ہائیکورٹ نے شیخ زید ہسپتال کی وفاق سے پنجاب میں منتقلی غیرآئینی قرار دے دی

ہائیکورٹ نے شیخ زید ہسپتال کی وفاق سے پنجاب میں منتقلی غیرآئینی قرار دے دی
ہائیکورٹ نے شیخ زید ہسپتال کی وفاق سے پنجاب میں منتقلی غیرآئینی قرار دے دی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے شیخ زید ہسپتال لاہور کی وفاق سے پنجاب میں منتقلی کوغیرآئینی قرار دے دیا ، عدالت نے چیئرمین ہسپتال ڈاکٹر فرید احمد کی تعیناتی اور ہسپتال کو ٹرسٹ قرار دینا بھی غیرآئینی قرار دیا ہے۔

نئے کپڑے کہاں سے بنواﺅں؟ماں نے3بچوں سمیت کنویں میں چھلانگ لگادی

جسٹس فرخ عرفان خان نے یہ تفصیلی فیصلہ ناصر دین سمیت دیگر افراد درخواستیں منظور کرتے ہوئے فیصلہ جاری کیاہے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شیخ زید ہسپتال کی وفاقی کابینہ سے پنجاب حکومت کو منتقلی آئین کے آرٹیکل 270( اے )کی خلاف ورزی ہے، اٹھارہویں آئینی ترمیم کے عملدرآمد کمیشن کے تحت 29جون 2011ءتک فہرست زدہ وزارتوں اور ان کے ماتحت اداروں کی صوبوں کی منتقلی ہونا تھی، شیخ زید ہسپتال وزارت صحت کے ماتحت نہیں تھا لیکن اٹھارہویں آئینی ترمیم کی غلط تشریح کرتے ہوئے وزیر اعظم نے 14فروری 2012ءکو انتظامی حکم نامے کے ذریعے وفاقی کابینہ کے ماتحت شیخ زید ہسپتال کو پنجاب حکومت کو منتقل کر دیا جو غیرآئینی اقدام ہے، فیصلے کے مطابق ہسپتال کو ٹرسٹ قرار دے کر سرکاری ملازمین کو ٹرسٹ کے ماتحت کرنا بھی آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے، سرکاری ملازمین حکومت کے ماتحت ہوتے ہیں، انہیں کسی ٹرسٹ کے ماتحت نہیں کیا جا ستکا، فیصلے کے مطابق چیئرمین شیخ زید ہسپتال ڈاکٹر فرید احمد کی تعیناتی بھی کالعدم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چیئرمین کی تعیناتی قانونی تقاضوں کو نظرانداز کر کے کی گئی ہے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین کے ہسپتال منتقلی سے لے کر اب تک کے اقدامات کو بھی قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کے ادارے 6ماہ میں مل کرشیخ زید پوسٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، شیخ زید ہسپتال اور اس سے منسلک شیخ فاطمہ نرسنگ سکول، انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈی سیز، شیخ خلیفہ بن زید النیہان اور لیور ٹرانسپلانٹ سنٹر کا انتظامی کنٹرول واپس وفاقی کابینہ کو دینے کے لئے اقدامات کریں۔

مزید : لاہور