوں کے اتحاد سے مشروط کر دیا۔  بہر حال! قبلہ اب کسی 'ایڈونچر' کے موڈ میں نہیں  ہیں تاوقتیکہ معاملہ عدالتوں سے نکل کر سڑکوں پرنہ آجائے۔

 

مزید : تجزیہ