پاناما کیس، جے آئی ٹی قطر آئی تو میں شریف خاندان کو لکھے گئے خط کے تمام مندرجات کی تصدیق کروں گا: شہزادہ حماد بن جاسم

پاناما کیس، جے آئی ٹی قطر آئی تو میں شریف خاندان کو لکھے گئے خط کے تمام ...
پاناما کیس، جے آئی ٹی قطر آئی تو میں شریف خاندان کو لکھے گئے خط کے تمام مندرجات کی تصدیق کروں گا: شہزادہ حماد بن جاسم

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) قطر کے سابق وزیراعظم پرنس حماد بن جاسم الثانی نے پاکستان سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے دوحہ آنے پر شریف فیملی کے ساتھ اپنے تمام کاروباری تعلقات کی تفصیل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے اور واضح کردیا ہے کہ وہ جے آئی ٹی سے موسوم اس ٹیم کے ارکان سے روبرو ملاقات کے لئے تیار ہیں۔

روزنامہ جنگ کے مطابق پرنس حماد بن جاسم الثانی سے ملاقات کے لئے تحقیقاتی ٹیم کے ارکان نے عدالت عظمیٰ کے رجسٹرار سے رابطہ کرلیاہے، دوحہ میں پرنس سے رابطہ کیا گیا تو ان کے انتہائی قریبی ذرائع نے بتایا کہ پرنس حماد نے تحریری صورت میں شریف فیملی کے ساتھ اپنے کاروباری اور مالیاتی تعلقات کے ضمن میں جوتفصیلات دی ہیں وہ ان پر حرف بحرف قائم ہیں بلکہ دستاویزی ثبوتوں کے ذریعے انہیں درست ثابت کرنے کے لئے بھی آمادہ ہیں۔پرنس حماد کا کہنا ہے کہ ان کی پاکستان میں کوئی سرمایہ کاری نہیں ہے اور نہ ہی وہ پاکستان کے شہری ہیں ان حالات میں وہ کسی تحقیقاتی ٹیم کے روبرو پاکستان میں آنے اور پیش ہونے کے پابند نہیں ہیں انہوں نے بتایا کہ وہ پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک کے قوانین کا بےحد احترام کرتے ہیں تاہم پاکستان کے حوالے سے ان پر کسی قانون کی پابندی کااطلاق نہیں ہوتا۔

