’’اوپر والا‘‘ یا ’’اوپر والے‘‘

’’اوپر والا‘‘ یا ’’اوپر والے‘‘
’’اوپر والا‘‘ یا ’’اوپر والے‘‘

  

محترم قارئین! ذرا غور کریں، اُس حکمران خاندان کے پاس نجانے کیسے کیسے ذہانت و فطانت، فہم و دانش اور ترغیب و تحریص کے ’’خزانے‘‘ موجود ہوں گے کہ وہ تضادات سے بھرپور ایک ایسے جمہوری ملک پر تقریباً ایک تہائی صدی تک حکمرانی کرتے رہے،( اور ابھی مزید چانس بھی مل سکتا ہے) جہاں ہر جنم لینے والے بچے کو زندگی کی دوڑ میں ’’کامیابی‘‘ کے حصول کے لئے یبیک وقت کم از کم چار مختلف زبانوں پر عبور حاصل کرنا پڑتا ہو( یعنی مادری، قومی، مذہبی اور بین الاقوامی زبان)۔ جہاں ہر دو تین سو کلو میٹر کے دائرے میں بسنے والی ’’اندھی تقلید پر مائل انسانی مخلوق‘‘ کی زبان، کلچر، رسوم، رواج مختلف ہوں، جہاں نوع بہ نوع مذہبی فرقہ بندیاں، حدود وقیود اور طرزِ معاشرت کا چلن ہو اور جس ملک کی سرحدیں ’’مکار اور عیاد‘‘ دشمنوں کی سرحدوں سے متصل ہوں۔

کوئی نہایت زیرک اور جینٹس رہنما ہی ایک طویل عرصہ تک اُس ملک کے جمہور پر راج کرنے اور کچھ کرگزرنے کی ’’اہلیت‘‘ رکھتا ہوگا، یقین جانئے، اِس ملک کو ایسے ’’رہنما‘‘ نصیب بھی ہوئے جو زندگی بھر چھائے رہتے، مگر ہماری کوئی ازلی بدقسمتی کہ ’’نکال‘‘ دیئے گئے، یہ فتنہ، فساد، کب، کہاں اور کیوں رونما ہوا، یہ سب چھوڑیئے، لیکن ’’اُن‘‘ کی ذہانت و فطانت، ترغیب و تحریص، کرم وستم، فہم و ذکاوت، نوازش و سخاوت، ملامت و عنایت جیسی ’’خصوصیات‘‘ کا اعتراف نہ کرنا تو واقعی ’’بد ذوقی‘‘ ہوگی، جس کی عکاسی کرنے کی ہم نے کوشش کی ہے۔

چلیں ماضی کا ورق الٹتے ہیں، شاید آپ کو یاد ہو( یعنی جو ’’عوام‘‘ ہم جیسے 50+ہیں) کہ آج سے تقریباً چار عشرہ پیشتر اس ملکِ خداداد میں رائج جمہوریت پر ’’بزور‘‘ طاقت اچانک ’’مسلط‘‘ ہونے والے چند ’’مسلح‘‘ صاحبانِ اختیار نے اپنی ’’بادشاہت‘‘ کو (بیرونی دنیا کے اصرار پر) جمہوریت کا روپ دینے کے لئے، جن اصحاب کو عوامی قلوب بدلنے(جو اُس وقت کی رائج جمہوریت سے ’’نہال‘‘ تھے) کے لئے ’’منتخب‘‘ کیا تھا، شاید وہ تو کوئی ’’الوہی زینی‘‘ اشارہ ہی تھا، کیونکہ اُس وقت کے ’’معروضی حالات‘‘ میں اُن سے بہتر شاید کوئی اور ’’چوائس‘‘ ممکن ہی نہ تھا۔

