خیبر پختونخواہ نے ینگ ڈاکٹرز کے دھرنے میں میری کوریج کرنے والے صحافیوں کو رپورٹنگ سے روک دیا: ریحام خان

خیبر پختونخواہ نے ینگ ڈاکٹرز کے دھرنے میں میری کوریج کرنے والے صحافیوں کو ...
خیبر پختونخواہ نے ینگ ڈاکٹرز کے دھرنے میں میری کوریج کرنے والے صحافیوں کو رپورٹنگ سے روک دیا: ریحام خان

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے الزام عائد کیا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز کے دھرنے میں میری کوریج کرنے والے صحافی ایک نامعلوم کال کے بعد میری کوریج کئے بنا ہی واپس چلے گئے، یہ نامعلوم کال خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے تھی۔

نئے کپڑے کہاں سے بنواﺅں؟ماں نے3بچوں سمیت کنویں میں چھلانگ لگادی

تفصیلات کے مطابق ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا بھوک ہڑتالی کیمپ20دنوں سے جاری ہے، آج اس کیمپ میں عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے آنا تھا، وائی ڈی اے کی جانب سے میڈیا نمائندوں کو بتایا گیا کہ ریحام خان اڑھائی بجے تک دھرنے میں شریک ہوں گی،میڈیا نمائندے بروقت پہنچ گئے اور انہوں نے پوچھا کہ سوا تین ہو گئے ہیں ریحام خان اب تک کیوں نہیں آئیں، ساڑھے تین بجے ریحام خان دھرنے میں پہنچی لیکن وہ اپنی کار میں موجود رہیں کیوں کہ اس وقت عوامی نیشنل پارٹی کے افتخار حسین دھرنے میں موجود تھے۔

اس دوران ریحام خان نے ینگ ڈاکٹرز کے صدر ڈاکٹر گلاب نور آفریدی سے پوچھا کہ آپ یہاں کب سے بھوک ہڑتالی کیمپ میں موجود ہیں ، کیا آپ اتوار سے یہاں پر موجود ہیں؟ جس کے جواب میں ڈاکٹر آفریدی نے جواب دیا کہ نہیں ہم24مئی سے یہاں پر موجود ہیں، ریحام خان کی تاخیر کی وجہ سے رپورٹرز نے دھرنے سے جانا شروع کردیا ، ریحام خان کی میڈیا ٹیم اور ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے رپورٹرز کو روکنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ نہیں رکے کیوں رپورٹرز نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی کوریج کے لئے جانا تھا۔

اس سارے تناظر میں سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کے ذریعے ریحام خان نے الزام عائد کیا کہ رپوٹرز کو خیبر پختونخواہ نے نامعلوم ٹیلی فون کال کے ذریعے دباﺅ ڈالا اور میری میڈیا ٹاک کی کوریج سے روکا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخواہ نے پولیس تشدد سے زخمی ینگ ڈاکٹرز کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے نیرولوجی وارڈ سے شفٹ کردیا، جب وہ ان کی عیادت کے لئے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں پہنچیں، زخمی ڈاکٹرز کو اس لئے شفٹ کیا گیا تاکہ وہ ان کی عیادت نہ کرسکیں۔

مزید : پشاور