روزنامہ جنگ میں صالح ظافر نے لکھاکہ  پرنس حمادکے ان انتہائی قریبی ذرائع سے دو مرتبہ کے رابطے کے بعد جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کی بنیاد پر کہا گیاہے کہ قطر کے اس انتہائی با اثر خاندان کے سربراہ کو اس بات پرشدید دکھ ہے کہ ان کے معاملے کو پاکستان میں غیر ذمہ دارانہ طور پر اچھالا گیا ہے۔پرنس حماد کا کہنا ہے کہ عشروں پر محیط ایک پاکستانی خاندان کے ساتھ ان کے کاروباری تعلق کو کم کر کے نہیں پیش کیا جاسکتا جو قیام پاکستان کے بعد سے کاروباری طورپر بہت فروغ پذیر تھا یہ ان کی کاروباری سلطنت کی وسعت تھی کہ 1972میں اس وقت کی حکومت نے ملک کی بڑی بڑی صنعتوں کے ساتھ ان کے صنعتی کاروبار کو بھی قومیا لیا گیا۔یہ کس قدر افسوسناک امر ہے کہ پاکستان میں ایسے دیانتدار اور عزت دار لوگوں کی قدر افزائی نہیں کی گئی جو اپنی ذہانت اورمحنت سے ترقی کا سفر طے کر کے نہ صرف اپنے لئے بلکہ آسودگی بلکہ بہت بڑی تعداد میں اپنے ہم وطن باشندوں کے لئے روزگاربھی پیدا کرتے ہیں یہی نہیں ان لوگوں نے بیرون ملک بادل نخواستہ کاروبار کیا اور پھر بھی باقاعدگی سےرقوم پاکستان بھیجتے رہے۔ انہوں نے یاد دلایا ہے کہ حسین اورحسن کے دادا میاں محمد شریف مرحوم حد درجہ دیانتدار اور محنتی شخص تھےجن کی کاروباری ذہانت کا بہت چرچا تھا ایسے لوگوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے اور لانے کے لئے قانونی تحفظ فراہم کیا جانا چاہئے بلکہ یہاں اب ماحول بنانا چاہئے کہ جولوگ پاکستان سے باہر جاکر اپنی صلاحیتوں کے بل پر ترقی کرتے ہیں وہ اپنے وطن واپس آکر بے خوفی سے کاروبار کرسکیں۔ پرنس حماد کے خیال میں میاں شریف جیسی شخصیت کے کاروبار کو پاکستان میں تباہ و برباد کیاگیا لیکن وہ کسی بھی مرحلےپر ہمت نہیں ہارے اور قطر کے سابق وزیراعظم نے بتایا کہ شریف فیملی کے نوجوانوں بالخصوص موجودہ کاروبار کو سنبھالنے والے افراد سے ان کے اپنے خاندان کا گہرا ربط و ضبط رہا ہے وہ ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے او رپہچانتے ہیں ان نوجوانوں کی تربیت بھی انتہائی اچھے اسلوب پر ہوتی ہے۔ پرنس حماد بن جاسم الثانی نے واضح کیا ہے کہ کاروباری اخلاقیات کے تحت ہمارے پارٹنر اس امر کے پابند ہوتے ہیں کہ وہ باہمی رضا مندی حاصل کئے بغیر اپنے کاروبار کی تفصیلات ظاہرنہیں کرسکتے۔ ہماری دنیا بھر میں جن افراد اور اداروں کے ساتھ کاروباری حصہ داری ہے وہ اس ضابطے پر عمل پیرا رہتے ہیں۔پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے اپنی قومی اسمبلی کی تقریر میں اس اصول اور ضابطے کااحترام کرتے ہوئے ہمارے ساتھ اپنے خاندان کے کاروباری تعلق کا حوالہ نہیں دیا تھا بعدازاں باہمی رضامندی سے ایسا کرنے کی اجازت دیدی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق قطر کے سابق وزیراعظم پرنس حماد بن جاسم نے پاکستان میں ان کے کاروباری رابطوں کے حوالے سے پھیلائے گئے منفی تاثر پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کی گفتگو کرنے والے اپنے ذہن اور سوچ میں وسعت پیدا کریں اور اس خول سے نکلیں جس میںدوسروںکو برا بھلا کہہ کر سکون حاصل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا خاندان اچھی طرح سوچ سمجھ کر اور چھان پھٹک کے بعد دنیا میں کاروباری لوگوں کے ساتھ تعلق استوار کرتاہے۔اس میں اولیت اس امر کو دی جاتی ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ کاروباری رابطے اور حصہ داری بنائی جائے وہ اچھے خاندانی لوگ ہوں۔ ان کی سوچ صاف ستھری ہو ان کی شرافت اور نیک نامی کا جائزہ لیا جاتا ہے جس کے بعد ہی ان کے ساتھ حصہ داری کو بڑھایا جاتا ہے۔یہ امرلائق تذکرہ ہے کہ قطر کے سابق وزیراعظم اپنے خاندانی حسب نسب کے اعتبار سے خلیجی ریاستوں میں وسیع تعلقات رکھتے ہیں دنیا بھر کے بڑے بڑے شہروں میں ان کی بڑے بڑے کاروباری اداروں میںحصہ داری ہے جن میں ہوٹل، مسافر اور بڑی بڑی عمارات شامل ہیں صرف برطانوی دارالحکومت لندن میں ایک تخمینے کے مطابق سترہ فیصد بڑے کاروباری اداروں ہوٹلز اور عمارتوں میں ان کی حصہ داری پائی جاتی ہے۔ لندن کا شہرہ آفاق ہیر ڈاسٹور بھی پرنس حماد کے خاندان کی ملکیت ہے۔ اس دوران یہ امر قابل تذکر ہ ہے کہ نوازشریف حکومت کے مخالفین تاثر دے رہے تھے کہ قطرکے پرنس اپنی تحریر کے مطابق بیان دینے کے لئے آمادہ نہیں ہوں گے۔ اور وہ جے آئی ٹی سے ملاقات نہیں کریں گے۔ جس کے نتیجے میں زیر بحث مقدمے کا فیصلہ حکومت کے خلاف آجائے گا۔ان کے خیال میں شریف فیملی کا پورا مقدمہ ہی قطر کے پرنس کی گواہی اور بیان پر موقوف ہے جس کی عدم دستیابی شریف خانوادے کے پورے مﺅقف کو زمین بوس کر دے گی اب جبکہ پرنس حماد نے اعلان کردیا ہے کہ ان کی طرف سے پاکستان کی جے آئی ٹی کاخیرمقدم کیاجائے گا۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے قطر کے پرنس اورسابق وزیراعظم کی طرف سے اپنی وہ تحریریں جو عدالت عظمیٰ کے روبروپیش کی گئی تھیں اگر ان کی تصدیق ہوگئی اورپرنس حماد کا بیان مل گیا تو پورے معاملے کارخ شریف فیملی کی حمایت میں مڑ جائے گا۔

مزید : اسلام آباد