مخالفین کچھ بھی کہہ لیں، مگر یہ حقیقت ہے کہ ہمارے وہ ’’منتخب شدہ مردم شناس اور زودُفہم رہنما‘‘ (اگرچہ پُر تعیش حالات میں تھے) مگر بے شمار ’’آلام و مصائب جھیلتے رہے اور کسی بھی قسم کے کتابی علم سے ناآشنائی کے باوجود، ایک ’’منتشر و منقسم‘‘ معاشرہ کے جمہور کے دلوں میں اپنی ’’بصیرت و تدبر‘‘ کے باعث گھر کرتے چلے گئے، انہوں نے اک نیا ’’طرزِ جمہوریت‘‘ تخلیق کرکے، یہاں کے نوع بہ نوع عوام کی ’’نفسیات‘‘ پر عبور حاصل کیا اور اپنی ’’دانش و حکمت‘‘ کے باعث ملک کے گوشے گوشے میں اپنے پرچم لہرائے، اپنی شخصی کشش اور دل آویز مسکراہٹ میں انہوں نے کچھ ایسا توازن سمو دیا کہ ’’دشمن‘‘ بھی ’’دوست‘‘ کا سا روپ اختیار کرتا گیا۔ ملک بھر کے عوام کی ’’انسانی کمزوریوں، کمیوں، کم ظرفیوں اور بوالعجبیوں‘‘ کا جو ’’ادراک‘‘ اور ’’علاج‘‘ انہوں نے دریافت کیا، وہ تو شاید ماضی کے کسی ’’حکیم الحکما‘‘ کے حصہ میں بھی نہ آیا ہوگا، ان کے لئے جونہی ’’اقتدارِ اعلی‘‘ کے دروازے کھلنا شروع ہوئے، وہ جان گئے کہ ملکِ عزیز کے ہر ’’مخصوص‘‘ علاقہ کے ’’رئیس‘‘ ’’سردار‘‘ ’’چودھری‘‘ اور ’’سائیں‘‘ وغیرہ وہاں کے چھوٹے چھوٹے بادشاہ ہوتے ہیں، جن کی ’’شکر گزار قسم کی سادہ لوح‘‘ عوام کی سوچ فہم اور ضرورت فقط ’’پیٹ‘‘ اور وقتی ’’ڈیٹ، تک محدود ہوتی ہے، لہٰذا انہوں نے اپنے ’’زیرنگیں‘‘ آنے والے ہر سردار، چودھری، رئیس اور سائیں کے ’’پیٹ‘‘ کے مطابق ’’ویٹ‘‘ دینے کا طریقہ اختیار کرلیا، اُن کے درِ دولت پر حاضر ہونے والے ہر سردار، چودھری، سائیں اور رئیس یاخان کی ’’جنیاتی سکیننگ‘‘ کرکے ایسا علاج کیا جاتا کہ وہ عمر بھر کے لئے ’’حلفِ وفاداری‘‘ کے اشٹام پر اپنے انگوٹھے ثبت کرتے جاتے۔

مثال کے طور پر اگر کسی علاقہ کے ’’سردار‘‘ کا ’’داروغہ‘‘ کبھی اپنی ’’من مانی‘‘ کا مرتکب ہو کر اس کی ’’سرداری‘‘ میں دخیل ہونے کی کوشش کرتا، تو آپ فوری طور پر اُسے ’’پسندیدہ داروغہ‘‘ مہیا کردیتے، کسی ’’چودھری‘‘ کی ’’چودھراہٹ‘‘ مال و زر کے باعث ’’خطرے‘‘ میں آجاتی تو آپ اُسے ’’مال و متاع‘‘ کے حصول کے ’’زریں اصول‘‘ عنایت کردیتے۔ یوں وہ سردار، وہ چودھری، اظہارِ تشکر کے طور پر پارٹی فنڈ کے نام پر آپ کی بھی ’’معقول‘‘ خدمت سر انجام دیتے رہے دنیا بھر کے حکمرانوں سے بے تکلفانہ رابطے میں رہ کر اور خاص طور پر مڈل ایسٹ کے ’’بادشاہوں‘‘ کے طرز زندگی سے آگاہی حاصل ہوتے ہی انہیں اپنے ملکی انتظامی ڈھانچے فرسودہ سے محسوس ہونا شروع ہوگئے اور ’’جمہوری نمائندے‘‘ کی بجائے ’’ بادشاہت‘‘ جیسے طرزِ زندگی پر مائل ہونا شروع ہوگئے۔ پھر رفتہ رفتہ وہ جانتے چلے گئے کہ ’’بادشاہت‘‘ قائم رکھنے کے لئے ’’طاقت کے مآخذ‘‘ کو کیسے ’’قابو‘‘ میں رکھا جاسکتا ہے۔ 

قارئین! اُن دنوں کے اخبارات کی فائلیں بھری پڑی ہیں کہ انہوں نے کیسے کیسے ’’ماہرانہ‘‘ انداز میں ’’علاقائی سرداروں وغیرہ کو، ’’سرداری‘‘ کے ’’سرور‘‘ میں ڈبوئے رکھا اور ’’مذہبی طبقات‘‘ کی خوشنودی کی خاطر اُن کی لذتِ کام و دہن کے خصوصی انتظامات کرتے ہوئے اکثر اپنے ’’نازک‘‘ ہاتھوں سے بذات خود انہیں ’’کھانے‘‘ پیش کرتے رہے۔

پھر کبھی ایسا وقت بھی آیا کہ اُن کے سیاسی مخالفین جب حد سے تجاوز کرتے تو اُن کی ’’حزیمت‘‘ کے لئے بھی نئی نئی ایجادات کے موجد بنے، جو قبل ازیں، کسی کے گمان میں بھی نہ آئی ہوں گی۔ اپنی ایسی ہی بے پناہ ’’صلاحیتوں‘‘ کی بدولت انہوں نے ’’پرانی اور فرسودہ جمہوریت‘‘ کا لبادہ کچھ اِس طرح چاک کیا کہ وہ بیچاری خود ہی ’’راہئی عدم‘‘ ہوگئی۔

چونکہ برصغیر سے ’’رخصت شدہ‘‘ بادشاہت کی پرچھائیں، جمہوریت کے ساتھ ساتھ اُن پر اثر انداز ہورہی تھیں، لہٰذا ’’خصوصی انتظامات‘‘ کے تحت (پرانے مروجہ طریقۂ تعیناتی پر لعنت بھیجتے ہوئے) اپنی ’’ جمہوری بادشاہت‘‘ کو دوام عطا کرنے کے لئے نہایت باوفا اور جاں گزار قسم کے ’’کماندار‘‘ ’’ماہر مالیات و سماجیات داروغے، توپچی اور چوبدار وغیرہ تعینات کردیئے۔

یہ بھی اُن کی اپنی ’’دانش و حکمت‘‘ کی کوئی فنکارانہ خوبی سمجھیں کہ ملک عزیز کے بیشتر میڈیا ’’دانشوروں‘‘ کو نہایت محنت سے اپنے رنگ میں رنگتے چلے گئے، جن میں سے کئی ابھی تک مسلسل انہی کے گن گا رہے ہیں اور ’’داد‘‘ پا رہے ہیں۔

مگر ازلی سچائی یہ بھی ہے کہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا، وائے افسوس کہ وقت کی کسی مجہول گھڑی میں ’’نشۂ شہنشاہت‘‘ کے زیر اثر انہوں نے کسی ’’خلائی مخلوق‘‘ یا ’’اوپر والیوں‘‘ سے پنجہ آزمائی شروع کردی، جو ان کے ’’زوال‘‘ کا باعث بنتی چلی گئی۔

اُس ’’خلائی مخلوق‘‘ پر پھر کبھی خامہ فرسائی کی کوشش کریں گے، فی الوقت تو ہم رنج و غم میں مبتلا ہیں کہ ہمارے نہایت مردم شناس اور زیرک رہنما( جو یقیناً اپنی صلاحیتوں کی بنا پر) پوری دنیا پر ’’راج‘‘ کرسکتے تھے، کسی نہایت ’’معمولی‘‘ سے نکتہ پر ’’شکست‘‘ سے دو چار ہورہے ہیں۔

کاش وہ اپنے پرانے ’’نورتنوں‘‘ میں عصر حاضر کے کچھ بالغ نظر دماغ بھی شامل کرلیتے جو انہیں مطلع کرتے رہتے کہ ’’آگہی‘‘ کی اس دنیا میں ’’بادشاہتیں‘‘ زوال پذیر ہو رہی ہیں اور ’’جدید ٹیکنالوجی‘‘ آج نہ صرف دور کسی سمندر میں اٹھنے والا اضطراب ریکارڈ کررہی ہے، کسی خطے میں جنم لینے والی ’’انسانی بے چینی‘‘ کی لہریں پڑھ رہی ہے، دنیا بھر میں ہر آن بدلتے لمحات (معاشیات سے یا مستقبل کی منصوبہ بندی سے متعلق ہوں) کسی بڑے Data Base میں محفوظ کررہی ہے اور کوئی عقابی آنکھ ہر گزرتے پل کا احاطہ کرکے اپنے مستقبل کے نقشے ترتیب دے رہی ہے۔

صد حیف، ایک تہائی صدی تک حکمرانی کرنے والے ہمارے ’’درویش جمہوری شہنشاہ‘‘ اپنے ہی ’’ غیظ و غضب‘‘ کا شکار ہوگئے اور بہت کچھ ’’کرسکنے کی صلاحیتوں‘‘ کے باوجود ’’کچھ نہ کرسکے‘‘۔

شاید وہی ابدی سچائیاں ظہور پذیر ہورہی ہیں، جن کی پیش گوئی ’’آسمانوں‘‘ سے پندرہ صدیاں قبل ہوچکی ہے۔

مزید : رائے /کالم